متعہ کے بارے ميں گفتگو

عنوان :متعہ کے بارے ميں گفتگو
?مضمون :ا?يت اللہ العظمي ناصر مکارم شيرازي (مدظلہ العالي )

متعہ معاشرے کي ايک ناگزيرضرورت ہے.
متعہ کي حقيقت کيا ہے.
متعہ معاشرے کي ناگزير ضرورت کيوں ہے؟
جوانوں کے جنسي مسائل ?
فلسفہ متعہ
ايک اہم نکتہ
متعہ سے پيدا ہونے والي اولاد کا حکم ?
متعہ سے متعلق بحث کا نتيجہ
متعہ معاشرے کي ايک ناگزير ضرورت ہے

اس مقام پر ہم متعہ کے ساتھ ساتھ ان اعتراضات کے جوابات کو جو فلسفئہ متعہ ، اس کے شرائط، حدود ، اور قيود سے ناواقفيت کي بنياد پرپيداہوتے ہيں بيان کريں گے ?اور ا?خر ميں ايک بحث جو ” صيغہ “ کے نام سے يا علمي اصطلاح ميں ”ازدواج موقت “کے نام سے نشر ہوئي تھي جو مذہبي اور حقوقي مسائل ميں صلاحيت نہ رکھنے والے افراد کي دخل اندازي کا ايک نمونہ ہے بحث کريں گے ?
اس مجلے کو شائع کرنے والے افراد بے ربط اور فريب دينے والے موضوعات کو فروغ دينا چاہتے ہيں اور اسلام کے اس قانون کو زہر ا?لودہ بنا کر دوسرے رخ سے پيش کرنا چاہتے ہيں ?
???صرف يہي لوگ قوانين اسلامي سے واقف نہيں ہيں بلکہ بہت سے ايسے لوگ بھي مل جائيں گے جو غلط پروپيگنڈوں اور قانون کے غلط استعمال کے سبب يہ سمجھنے لگے ہيں کہ فحاشي اور متعہ ميں سوائے لفظ کے کوئي فرق نہيں ہے ?
يہاں تک کہ اگر کسي کو” فرزند صيغہ “ يا ” ابن الصيغہ “ کہا جائے تو ناراض ہو جاتا ہے گويا جيسے اس کو ناجائز اولاد يا زنا زادہ کہہ کر خطاب کيا ہو ?اس لئے وہ لوگ يہ نتيجہ نکالتے ہيں کہ فحاشي اور متعہ دونوں پر ايک حکم لگايا جائے اور ممنوع قرار دياجائے ?
اس لئے ہم نے اس بات کو ضروري سمجھا کہ اس مسئلہ کو مختصرطور پرہر قسم کے تعصب سے بري ہوکر واضح کيا جائے اور اس کے مبہم اور الجھے ہوئے نکات کو روشن کيا جائے ، تاکہ اہل سنت اور دوسرے ناواقف افراد اس بات کو اچھي طرح سمجھ جائيں کہ يہ اسلامي قانون ايک مکمل ،ترقي بخش، اور اصلاحي حکم ہے، اگر تمام شرائط اور قيود کے ساتھ صحيح طريقے سے اسکا اجراء ہو جائے توفحاشي اور جنسي کجروي کے خاتمہ کے لئے ايک مہم اور موثر عامل ثابت ہو سکتاہے ?

متعہ کيا ہے؟

متعہ جو عوام ميں صيغہ کے نام سے مشہور ہے ، اسلامي قوانين کے مطابق ايک قسم کي شادي کا معاہدہ ہے اس ميں اور شادي ميں سوائے مدت محدود ہونے کے کوئي فرق نہيں ہے ?
متعہ ميں مرد اور عورت جنکي ا?پس ميں شادي ممکن ہو دونوں ايک دوسرے سے ازدواجي معاہدہ کرتے ہيں اور عقد پڑھتے ہيں،مہر اور مدت کو معين کرتے ہيں اور اس کے بعد جو بچہ ان کے ذريعے وجود ميں ا?تا ہے وہ ايک جائز اور قانوني (حلال زادہ )شمار ہوتا ہے اور کے تمام حقوق اور امتيازات کا مستحق ہوتا ہے ?
متعہ کي مدت تمام ہوجانے کے بعد ، ايک دوسرے سے جدا ہوجائيں اور عورت کو عدت رکھني ہوگي ، يعني معين مدت ختم ہونے سے پہلے کسي دوسرے مرد کے ساتھ متعہ يا (ازدواج دائم )شادي کرنے کا حق نہيں رکھتي ہے ? (عدت کا وقت ان عورتوں کے لئے جن کو ماہواري نہيں ?? دن ہے اور جن عورتوں کو ماہواري ا?تي ہے ان کو دو بار حيض سے پا ک ہونا ہے)
عدت کا فلسفہ ايک بديہي امر تاکہ يہ معلوم ہو جائے کہ پہلے شوہر کا نطفہ عورت کے رحم ميں منعقد ہوا ہے يا نہيں ?اگر نطفہ منعقد ہوا ہے تو اس عدت کے عرصے ميں معلوم ہو جائے گا ? اورنطفہ منعقد ہونے کي صورت ميں ظاہر ہے عورت وضع حمل تک دوسري شادي سے اجتناب کريگي ?
اس لئے کہ اگر عورت مذکورہ مدت تمام ہونے سے پہلے جسميںوہ در حقيقت ( حريم زوجيت ) ميں شمار ہوتي ہے کسي دوسرے سے عقد موقت يا عقد دائم کرے تو يہ عقد باطل اور اس کا عمل ”عفت کے منافي “(زنا) شمار ہوگا ، اور ان تمام مکافات اس کے شامل حال ہوجائيں گے جو اسلام ميں اس جرم کے لئے معين ہيں ?
لہذا شادي کے تمام قيود اور دائمي شادي ميں جو بھي شرائط ايک شريک حيات کے لئے معين ہيں ان سب کا (سوائے مدت کے ) متعہ ميں بھي خيال رکھا جائے گا ?
فقہاء نے اسلامي منابع اور ما?خذ کے مطابق اس بات کي وضاحت کي ہے کہ ان دونوں (شادي اور متعہ ) ميںکسي طرح کا کوئي فرق نہيں پايا جاتا ہے سوائے ايک مورد کے ? اور وہ يہ ہے کہ مسلمان کسي غير مسلم سے شادي( ازدواج دائم ) نہيں کرسکتا، ليکن مسلمان مرد غير مسلم عورت سے جو اہل کتاب ہو(جيسے مسيحي يا يہودي) متعہ کر سکتا ہے ?ليکن حقوقي اثرات کي رو سے ان دو نوں ميں دو فرق پائے جاتے ہيں.
?? متعہ ميں عورت اور مرد ايک دوسرے کي ميراث نہيں لے سکتے ( ليکن ان سے پيدا ہونے والي اولاد دونوں سے ميراث حاصل کريگي )، يہ اس صورت ميں ہے اگر عقد متعہ ميں شرط نہ کريں کہ ايک دوسرے سے ميراث حاصل کريں گے ? ليکن اگر عقد متعہ کے وقت يہ شرط رکھي جائے ايک دوسرے سے ميراث حاصل کريں گے تو پھر ايک دوسرے کے لئے ميراث ثابت ہوجائے گي ?
?? متعہ ميں عورت مرد سے نفقہ کا مطالبہ نہيں کر سکتي ہے ، ليکن اس کو مہر کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ?مگر قابل توجہ نکتہ يہ ہے چونکہ مہر کي کوئي حد معين نہيں ہے اور دوسري طرف اس عقد کي مدت معاہدہ کے مطابق معلوم ہے لہذا عورت مدت کي مقدار کو ديکھتے ہوئے اپنے خرچ کا پہلے سے اندازہ کرکے اسي طرح مہر ميں اضافہ کر سکتي ہے ?اور شايد اسي نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام نے اس بات کا حکم ديا ہے کہ عقد متعہ ميں مہر کا واضح طور پر ذکر کرنا ضروري ہے ?
اس لئے ان دونوں حقوقي مورد (يعني ميراث اور نفقہ ) ميں اس حساب کے مطابق متعہ اور شادي ميں کوئي زيادہ فاصلہ نہيں ہے ? اس لئے کہ دونوں (ميراث اور نفقہ ) قابل تغيير اور اور قرار داد کے مطابق ہوتے ہيں (کہ ميراث کوعقد متعہ ميں شرط لگا کر اورنفقہ کو مہر ميں اضافہ کرکے حاصل کيا جا سکتا ہے )?
اوپردي گئي وضاحت سے يہ بات روشن ہو جاتي ہے کہ کم معلومات والے يا غرض مند افراد ہي يہ بات کہہ سکتے ہيں کہ متعہ ميں عورت ايک کنيزيا تجارتي سامان کي مانند کہ جسے خريدا جاتاہے يا ايک قالين يا ايک لباس کي طرح محسوس ہوتي ہے جسے کرائے پر ليا گيا ہو جو بالکل غير منطقي، غير مناسب اور حقيقت سے دور ہے ?
متعہ کے قوانين نے يہ کب کہا ہے کہ عورت کنيز کي طرح ہو جاتي ہے يا ايک سامان کي مانند بيچي يا کرائے پر دي جاتي ہے؟?کيا” متعہ “دوطرفہ ايک ساتھ زندگي گزارنے کے عقد و پيمان کے علاوہ کوئي اور شئي ہے(جسميں صرف مدت کو معين کيا جاتا ہے)?؟ ا?يا يہ دو طرفہ پيمان يا اس کے تمام معاہدے اور شرائط، حقوقي نقطہ نگاہ سے الگ ہيں ?؟
يہ واقعا نا انصافي ہے کہ کوئي انسان کسي ايسے اہم موضوع کے بارے ميں کہ جو معاشرے ميں ايک بڑے برائي کا مقابلہ کر رہا ہو ( جسکا ذکر ا?گے ا?ئيگا)، نا مناسب فيصلہ کرے اور اس کو غلط طريقے سے پيش کرے ?
کيا متعہ ميں طرفين کي مکمل رضايت اور ا?زادي کے ساتھ بغير کسي زبردستي اور جبر کے دونوں کے درميان عقد نہيں ہوتا ?؟ ا?يا يہ صورت حال کہ متعہ کو ايک قسم کي ”شرعي انسان فروشي“ سے تعبير کرناناواقفيت اور بد نيتي کا نتيجہ نہيں ہے ?؟
ا?يا اگر ہم اس قانون کے دامن کو کہ جس کے صحيح اجراء سے فحاشي کا سد باب کسي حد تک ممکن ہے پکڑليں اور اس رسوائي اورذلت کے بجائے اس کو وہ جگہ ديں، تو کيا يہ عورت کي خدمت اور اس کو غلامي اور قيد سے ا?زاد کرنا شمار نہيں ہوگا ؟
غور طلب نکتہ يہ ہے کہ ہمارے بعض دشمنوں نے ” عورت کو کرائے پر دينے“ کي تعبير پر تکيہ کيا ہے ?ہمارے فقہا نے اس بات کي تصريح کي ہے کہ اگر صيغہ متعہ کو لفظ اجارہ کے ساتھ لايا جائے يعني عورت يہ کہے اجرت نفسي( کہ ميں تمہيں اپنا نفس کرائے پر ديتي ہوں ???)تو قطعا عقد باطل ہے ?لہذا يہ موضوع بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ روح متعہ اور روح اجارہ ايک دوسرے کے ساتھ کاملا تضاد رکھتے ہيں جس کي دليل يہ ہے کہ لفظ اجارہ کے ذريعے سے عقد جاري ہونا قطعا باطل ہے ?سوء استفادہ کو قانون کے ذمہ نہيں ڈالنا چاہيے ?
ليکن يہاں پر ايک اساسي نکتہ پايا جاتا ہے اور وہ يہ ہے : مقام افسوس ہے کہ بہت سے ہوس باز لوگ جو اس قانون اسلامي سے ناواقف ہيں کہ جو ايک فطري حکم اور معاشرے کي بنيادي ضرورت ہے ،جس کے صحيح اجراء سے ( جسکا اشارہ کيا جا چکا ہے اور توضيح ا?گے دي جائے گي )فحاشي جيسي بدبختي کا مقابلہ اور معاشرے کي دوسري برائيوں کا بھي خاتمہ کيا جاسکتا ہے ?انہوں نے بہت سے دوسرے قوانين کي طرح اس قانون سے بھي غلط فايدہ اٹھا ياہے،اور اس کے ذريعے ناپاک نيت کے ساتھ اپني شہواني ہوا و ہوس کو بغير کسي قيد وبند کے پورا کرتے ہيں، يہاں تک کہ ہر قسم کي فحاشي اور ذلت کو اس قانون کي ا?ڑ ميں انجام ديتے ہيں اور حد تو يہ ہے کہ متعہ کے تمام شرائط اور قيود کو اس حد تک نيچے پہنچا ديا ہے کہ جب ايک ہوس باز مرد کسي ا?لودہ عورت کے رو برو ہوتا ہے تو صرف ايک جملہ کہنے سے (اس جملے کے مفہوم اور معاني اور اس کے لازم و ملزوم کي رعايت کے بغير)فحاشي يا تمام تر اس کي ذلتيں جائز بنا ليتے ہيں ?
اس طرح کے ظاہري اعمال اور غلط دستاويز خود غرض لوگوں کے ہاتھوں ميں ا?جانے سے انہوں نے اس مورد ميں اپني خطرناک پروپيگنڈے کو ا?گے بڑھاياہے ?اور يہي سبب ہے کہ متعہ کا نام يا عوام کے بقول” صيغہ“اس قدر نفرت کا شکار ہوا کہ قوانين اسلام سے ناواقف افراد اس کوايک قسم کي انسان فروشي کا اسلامي اور شرعي جواز سمجھنے لگے ?يہاں تک کہ مسلمان مرد اور عورتيں بھي اس کو نفرت کي نگاہ سے ديکھتے ہيں اور اس کو عورت کے لئے ذلت و رسوائي کا سبب سمجھتے ہيں ?
ليکن ہم اظہار افسوس کے ساتھ ايک سوال کرتے ہيں وہ يہ ہے: فرض کريں اگر ايک قاضي اپنے مقام اور اس حفاظت اور نگہباني کے ساتھ جو قانون کے پاس موجود ہے سوء استفادہ کرے اور اس کے ذريعے لوگوں کو( ؟؟؟؟سرکيسہ) اور اپنے شخصي مسائل کو سلجھائے يا اس طرح کے دوسرے کام کرے ، تو کيا اس صورت ميںقضاوت کے مسئلے کوسرے سے ختم کر ديا جائے ياقانون کے سوء استفادہ کرنے پر روک لگائي جائے ؟ يا مثلا ايک لکھنے والااپني جيب کو بھرنے کے لئے اپنے فن تحرير کا سوء استفادہ کرتا ہے اور لوگوں کو فريب اورانکي شہوات کو متحرک کرے اور ہنگامہ کرنے والے جھوٹے موضوعات جعل کرے اور مختلف پارٹيوں کے لئے دلالي کرے ، ا?يا قلم کي ا?زادي ، مطبوعات، لوگوںکے افکار کوبيدار کرنے والي تمام سودمند نشريات کو کلي طور پر مسدود کردياجائے، يا فقط سوء استفادہ کرنے والے قلم کو توڑنا چاہيے؟!
کون سي منطق اور عقل اس بات کي اجازت ديتي ہے کہ قوانين اور سودمند قوانين کو بعض لوگوں کے سوء استفادہ کرنے کي وجہ سے ختم کر ديا جائے ?؟ کيا ايک بے نمازي يا سو بے نمازي کي وجہ سے مسجد کے دروازے کو بند کيا جا سکتاہے ?؟
کون سا ايک قانون يا مورد ہے کہ جسکا سوء استفادہ نہيں ہو ا ؟ سوء استفادہ پر روک لگاني چاہيے يا قوانين کو چکنا چور کر دينا چاہيے ؟ مسلم بات ہے کہ ہر عاقل انسان پہلے راستے کو اختيار کرے گا ?
مختصر يہ ہے کہ يہ ان تمام غلط فہميوں سے قانون اسلامي کي ماہيت اور اس کے مفيد ا?ثار اور نتائج پر کوئي فرق نہيں پڑتا ?لہذا ضروري ہے کہ اس قانون کا اجرا کيا جائے اور سوء استفادہ کا سد باب کيا جائے ?

متعہ ،معاشرے کي ضرورت کيوں ہے؟

يہ ايک عام اور کلي قانون ہے :” اگرانسان کے فطري غرائز کو پورا کرنے ميں مناسب قدم نہ اٹھائے جائيں تو وہ اس کو گمراہي کے راستے کي طرف کھينچ ليتے ہيں ہيں ?اس بنياد پر معاشرے کي اصلاح اور برائي کے حوالے سے دو جملوں ميں فيصلہ کيا جا سکتاہے: اصلاح يعني فطري غرائز کے پوراکرنے ميں راہنمائي کرنا اور جسم و روح کي ضرورتوں کا صحيح طريقے سے سامان مہيہ کرنا ?برئي يعني ہدايت کا فقدان اور ضرورتوںکے پورا کرنے ميں کوئي مناسب اقدام نہ کرنا ?
يہ بات بھي قابل انکارنہيں ہے کہ فطري غرائز کو ختم نہيں کيا جا سکتا ہے ?(اور ختم کرنابھي نہيں چاہيے)?ليکن اس کي روش کو بدلا جا سکتا ہے ?
اس بنا پر معاشرے کے فساد کے خاتمے کے لئے بہترين راہ حل يہي ہے کہ انسان کے فطري غرائز اور اس کے جسم و روح کي ضرورتوں کو صحيح طريقے سے شناخت کريں اور معقول طريقے سے اس کو پورا کيا جائے ?
يہ بات واضح ہے کہ اس معاملے ميں معمولي غلطي کا نتيجہ سوائے مفسدہ اور معاشرتي بحران کے کچھ اور نہيں ہو سکتا ?اگر اس حقيقت کے روشن کرنے کے لئے ہم يہاں ايک مثال پيش کريں تو بہتر ہوگا ?
انسان ايک ہي قسم کي فعاليت ،اور اکتا دينے والي يک سوئي سے اکتا جاتا ہے اور ايک ہي طرح کے کام سے تھک جاتا ہا ہے لہذا اس کو تفريح اور تنوع کي ضرورت ہوتي ہے ?اس لئے کہ تفريح اور تنوع تھکے ہوئے اعصاب کے لئے روغن کاري کا کام کرتے ہيں ،اور پزمردہ روح کے لئے نشاط ا?وري کا ?اس کے بغير انسان کي روح اپنا نشاط کھو ديتي ہے اور ايک اضطراب اور سرکشي کي حالت اس کي جگہ لے ليتي ہے ?
اس لئے تفريح اور سرگرمي کا مسئلہ ايک معاشرے کي ضرورت شمار ہوتا ہے ، جس کي مقدار زندگي کي کارکردگي کے مطابق ہوتي ہے ?
ہاں اگريہ تفريح اور سر گرمي سالم اور شرعي راستے اور فطري ضرورتيں صحيح طريقے سے فراہم نہ ہو توپھر يہ افرادغلط اور گمراہ کرنے والي مصروفيات کي طرف مائل ہو جائيں گے اور اپني ضرورت کو اس راستے سے حاصل کريںگے ?

جوانوں کے جنسي مسائل:

اب ہم اس حقيقت کو ”جنسي غريزہ کے حوالے سے زير بحث لائيں گے ? جنسي غريزہ کے بارے ميں بہت سے ماہر نفسيات کاکہنا ہے کہ يہ انسان کا قوي ترين غريزہ ہے (يا حد اقل قوي اور طاقتور غرائز ميں سے ايک ہے)
بارہابہت سے جوانوں نے اس مسئلے کوہمارے سامنے کتبي صورت ميں کبھي شفہي صورت ميں پيش کياہے ? ان کے خيال کے مطابق اس وقت پاکيزہ جوانوںکے لئے جنسي مسائل کے راہ حل مسدود ہيں ? اور ان مسائل کو حل کر نے ميں وہ ہم سے مدد مانگتے ہيں ?
اس وقت معاشرے ميں جوانوں کے جنسي مشکلات بہت اہم اور غورطلب ہيں ، اس لئے کہ :
ايک طرف اکثر جوانوں کا مالي اعتبار سے قوي نہ ہوناجس پر تقريبا سبھي جوانوں کا اتفاق ہے ?اور مخصوصا نوجوانوں کا حال کمرتوڑدينے والے اخراجات کے مقابلے ميں، اور اس سے زيادہ سخت تعليم کوجاري رکھنے کا موضوع کہ جس ميں تقريبا ?? سے ?? سال لگتے ہيں ?اور يہ ہي وہ وقت ہے جب جنسي غريزہ طغياني کے عالم ميں ہوتا ہے ، اور اس وقت حالات ان کو شادي کي اجازت نہيں ديتے ?
اور ددسري جانب ”
مطلق پارسائي “ اس غريزہ سے چشم پوشي کرليتي ہے،يہ غريزہ نہايت ہي طاقتور اور سرکش ہوتاہے اور افسوس کامقام يہ ہے اس دور کے تحريک ا?ميز مناظر اس ميں مزيد شدت پيدا کر ديتے ہيں،لہذاس کا مقابلہ بہت سخت اور بعض لوگوں کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے ?
اب سوال يہ ہے کہ کيا کرنا چاہيے ؟ اگرچہ بے ہودہ اور بے لگام افراد فحاشي کے اڈوں پر جاکراپنے گمان ميں اس کواپني مشکل کا حل سمجھتے ہيں ?ليکن ہميں ديکھنا يہ ہے کہ پاک دامن جوانوں کے لئے کيا راہ حل ہے؟
يہ مشکل يونيورسٹي کے طلبہ کے لئے زيادہ اہم ہے کہ جو دکھاوے کے لئے دوسرے ملک جاتے ہيں ، اس لئے کہ تنہائي ، عزيز و رشتہ داروں سے دوري اور لڑکے لڑکيوں کے ساتھ معاشرت کي ا?زادي جيسا کہ مغربي اور امريکي ممالک ميں پائي جاتي ہے، اور اعلي تعليم کے لئے طويل مدت کا درکار ہونااس مسئلہ کو مزيد پيچيدہ بنا ديتا ہے ?اور شادي شدہ افراد بھي اس دور سے گذرتے ہيں کہ زندگي کي ضروريات کي خاطر ان کو کئي مہينوں يا اس سے بھي زيادہ عرصہ کے لئے تجارت يا کسي دوسرے کام کي خاطر باہر جانا پڑتا ہے، اور مہينوں بيوي بچوں سے دور رہنا پڑتا ہے ?اگرچہ معاشرتي ضرور تيں تنہا اسي ميں منحصر نہيں ہيں،بلکہ دوسرے اور بہت سے موارد ہيں جن ميں اس کي ضرورت پيش ا?تي ہے ?

اس مشکل کا راہ حل کيا ہے؟

يہ ايک ايسي حقيقت ہے کہ جس کي ضرورت معاشرے ميں ہميشہ محسوس ہوتي رہي ہے،اور ہمارے اس دور ميں اس کي ضرورت شديد ہو گئي ہے اوراس نے جوانوں کو گھير ليا ہے ?
ا?يا ان حقائق سے چشم پوشي کرکے انہيں فراموش کيا جا سکتا ہے ؟ اوپر ديئے گئے جوابات اور ان جہات سے درگزر کرسکتے ہيں اور حقائق سے ا?نکھ چرا سکتے ہيں؟
جو لوگ ا?نکھ کان بند کرکے يہ کہتے ہيں کہ ” متعہ ايک قسم کي جائز اور شرعي انسان فروشي ہے اور عورت کے مرتبہ کو پست کرديتي ہے“ وہ ہميں بتائيں کہ ان جوانوں کو ہم کيا جواب ديں ؟کيا ايسے لوگوںنے اپني پوري زندگي ميں کبھي جوانوں کي جنسي مشکلات کو سلجھانے کے بارے ميں سوچا ہے ?؟
کيا ان جوانوںکو جواني کے عالم ميں پارسائي اور جنسي امور سے چشم پوشي کي دعوت دي جا سکتي ہے ؟ البتہ ہم اس کا انکار نہيں کرتے اس لئے کہ ممکن ہے کام کچھ جوانوں کے لئے جو زيادہ توانائي اور نفس پر تسلط رکھتے ہيں وہ اس راستے کو اختيار کرليں، ليکن کيا يہ تمام جوانوں کے لئے ممکن ہے؟قطعانہيں ?اپنے دل سے بتائيے کہ متعہ کے بارے ميں جو اعتراض کرتے ہو، تم نے اپنے جواني کے ايام کس طرح گزارے ؟ يا اگر غير شادي شدہ جوان ہو تو کيا کرتے ہو ?؟ ہم تم سے يہ نہيں کہتے کہ اس سوال کے جواب کو سب کے لئے لکھو ، بلکہ خود اپنے نفس کو اس کا جواب دو ?کيا اس طرز تفکر کے ساتھ تم جوانوں کے لئے” سوائے ان کو فساد کے مراکز تک لے جانے کے“ راہ حل پيدا کر سکتے ہو? اگر تمہارے پاس کوئي راہ حل ہے تو پھربتائيے کيوں نہيں کرتے ؟
ا?يا فحاشي اور عورت کا خود کو فروش کرنا اور تمہارے بدنام مراکز کي رسوائي ( لفظ تمہارے اس لئے کہہ رہے ہيں کہ يہ غلط افکار تمہارے بنائے ہوئے ہيں )کيا عورت کي شخصيت کا احترام ہے؟
?ا?يا دنيا کے بہت سے شہروں ميں فساد کے مراکز کا ايجاد کرنا ( ظاہري طور پر يا مخفي طور پر)عورتوں کي کنيزي کے خاتمہ کا سبب يا ا?دم فروشي کے جواز کو ختم کرتا ہے؟
يہ ياد رہے کہ يہ تمام برائي کے مراکز اور ذلت ورسوائي کہ جس ميں ا?ج کا معاشرہ ا?لودہ ہے تمہاري اور تم جيسے افراد کي جنايتوں کا نتيجہ ہے کہ جنہوں نے معاشرے کي اس مشکل کے لئے صحيح راہ حل کے بجائے گمراہي کي نشاندہي کي ہے ?!
ا?يا تم نے متعہ (ان تمام شرائط کے ساتھ جسکي اسلام نے وضاحت کي ہے جسکي طرف پہلے اشارہ کيا جا چکا ہے)کي مخالفت کر کے کہ جسے تم يہ کہتے ہو” کہ لا پروا اور ا?زاد قسم کے لوگ اس پر عمل کرتے ہيں“فحاشي کا کھلے عام اعلان نہيں کيا ؟
کبھي يہ کہا جاتا ہے کہ متعہ کو ہمارے ملک کے مدني قانون سے نکال ديا جائے ؛ اس لئے کہ يہ” حقوق انساني کے منشور“ کے ساتھ مناسب نہيں ہے! ليکن ہم يہ کہتے ہيں کہ يہ چہز جس کا نام منشور حقوق بشر رکھا گيا ہے، جس کي ايک مثال نسل پرستي کا خاتمہ ہے، دنيا کے متمدن ممالک ميں اس پر ا?ج تک عمل نہيں ہو سکا ، اس منشورميں يہ کہاں لکھا ہے کہ متعہ ممنوع اور فحشاء ا?زاد ہے ؟ خدا کے واسطے اس طرح کے منشور جسے تم نے مٹنے کے بعد دوبارہ زندہ کيا ہے اس سے پوچھيں کہ جوانوں کے جنسي مسائل کيسے حل کئے جا سکتے ہيں ؟ کيا وہ بھي تمہاري طرح منفي پروپيگنڈہ کرتا ہے؟
ا?يا يہ بہتر نہيں ہے کہ کہ ا?زادي اور ناجائز تعلقات کے بجائے، جوافراد ايک دوسرے سے رابطہ پيدا کرنا چاہتے ہيں وہ متعہ کا ايک محدود او ر وقتي رشتہ پيدا کرليں اور اس کے تمام شرائط کي رعايت کرتے ہوئے بالکل اسي طرح جيسے ايک شادي شدہ شوہر اور بيوي ايک دوسرے سے مربوط ہوتے ہيں مرتبط ہو جائيں، اور ايک فضا ميں صحيح زندگي بسر کريں، اور اگر نصيب سے کوئي اولاد وجود ميں ا?جائے تو وہ ان سے متعلق رہے ?انصاف سے بتائيے کہ اس عاقلانہ اور عادلانہ قانون ميں کون سي برائي پائي جاتي ہے؟!

متعہ کا فلسفہ:

مذکورہ بالا بيان سے متعہ کا فلسفہ اچھي طرح روشن ہو جاتا ہے ?اسلام نے جنسي مشکلات کے حل کے لئے (خصوصا جوانوں کے لئے )

اور ان تمام افراد کے لئے جو کسي وجہ سے شادي نہيں کرسکتے ہيں راہ حل کي نشان دہي کي ہے اور ان کو پيش کش کي ہے :
اس طرح کي صورت حال ميں اگر کوئي مرد و عورت ايک دوسرے وابستگي پيدا کرناچاہتے ہيں تو بغير اس کے کہ سنگين ذمہ داريوں کو تحمل کريں يعني شادي کريں ، محدود مدت کے لئے متعہ کا رشتہ بر قرار کر سکتے ہيں ، اور اس رشتہ کو بعينہ شادي کے رشتہ کي مانند محترم شمار کريں ?اور عورت” حريم زوجيت “کو مدت کے ختم ہونے کے بعد عدت(حد اقل ?? دن يا دو بار ماہواري سے فارغ ہونے تک) کي تکميل کي رعايت کرے ?
يہ بديہي امر ہے کہ انسان کے لئے متعہ کي ذمہداري شادي کي طرح سنگين نہيں ہے اس ميں طرفين اس کے سہل اور ا?سان شرائط کي رعايت کرتے ہوئے اس عمل کو انجام دے سکتے ہيں ?
اس لئے کہ متعہ ميں شخص زندگي بھر کے لئے شريک حيات نہيں ہوتا ہے کہ عورت و مردايک دوسرے کے انتخاب ميں مشکل سے فيصلہ کريں ?اور دوسرے بات يہ کہ اس ميں نفقہ شرعي طور پر نہيں پايا جاتا ہے صرف مہر ہوتا ہے جس کي مقدار طرفين کو معين کرتے ہيں

 ( جيسا کہ پہلے اس کے بارے ميں پہلے اشارہ کيا جا چکا ہے)
اس کے علاوہ متعہ ميں طلاق کادرد سر يا کشمکش نہيں ہے (اگر فرضا ا?پس ميں ہم ا?ہنگي نہيں ہو پاتي ) متعہ کي مدت ختم ہونے پر رشتہ تمام ہو جائے گا ? يہاں تک کہ مرد باقي بچي ہوئي مدت عورت کو بخش کر اپنے حق سے صرف نظر کر سکتا ہے اور اس سے جدا ہو سکتا ہے ?اور طرفين کي رغبت کي ساتھ ا?ساني سے (تجديد عقد کے ذريعے )مدت کو بڑھايا جا سکتاہے ?
اس مقام پر يہ کہا جا سکتا ہے :
متعہ ايک ايساموثر اسلحہ ہے کہ جس کے ذريعے فحاشي اور دوسرے جنسي انحرافات سے مقابلہ کيا جا سکتاہے ?اور جوانوں کي ايک بڑي اہم جنسي مشکل کا راہ حل بن سکتاہے ، اور معاشرے ميں اس راہ سے انے والے بہت سے مفاسد جس سے چھوٹے بڑے سب دوچار ہوتے ہيں ختم کيا جاسکتا ہے ?
متعہ کے صيغے کا اجراء شادي کے صيغے کے مانندہے ،اور اس کے تمام اسلامي دستورات نہايت ہي ا?سان اور سادہ ہيں ? اور سبھي توضيح المسائل ميں اس کو لکھا گيا ہے ?البتہ اس بات پر توجہ رہني چاہيے کہ يہي ا?سان امر اس دستخط جيسا ہے جو کسي قيمتي ستاويز پر کيا جاتا ہے لہذا اس دستخط کو بعد ان قوانين کي پابندي کرنا ضروري ہے ?

دوسرا اہم نکتہ :

يہاں پر ايک اساسي نکتہ ہے جس کو دقت کے ساتھ سمجھنا ہوگا اور وہ يہ ہے : يہ نظام اس صورت ميں مثبت نتيجہ دے سکتا ہے ، کہ جب اس کو صحيح طريقے سے اجرا کيا جائے اور شادي کي طرح اس کا بھي ايک خاص نظام ہو، اور نظم و ضبط کے سائے ميں بر قرار ہو ?يعني موجودہ شرائط کے مطابق مرد و عورت کے کوائف وتفصيلات شادي کے مخصوص دفتر ميں مندرج ہوں، اور متعہ کا عقد نامہ تيار کيا جائے يا کوئي دوسرا طريقہ جو قابل اطمئنان ہو اختيار کيا جائے ? کہ عورت کے لئے عدت کا وقت تمام ہونے سے قبل دوسرا متعہ يا شادي نہ ہو سکے ، اور اس کے ذريعے بڑي مقدارميںقانون کے سوء استفادہ کو ختم کيا جا سکتا ہے ?
ضروري ہے کہ اس موضوع کي نظارت کے لئے ايک ادارہ تشکيل دياجائے ،اوريہ ادارہ نظارت کے ساتھ ساتھ اس مہم مسئلہ کے بارے ميں فريقين کو ضروري تعليمات بھي فراہم کرے ، اور ان کو يہ بھي سمجھائے کہ متعہ کے اجراء کے بعد معين مدت تک ايک دوسرے کے شريک رہيں گے ، ايک دوسرے سے رشتہ برقرار رکھيں گے اور ايک مشترک زندگي کے تمام اصولوں کا احترام کريں گے ?
يقينا اگر اس مسئلہ کو اوپر بيان کئے گئے بيان کے مطابق عملي جامہ پہنا ديا جائے تو فحاشي فقط ا?زاد، لاپرواہ اور بے لگام افرادکي حد تک محدود ہو جائيگي ? اور يہ بعينہ ايک حديث کا مضمون ہے جس کو اس کتاب ميں نکاح کي بحث ميں امير المومنين عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے ?
ان شرائط کے ساتھ عورت حقارت اور رسوائي کے احساس سے بھي محفوظ ہو جاتي ہے ، نہ مرد اپنے اپ کو عورت کا مالک اور خريدار سمجھتا ہے ?اور نہ ہي يہ عمل معاشرے ميں ذلت ا?ميز تصور کيا جائيگا،اور نہ ہي شريف افراد اس سے نفرت کا اظہار کريں گے ?بلکہ شادي کي طرح ايک عادي اور مناسب امر کي طرح اس کا خير مقدم کيا جائيگا ?
ا?يا يہ عظيم حکم ” ايک قسم کا شرعي اور جائز ا?دم فروشي “ ہے ؟ کيوں بغيرمعلومات اور تحقيق کے اس مہم مسئلہ کے بارے ميں فيصلے کئے جاتے ہيں اور ناواقف افراد کو گمراہ کيا جاتا ہے ?؟

متعہ کي اولاد:

صرف ايک سوال اس مقام پر باقي رہ جاتا ہے ،جس پر بہت زيادہ ہنگامہ کيا جاتا ہے، اس وجہ متعہ کے احکام کے بارے ميں بے توجہي ہے ،اور غير مطلع افراد يہ سمجھتے ہيں کہ يہ اس موضوع کا ايک ضعيف پہلو ہے جبکہ معمولي سے معمولي اشکال بھي اس موضوع ميں نہيںپايا جاتا، اور وہ يہ ہے کہ :
جو اولاد متعہ کے سبب پيدا ہوتي ہيں ان کا کيا حکم ہے؟، ا?يا متعہ کي اولاد ناجائز اولاد ہيں؟ ان کے مستقبل کا کيا ہوگا ؟
ميں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب اگر گزشتہ مطالب پر توجہ کي جائے تو بالکل واضح ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو اولاد متعہ کا ثمرہ ہيں وہ شادي کے سبب پيدا ہونے والي اولاد سے کسي بھي جہت سے مختلف نہيں ہيں ?ان کو وہ تمام شرعي اور قانوني حيثيت حاصل ہے جو دوسري اولاد کو حاصل ہوتي ہيں ?
اور خاص طور پر اگر عورت اور مرد کے کوائف و حالات وغيرہ کو مخصوص دفتر ميں ثبت و ضبط کيا جائے اور عقد نامہ وغيرہ کو تشکيل ديا جائے تو پھر کوئي پريشاني ان بچوں کو پيش نہيں ا?ئے گي ?
ہميں تعجب اس بات کا ہے کہ ناجائز تعلقات کي بنياد پر پيدا ہونے والے ناجائز بچوں کي بڑي تعداد جو ا?ج کے معاشرے ميں پائي جاتي ہے

 ( خصوصا مغربي اور امريکي ممالک ميں پختہ ثبوت کے ساتھ يہ موضوع ايک رسوائي کي صورت ميں سامنے ا?يا ہے) اس نے لکھنے والوں کو پريشان نہيں کيا گويا يہ لوگ ان کو نا معلوم اور سرگرداں نہيں سمجھتے ہيں، ليکن متعہ سے پيدا ہونے والے بچوں کے بارے ميں وہ پريشان ہو جاتے ہيں،جن کي ہر چيز واضح ہے ماں باپ ،انکے نکاح کے شرائط، ا?خر کار ان کي ہر چيز معلوم ہے اور وہ ايک پاک نطفہ اور پاکيزہ رحم سے پيدا ہوئے ہيں ؟
يہ بات بھي قابل بيان ہے کہ اگر طرفين بچہ کے خواہش مند نہ ہوں تو اسلام ميں اس کي کو ئي ممانعت نہيں ہے يا کسي اور ذريعے سے نطفہ منعقد ہونے پر روک لگائي جا سکتي ہے ?
ليکن اس بات کا خيال رہے کہ نطفہ کے انعقاد کے بعد بچے کا اسقاط کرنا ” حتي اگر نطفہ ايک دن ہي کا کيوں نہ ہو “ کسي بھي صورت ميں جائز نہيں ہے اور اسلامي قوانين کي نظر ميں اس کے لئے سخت سزا معين کي گئي ہے ، جو جنين کے حالات کے ساتھ بدلتي ہے ?

وقتي شادي ( مسيار)

دلچسپ بات يہ ہے کہ متعہ کا انکار کرنے والے افراد (يعني اکثر اہل سنت )جس وقت جوانوں اپنے کے اور دوسرے افراد کي جنسي مشکلات کا مشاہدہ کرنے اور ان کے تلاش کرتے اور ان کے تلاش ميں نا کام ہوتے ہيں تو پھر ا?ہستہ ا?ہستہ ايک قسم کي شادي ”متعہ کے مانند“کوماننے پر تيار ہو جاتے ہيں جس کو وہ ”مسيار“ کا نام ديتے ہيں اگرچہ وہ اس کو متعہ کا نام نہيں ديتے ، ليکن عمل کے حوالے سے اس ميں اور متعہ ميں کوئي فرق نہيں ہے،وہ اس کي طريقے سے اس (مسيار ) کي اجازت ديتے ہيں کہ شادي کا ضررورت مند کسي عورت سے (دائمي) شادي کرے( جبکہ وہ اس بات کا قصد پہلے سے کئے ہوئے ہے کہ کچھ مدت کے بعد اس کو طلاق دے دے گا )اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس سے نفقہ ، رات گزارنے ،اور ارث کا مطالبہ نہيں کريگي ، يعني بالکل متعہ کي مانند سوائے ايک فرق کے ساتھ کہ اس ميں طلاق کے ذريعے ايک دوسرے سے جدا ہوتے ہيں اورمتعہ ميں مدت کے تمام ہوجانے پر يا اس کے بخش دينے پر، يعني ا?غاز ميں دونوں کي نظر ميں مدت معين تھي ?
اس سے زيادہ دلچسپ بات يہ ہے کہ بعض اہل سنت کے جوان جو شادي کي مشکلات ميں گرفتار اور پريشان تھے ، انہوں نے انٹرنيٹ کے ذريعے ہم سے رابطہ کيا اور کہا کہ ہم متعہ کے مسئلہ ميں شيعوں کي پيروي کرنا چاہتے ہيں کيا پيروي کرنے ميں کوئي مانع تو نہيں ہے؟

 ہم نے کہا کہ نہيں کوئي مانع نہيں ہے ?!
يہ لوگ متعہ کا انکار کرتے ہيں ، ليکن”
نکاح مسيار “کو قبول کرتے ہيں ،در حقيقت نام کو قبول نہيں کرتے مسمي کو قبول کرتے ہيں ?جي ہاں ضرورت انسان کو حقيقت قبول کرنے پر مجبور کرتي ہے،ہرچند انسان اس کا نام زبان پر نہ لائے ?
اس کا نتيجہ يہ نکلتا ہے ، کہ جو لوگ متعہ کي مخالفت پر اڑے ہوئے ، وہ جانے ان جانے ميں فحاشي کا راستہ ہموار کر رہے ہيں ،مگر يہ کہ وہ متعہ کي مانند يعني نکاح مسيار کي پيش کش کريں ? اسي وجہ سے اہل بيت سے مروي روايات ميں بيان ہو ا ہے کہ ” اگر متعہ کي مخالفت نہ ہوتي تو کوئي بھي زنا سے ا?لودہ نہ ہوتا“
اسي طرح جن لوگوں نے متعہ سے سوء استفادہ کيا ہے ?کہ جوواقعا ضرورت مند افراد اور محروم افراد کے لئے جائز کيا گيا تھا، اور انہوں نے اس کے چہرے کو بدنما بنا کرپيش کيا اور اس کو اپني ہوس کے پورا کرنے کا وسيلہ بناليا ، ان افراد نے بھي اسلامي معاشرے کے لئے زنا کا راستہ ہموار کيا ہے ، اور اس ميں ا?لودہ ہونے والے افراد کے گناہ ميں شريک ہيں ? اس لئے کہ يہ افراد اس کے صحيح استعمال کرنے ميں عملي طور پر رکاوٹ بنے رہے ?
بہر حال اسلام ايک الہي دستور العمل ہے اور ہميشہ انساني فطر ت کے ساتھ رہتا ہے ? اورجس نے انسان کي تمام واقعي ضرورتوں کي پہلے سے پيشين گوئي کي ہے، اس کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ اس نے وقتي شادي کا ذکر اپنے دستورات ميں نہ کيا ہو اور جيسا کہ ا?گے ذکر کيا ہوگا کہ وقتي شادي کا ذکر قرا?ن مجيد ميں بھي ہے اور احاديث نبوي (ص) ميں بھي اور صحابہ نے بھي اس پر عمل پر کيا ہے ? البتہ بعض افراد اس حکم کے منسوخ ہونے کے قائل ہيں اگر چہ اس بارے ميں ان کے پاس محکم دلايل موجود نہيں ہيں ?

”متعہ“ کے سلسلے ميں بحث کا نتيجہ

اب تک جو بحث متعہ کے بارے ميں کي گئي اس کا نتيجہ يہ نکلتا ہے:
نکاح، ايک ايسارابطہ ہے جو مرد وعورت کے درميان مختلف حقوقي اثرات کے ساتھ بر قرار ہوتا ہے ?شادي ميں عقد کي ضرورت ہوتي ہے جو انجاب و قبول کے ذريعے اپنے خاص شرائط کے ذريعے انجام پاتا ہے ?
اگرنکاح ” مدت“کے اعتبار سے بغير کسي قيد اورمحدوديت کے انجام پائے تو وہ ”شادي“ کي صورت اختيار کر ليتا ہے ، کہ جو ہميشہ کے لئے باقي رہے گي ،مگريہ کہ طلاق يا اس کے مانند کے کسي چيز کے ذريعے اس کے رابطہ کو منقطع کر ديا جائے ?
ليکن اگر مدت کے اعتبار سے اس کو ايک دن ، ايک مہينہ ايک سال يا زيادہ سے مقيد کرديا جائے تو اس کو متعہ کا نام ديا جاتا ہے ?ليکن نکاح کے معني اور شريک حيات کے حوالے سے ان دونوں (شادي اور متعہ ) ميں کوئي فرق نہيں ہے ?تنہا مدت کے حولے سے فرق پايا جاتا ہے ?
يہ دونوں احکام کے حوالے سے اکثر موارد ميں مشتر ک ہيں ، صرف مدت کي قيد ميں ايک دوسرے سے الگ ہيں ،ليکن يہ فرق اصولي اور جوہري فرق نہيں ہے ? بلکہ ايک صنف کي ايک نوع کے مانند ہے جيسے نسل کے اعتبار سے سفيد اور کالے کا فرق کہ جس ميں کلمہ اور حقيقت کي وحدت کا خيال رکھا گيا ہو?اور يہ اختلاف کي کيفيت فقط عقد نکاح اور دو انسانوں کا ايک دوسرے کا شريک حيات ہونے، ميں منحصر نہيں ہے بلکہ اس کي بہت سي مثاليں معاملات اور مالکيت کے موارد جس ميں واسطہ کے ذريعے خريد و فروخت عمل ميں ا?تي ہے“ پائي جاتي ہيں ?مثلا کبھي انسان کوئي معاملہ بغير قيد اور شرط کے انجام ديتا ہے لہذا اس طرح کے معاملے ميں جو ا?ثار مترتب ہوتے ہيں وہ دائمي اور ہميشگي مالکيت کے ہوتے ہيں ?

متعہ کے بارے ميں گفتگو

?مگر يہ کہ بعد ميں کسي اختياري چيز کے ذريعے جيسے دوبارہ خريد و فروش ،ہبہ اور صلحہ سے ياغير اختياري چيز کے ذريعے جيسے نقصان ، اور موت ہو جانے کي صورت ميں يہ مالکيت زائل ہو جاتي ہے ?اور کبھي کبھي شروع ہي سے ملکيت کو محدود وقت کے ساتھ خاص کر ديا جائے جيسے فسخ اور انفساخ کي شرط معاملے ميں لگا دي جائے ? يہ بات بديہي ہے کہ ملکيت کي عمر کا معين ہونا يا کم ہونا اسي عقد کے مطابق ہوگي جو اس ميں معين کي گئي ہے،( يعني قہري فسخ اور انفساخ کے وقت تک )بہر حال يہ وہ مطالب ہيںجن ميں عقل اور شريعت دونوںکا اتفاق ہے ?
اب ہم دانشمند افراد ، علماء اسلام ، اورصاحبان قلم سے يہ سوال کر سکتے ہيں کہ متعہ کے بارے ميں ( جو شادي کي ايک قسم ہے)يہ ہنگامہ کس بات کا ہے ؟ ا?يايہ موضوع واقعا سر زنش کا مستحق ہے کہ تم ہميشہ شيعوں پر اس کے حوالے سے مسلسل حملے کرتے ہو اور ان کي مذمت کرتے ہو? ؟
کيا يہ مختصر اور موجز بحث کافي نہيں ہے جو تم کو مسلمانوں ميں دشمني کي ا?گ کو بھڑکانے سے باز رکھ سکے اور حق کے سامنے اطاعت اور تسليم کا تقاضاکرے؟
ميں حق کي عزت اور شرافت کي قسم کھا کر يہ کہتا ہوں کہ ميں نے جو کچھ بھي اس مقام پر کہا ہے وہ سوائے حق کي حمايت کے کچھ نہيں ہے، اگر کہيں تنقيد بھي کي ہے تو وہ تنہا باطل کے لئے ہے،ہم ہميشہ خدا پر تکيہ کرتے ہيں ، ا?خر کا ر ہم سب کو اس کي بارگاہ ميں جانا ہے ?
شيعوں کے نقطہ نگاہ سے شادي کي اس بحث کو ہم اسي پر قناعت کرتے ہيں?البتہ نکاح کے احکام، اولاد ، نفقہ ، عدت کي قسميں،اور اس کے مانند دوسري بحثوں کے بارے ميں زيادہ مطالعہ کے لئے شيعوں کے گراں قدر دانشمندحضرات کي فقہي کتابوں کي طرف رجوع کيا جا سکتا ہے ?
اس بارے ميں خوش قسمتي سے بہت سي کتابي موجودہيں بعض اس حد تک مختصر ہيں،کہ اختصار کے ساتھ تمام فقہي ابواب ،طہارت سے حدود اور ديات تک تمام مطالب کو شامل ہيں?اسي کے مقابلے ميں بعض ددسري کتابيں اس قدر شرح کے ساتھ موجود ہيں جن ميں تنہا فقہ کے ابواب کو بيس جلدوں ميں پيش کيا ہے(جس ميں ہر جلد صحيح بخاري اور صحيح مسلم کے برابر ہے)جيسے کتاب ”
جواھر“اور ”حدائق“اور دونوں کے درميان متوسط کتابيں بھي اس قدر موجود ہيں جو شمار ميں نہيں ا?سکتي ہيں ?
?? اس قسم کے اقدامات اس لئے عاقالانہ نہيں ہيں کہ يہ قانون خلقت کا مقابلہ کرنا ہے ?
?? امام صادق (عليہ السلام ) کا قول ہے”
لولا ما نھي عمر عنھاما زني الا شقي“ ترجمہ: اگر عمر اس امر سے منع نہ کرتا تو سوائے شقي کے کوئي زنا کا ارتکاب نہ کرتا?(وسائل الشيعہ جلد ??) اہل سنت کي بہت سي کتابوں ميں يہ حديث تفصيل سے بيان کي گئي ہے ? قال علي

(عليہ السلام ) ” لو لا ان عمر نہي عن المتعہ ما زني الا شقي“ ترجمہ: اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتا تو سوائے شقي انسان کے کوئي اس کا مرتکب نہ ہوتا? (تفسيرطبري، جلد ? صفحہ ???؛ تفسير در منثور ، جلد ?، صفحہ ??? ، و تفسير قرطبي ، جلد ? صفحہ ???)
?? ”
شرط انفساخ“ ايک قسم کا ” شرط نتيجہ“ ہے جو معروف فقہ ميں اس معني ميں پايا جاتا ہے کہ دو شخص ايک معاملہ کو کسي شرط کے ساتھ منعقد کريں اور کوئي واقعہ پيش ا?جائے يا دونوں ميں کوئي ايک کسي کام کو انجام دے تو معاملہ بغير اس کے کہ فسخ کا صيغہ اجراء کياجائے خود بخود فسخ ہو جاتا ہے ?
??جو اسلامي علوم منز ل کمال تک پہنچ چکے ہيں ان ميں سے ايک علم فقہ ہے ، يہ بات سچ کہ اس زمانے ميں وسعت اور نظم و دقت کے اعتبار سے شيعوں کي فقہ بے نظير ہے،جب تک کوئي اس کو نزديک سے نہيں ديکھتا يقين نہيں کرتا?بہت سے مشکل اور پيچيدہ مسائل يہاں تک کہ فقہي نادر فروعات کو بھي شيعوں کي مفصل فقہي کتابوں ميں مکمل طور پر زير بحث لايا گيا ہے ?حتي فروعات اور نئے مسائل

 ( وہ مسائل جو ہمارے زمانے ميں پائے جاتے ہيں)جن سے انسان دو چار ہوتا ہے ، بيمہ ، ايڈوانس مني ، مختلف کمپنيز،حق طبع وغير پر بھي مستقل کتابيں تاليف ہوئي ہيں? اورشيعہ اس کاميابي کے پس منظر ميں پہلے مرحلے ميں اہل بيت (عليھم اسلام ) کے مديون ہيں جنہوں نے شيعوں کے لئے باب اجتہاد مسدود نہيں کيا ، اور اپني روايات اور احاديث کے ذريعے مسلسل ھدايت کرتے رہے ?

فقہي الفاظ اور اصطلاحات کے معني

عنوان : فقہي الفاظ اور اصطلاحات کے معني

محقق :  حجة الاسلام وحيد عليان نژاد

مترجم  :  سيد حسين حيدر زيدي

 

فہرست (الف)

آب جاري : بہتا ہوا پاني جيسے چشمہ کا پاني جو زمين سے پھوٹ کر نکلے ،نہروں کا پاني جو پہاڑوں کے اوپر سے جاري ہے، شہري نل (ٹنکي) کا پاني، اس غسل خانہ کا پاني جو ٹينک کے پاني سے متصل ہے وہ بھي جاري پاني کا حکم رکھتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ ٹينک کا خالص پاني يا جو پاني پائپوں ميں موجود ہے اس کے ساتھ ايک کر سے کم نہ ہو ?
آب قليل : اس پاني کو کہتے ہيں جو کر سے کم ہو اور زمين سے پھوٹ کر بھي نہ نکل رہا ہو ?
آب کر : احتياط واجب کي بناء پرکر پاني اس مقدار کو کہتے ہيں کہ اگر ايسابرتن ہو جو ساڑھے تين بالشت لمباساڑھے تين بالشت گہراساڑھے تين بالشت چوڑاہو اوراس کوپاني سے بھردياجائے تووہ پاني کربھر ہوگا ?يا اس کاوزن تين سوچوراسي کيلوگرام ہو ?اور بالشت ميں متوسط لوگوں کي بالشت معيار ہے ?
آب مضاف: وہ ہے جسے تنہاپاني نہ کہہ سکيں (بلکہ اسے کسي دوسري چيزکي طرف نسبت ديکرپاني کہيں(جيسے پھولوں کا عرق، نمک کاپاني وغيرہ?
مطلق پاني : وہ پاني ہے جسے عرف عام ميںپاني کہتے ہيں،اور اس کو کسي دوسري چيز کي طرف نسبت نہيں ديتے مثلا اس کو نمک کا پاني يا پھلوں کا پاني نہ کہا جائے اور اس کو خالص پاني بھي کہاجاتا ہے ?
آلات لہو:  عياشي کے ساتھ وقت گزارنے کے نامشروع وسائل جيسے تارساز،بانسري وغيرہ?
ابن سبيل : وہ مسافر جس کے پاس سفر ميں پيسہ ختم ہوگئے ہوں ?
اتقي:  جو بہت زيادہ متقي اور پرہيزگار ہو ?
اجارہ :  وہ معاہدہ جس کے تحت کسي چيز کي منفعت يا کسي شخص کي محنت ، معينہ اجرت پر کسي دوسرے کے حوالہ کي جائے ?
اجرت المثل : کام کے جيسي اجرت، مثلا کوئي شخص کسي کام کو اس کي اجرت معين کئے بغير انجام دے ، تو اس کي اجرت اس جگہ کے عرف عام کے مطابق دينا ہوگي?
اجزاء وشرايط: ہر وہ چيز جس کے نہ ہونے کي وجہ سے خود اصل چيز باقي نہ رہ جائے اسے جزء کہتے ہيں اور ہر وہ چيز جس کے نہ ہونے کي وجہ سے کسي چيز کي کوئي صفت يا مخصوص حالت بدل جائے اس کوشرط کہتے ہيں جيسے رکوع اور سجود نماز کا جزء ہے ليکن وضو نماز کے لئے شرط ہے ?
اجير: جو شخص ايک معينہ معاہدہ کے تحت کسي کام کو انجام دينے کي اجرت اور مزدوري لے ?
احتلام: سوتے وقت انسان کي مني نکلنا ?
احتياط : تمام اطراف و جوانب کي رعايت کرتے ہوئے عمل انجام دينا جس سے انسان کو اطمينان حاصل ہوجائے ?
احتياط لازم: احتياط لازم يہ ہے کہ احتياط سے پہلے يا اس کے بعد مجتہد نے اس کے متعلق کوئي فتوي نہ ديا ہو ?
احتياط مستحب : احتياط مستحب يہ ہے کہ احتياط سے پہلے يا اس کے بعد مجتہد نے اس کے متعلق کوئي فتوي صادر کيا ہو ?
احتياط واجب :  احتياط لازم کے معني ميں ہے جس کي تفصيل گذر گئي ہے ? ايسے مسائل ميں مقلد کسي دوسرے مجتہد کي تقليد کرسکتا ہے ?
احتياط کو ترک نہيں کرنا چاہئے: اس سے احتياط واجب کي طرف اشارہ ہے ?
احراز: حاصل کرنا، لينا ?
احوط:  جو کام احتياط کے مطابق ہو ?
احيائے زمين: کھيتي کر کے يا باغ يا مکان وغيرہ کي تعمير کرکے بے کار زمين کو کار آمد بنانا ?
اخفات : آہستہ اور بغير آواز کے (حمد و سورہ کو) پڑھنا
ادعا: کسي چيز کا اپنے يا دوسرے کے حق ميں اظہار کرنا ?
اذن : اجازت
ارباح مکاسب : کام کا منافع، کام کرنے کے ذريعہ ہر طرح کي آمدني کو ارباح مکاسب کہتے ہيں?
ارتماس: غسل کے لئے پاني ميں غوطہ لگانا ? وضو کيلئے ہاتھ اور چہرہ کو پاني ميں ڈبونا ?
ارث: ميراث، مرنے والے کا ترکہ جو وارثوں کيلئے باقي رہ جاتاہے ?
استبراء : گندگي سے پاک ہونے کي کوشش کرنا ? اس لفط کا استعمال تين مقامات پر ہوتا ہے ?
1? پيشاب سے استبراء: (اس کا طريقہ توضيح المسائل کے مسئلہ نمبر 78ميں بيان کيا گيا ہے) ?
2? مني سے استبراء : يعني مني خارج ہونے کے بعد پيشاب کرنا تاکہ نالي ميں پيشاب کي نالي ميں مني کے ذرات نہ رہ جانے کا اطمينان حاصل ہوجائے ?
3? نجاست خوار حيوان کا استبراء : يعني ايسے جانور کو اتنے دن تک انسان کي نجاست کھانے سے روکے رکھنا کہ وہ اپني اصل خوراک کھانے کا عادي ہوجائے ? اس کا طريقہ توضيح المسائل کے مسئلہ نمبر 239 ميں بيان کيا گيا ہے ?
استحاضہ : حيض، نفاس، زخم اور پھوڑے پھونسي کے خون کے علاوہ جو خون عورتوں کے رحم سے خارج ہوتا ہے اس کو خون استحاضہ کہتے ہيں اس کي تين قسميں ہيں استحاضہ قليلہ، استحاضہ متوسطہ، استحاضہ کثيرہ?
استحالہ : ايک چيز کا اس طرح تبديل ہوجانا کہ اس کي حقيقت باقي نہ رہے جيسے نجس لکڑي جل کر خاک راکھ ہوجائے ، يا وہ کتا جو نمک زار ميں جا کر نمک ميں تبديل ہوجائے ?
استفتاء: فتوي معلوم کرنا، کسي شرعي مسئلہ کے سلسلہ ميں مجتہد کا نظريہ معلوم کرنا?
استطاعت : جسماني صحت، مال اور راستہ کو پيش نظر رکھتے ہوئے حج کے قابل ہونا ?
بيوي سے استمتاع: بيوي سے جماع کے علاوہ دوسري لذت اٹھانا ?
استمناء: اپنے ساتھ ايسا کوئي عمل انجام دينا جس کي وجہ سے مني نکل آئے ?
اشکال ہے: احتياط واجب کے معني ميں ہے جس کے معني گذر گئے ہيں ?
اضطرار: مجبوري?
اظہر: زيادہ ظاہر،فتوي ہے اور مقلد کو اسي کے مطابق عمل کرنا چاہئے ?
اعدل: بہت زيادہ عادل-
وطن سے اعراض: انسان کا اپنے وطن کو چھوڑنے کا ارادہ کرنا اور دوسري جگہ مقيم ہوجانا ?
اعراض عملي: جب بھي انسان اپنے پہلے وطن ميں واپس آکر ہميشہ رہنے کا قصد کرے ليکن عملي طور پر ايک مدت گذر جائے (مثلا پانچ سال يا زيادہ)اور ابھي تک واپس نہ آئے تو اب اس کو عملي اعراض حاصل ہوگيا اوراس کي نماز وروزہ وہاں پر قصر ہے ?
اعلان: خبر دينا-
اعلم: بہت زيادہ عالم ?
افضاء: افضاء کے لغوي معني کھلنے کے ہيں، اوراصطلاح ميں پيشاب اور حيض کے مقام کا ايک ہوجانا ? يا حيض اور پاخانہ کے مقام کا ايک ہوجانا يا تينوں مقامات کا ايک ہوجانا ?
افطار: روزہ کھولنا يا روزہ توڑنا ?
ا
قامہ معروف : واجب يا مستحب کام انجام دينا ?
اقرب يہ ہے: فتوي يہ ہے (سوائے اس صورت کے عبارت ميں کوئي ايسا قرينہ موجود ہو جو فتوي نہ ہونے کو بتائے) ?
اقوي يہ ہے: قوي نظريہ يہ ہے، صريح فتوي يہ ہے اور اسي کے مطابق عمل کرنا چاہئے ?
ضرورت کودور کرنے پر اکتفاء کرنا: مجبوري کے مطابق اکتفاء کرنا اور اس سے زيادہ انجام نہ دينا ?
الزام کرنا: مجبور کرنا ?
امام : رہبراور معصوم راہنما ?
امام جماعت : نماز ميں جس کي اقتداء کرتے ہيں اسے امام جماعت کہتے ہيں ?
امرار معاش: زندگي بسر کرنا ?
امر بالمعروف : قوانين شريعت اوراحکام دين پر عمل کرنے کے لئے دوسروں کو مجبور کرنا اور انہيں عمل کي دعوت دينا ?
امساک : منع کرنا، اپنے آپ کو کوئي کام انجام دينے سے روکنا ? جو چيز روزہ کو ضرر پہنچاتي ہيں ان سے پرہيز کرنا ?
اموال محترمہ : اسلامي قوانين کي بنياد پر جن اموال کا احترام کيا جاتا ہے ?
انتقال: منتقل کرنا، نجس چيز کا اپني جگہ سے اس طرح منتقل ہونا کہ پھر اس کو پہلے والي چيز نہ کہا جاسکے جيسے انسان کے خون کا مچھر کے جسم ميں منتقل ہونا ?
انزال: مني کا نکالنا ?
اوداج اربعہ: جانوروں کي چاروں رگيں ?
اورع : جو بہت زيادہ متقي و پرہيزگار ہو ?
اولي : بہتر ، زيادہ مناسب
ايقاع: وہ معاملہ جو ايک طرف سے واقع ہوجاتا ہے اور اسے قبول کرنے والے کي ضرورت نہيں ہوتي جيسے طلاق ميں صرف طلاق دينا کافي ہوتا ہے قبول کرنے کي ضرورت نہيں ہوتي?
اہل کتاب : وہ غير مسلم جو خود کو کسي صاحب کتاب پيغمبر کا تابع سمجھتا ہو جيسے يہودي، عيسائي?
 
فہرست (ب)
بالغ: وہ شخص جو بالغ ہوگيا ہو ?
وضو کے بدلہ: وضو کي جگہ پر ، جہاں پر پاني نہ ہووہاں مکلف کا وظيفہ تيمم ہے اور يہ تيمم ، غسل يا وضو کے بدلہ ہوگا ?
برائت ذمہ: شک کے مقامات پر مکلف کو اس طرح عمل کرنا چاہئے تاکہ اس کو يقين ہوجائے کہ اس نے اپني تکليف انجام ديدي ہے ?
بعيد ہے : فتوي يہ ہے (مگر کلام ميں اس کے خلاف کوئي قرينہ پايا جاتا ہو) ?
بلوغ : حد تکليف کو پہنچنا ?
بيع مثل بہ مثل: ايک جنس کي دو چيزوں کو بدلنے کي صورت ميں خريد و فروخت کرنا جيسے گہيوں کو گہيوں سے بيچنا اور خريدنا ?
بہيمہ: چار پيروں والا جانور?
 
فہرست (ت)

تبيعت: پيروي کرنا، کسي نجس چيز کا کسي دوسري نجس چيز کے پاک ہوجانے کي وجہ سے پاک ہوجانا، مثلا جس برتن ميں انگور کا شيرہ ابلا ہو او ردوتہائي حصہ جل جانے کے بعد اس برتن کا پاک ہوجانا ?
تجافي : نيم خيزي يا آدھا قيام ? جو ماموم ، نماز جماعت کي دوسري رکعت ميں شامل ہوتا ہے اوروہ امام کے تشہد پڑھتے وقت کھڑے ہونے کي حالت ميں بيٹھتا ہے ?
تحت الحنک:  ٹھڈي کے نيچے ? عمامہ کا وہ سرا جو گلے کے نيچے لٹکايا جاتا ہے ?
تخلي: خالي کرنا ? پيشاب و پائخانہ کرنا ?
تخميس : مال سے خمس نکالنا، مال کے خمس کو ادا کرنا ?
تروي: شک کے وقت نماز کي رکعتوں کي تعداد ميں فکر کرنا ?
تزکيہ ہونا:  وہ جانور جو شرعي قوانين کے مطابق ذبح ہوا ہو ?
تسبيحات اربعہ: سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر?
تسبيح حضرت زہرا(سلام اللہ عليہا): چونتيس مرتبہ اللہ اکبر کہنا، تينتيس مرتبہ الحمد للہ کہنا اور تينتيس مرتبہ سبحان اللہ کہنا ?
تستر : اپنے کو ڈھانپنا(کپڑے پہننا) ?
تسميہ : (ذبح کرتے وقت)خدا کا نام زبان پر جاري کرنا ?
تشريح : انسان يا حيوان کے مردہ جسم کو ڈاکٹري اطلاعات کے لئے کاٹنا ?
تصديق:  گواہي دينا، تاکيد کرنا ?
تطہير: پاک کرنا ?
تعدي: زيادہ روي کرنا، ظلم کرنا، دست درازي کرنا، تجاوز کرنا ?
تعقيب : تعاقب کرنا، نماز کے بعد ذکر، دعا اور قرآن کي تلاوت ميں مشغول ہونا ?
تفاوت قيمت(صحيح و معيوب): جنس سالم اور جنس غير سالم ميں قيمت کے لحاظ سے مقدار کا مختلف ہونا ?
تفريط :  کوتاہي کرنا، مسامحہ کرنا ?
تقاص: قصاص لينا، مقروض کے مال کو اپنا قرض واپس لينے کي وجہ سے طلب کرنا ?
تقليد :  مجتہد کے فتاوي پر عمل کرنا ?
تکبيرة الاحرام :  نماز شروع کرنے کے لئے اللہ اکبر کہنا ?
تلقيح مصنوعي : مرد کے نطفہ کو انجکشن کے ذريعہ عورت کے رحم ميں ڈالنا ?
تمکن :  قدرت رکھنا ?
تمکين : اپنے آپ کو حوالہ کرنا(جنسي مسائل ميںشوہرکي درخواست پر عمل کرنا) ?
تيمم : پاني نہ ہونے کي وجہ سے سات مقامات پر وضو يا غسل کے بدلے تيمم کرنا ?
غسل کے بدلہ تيمم: جہاں پر غسل ممکن نہ ہو يا غسل کے لئے پاني نہ ہو تو غسل کے بدلے تيمم کرنا ہوگا ?
تيمم جبيرہ: اس شخص کا تيمم کرنا جس شخص کے اعضاء تيمم پر مرہم يا پٹي بندھي ہوئي ہے ?
توکيل : وکيل يا نمائندہ بنانا ?
توريہ : دو طرح کي بات کہنا جس سے سننے والا کچھ سمجھے اور کہنے والے کي مرادکچھ اور ہو ?
تہمت : کسي پر الزام لگانا، کسي کي طرف ناروا نسبت دينا ?
 
فہرست (ث)

ثلثان : دو تہائي? انگور اور کشمش کو کھولانے کے بعد دو تہائي پاني کا بھاپ بن کر اڑ جانا اس کے ذريعہ انگور اور کشمش کا پاني حلال ہوجاتا ہے ?
ثمن : قيمت
فہرست (ج)
جاعل : جعالہ کي قرار داد منعقد کرنے والا ?
جاہل بہ مسئلہ:  مسئلہ سے ناواقف? جو اپنے شرعي مسئلہ کو نہ جانتا ہو ?
جاہل قاصر: مسئلہ سے ناواقف ايسا شخص جس کے لئے حکم خدا کا معلوم کرنا ممکن نہ ہو يا وہ خود کو جاہل اور ناواقف نہ سمجھتا ہو ?
جاہل مقصر : وہ ناواقف شخص جس کے لئے مسائل کو سيکھنا ممکن رہا ہو ليکن اس کے باوجود اس نے کوتاہي کي ہو اور جان بوجھ کر مسائل معلوم نہ کئے ہوں ?
جبيرہ :  زخم پر رکھي جانے والي پٹي ، دوا، يا زخم يا ٹوٹي ہوئي ہڈي پر باندھي جانے والي پٹي وغيرہ?
جرح ? جروح:  زخم
جنب : جس شخص کي مني نکلي ہو يا اس نے ہمبستري کي ہو ?
جعالہ :  وہ معاہدہ جس کے تحت کوئي شخص يہ اعلان کرے کہ جو شخص بھي ميرا فلاں کام کرے گا ميں اسے اتني اجرت دوں گا مثلا يہ کہے کہ جو بھي ميري کھوئي ہوئي فلاں چيز کو ڈھونڈ لائے گا اسے دس روپے دوںگا اس قسم کا معاہدہ کرنے والے کو ''جاعل'' اور اس معاہدہ پر عمل کرنے والے کو عامل کہتے ہيں ?
جلال:  وہ جانور جو انسان کي نجاست (پاخانہ )کھانے کا عادي ہوگيا ہو ?
جماع:  ہمبستري، مقاربت?
جھر:  بلند آواز، بلندآواز سے کسي چيز کي قرائت کرنا ?
 
فہرست (ح)
حائض : جس عورت کو ماہواري آرہي ہو ?
حاکم شرع:  وہ مجتہد جس کا حکم، شرعي قوانين کي بنياد پر نافذ ہو ?
حج: خانہ خدا کي زيارت-
حج نيابتي:  کسي کي طرف سے خانہ خدا کي زيارت کرنا ?
حدث اصغر: ہر وہ کام جس سے وضو باطل ہوجائے ?
حدث اکبر :  ہر وہ چيز جس کي وجہ سے نماز کے لئے غسل کرنا پڑے جيسے احتلام، ہمبستري?
حد ترخص :  مسافت کي وہ حد جہاں سے اذان کي آواز سنائي نہ دے اور آبادي کي ديواريں دکھائي نہ ديں ?
حرام:  ہر وہ عمل جس کو شريعت کي نظر ميںترک کرنا ضروري ہو ?
حرج ? مشقت : سختي ، دشواري?
حصہ : حصہ
حضر: جائے قيام، وطن?
حنوط : ميت کي پيشاني، دونوں ہتھيليوں، گھٹنوں اور پير کے دونوں انگوٹھوں کي نوک پر کافور ملنا ?
حوالہ : اپنے قرض خواہ کو قرض کي وصولي کيلئے کسي اور شخص کے پاس بھيجنا (يعني اپنے قرض کي ادائيگي کسي دوسرے کے ذمہ کردينا) ?
حيض :  ماہواري?
 
فہرست (خ)
خارق العادة : عادت کے خلاف، غير معمولي? توقع سے زيادہ?
قوت سے خالي نہيں ہے:  فتوي يہ ہے ?
خبرہ : مسائل سے واقف انسان?
خبيث : نجاست، برائي?
خسارت :  نقصان، ضرر?
خمس: پانچواں حصہ ? سالانہ بچت کا بيس فيصد حصہ جومجتہد جامع الشرائط اور مرجع تقليد کو ديا جانا چاہئے ?
خوارج :  وہ لوگ جو امام معصوم (عليہ السلام)کے خلاف جنگ کيلئے نکليں جيسے نہروان کے خوارج?
خوف :  ڈر ، خوف?
خون جہندہ: وہ جانور جس کو ذبح کرتے وقت اس کي گردن سے خون اچھل کر نکلے ?
خيار:
خريد و فروخت کا معاملہ باطل کرنے کا اختيار?
 
فہرست (د)
دائمہ : وہ عورت جس سے عقد دائم کيا ہو (بيوي) ?
دبر : پاخانہ کا مقام ?
دعوي: عدالت خواہي?
دفاع :  دشمن کا مقابلہ کرنا،دشمن کو بھگانا ?
ديت : کسي مسلمان کي جان يا اس کے کسي عضو کے تاوان ميں ديا جانے والا مال?
 
فہرست (ذ)
ذبح شرعي :  شرعي قوانين کي رعايت کرے ہوئے حلال گوشت جانور کو ذبح کرنا ?
ذمہ :  کسي چيز کو ادا کرنے يا انجام دينے کا معاہدہ کرنا ?
ذمي : يہوديوں اور عيسائيوں کي طرح وہ اہل کتاب کفار جو مسلمان، مملکت ميں رہتے ہوں او راسلام کے اجتماعي قوانين کي پابندي کا وعدہ کرنے کي وجہ سے حکومت اسلامي ان کي حفاظت کرے ?
 
فہرست (ر)
ربا : زيادہ، اضافي، قرض کے بدلے ميں سود لينا ?
رباي معاوضي : ايک جنس کي دو چيزوں کي خريدو فروخت، وزن يا پيمانہ کي زيادتي کي شرط کے ساتھ?
رجاء مطلوبيت :  کسي عمل کو مطلوب پروردگار ہونے کي اميد سے انجام دينا(يہ نيت نہ کرنا کہ شريعت نے اس کا حکم ديا ہے) ?
رجوع : پلٹنا، رجوع کرنا، اس کا استعمال دومقامات پر زيادہ ہوتا ہے:
1? اعلم جس مسئلہ ميں احتياط واجب کا حکم دے اس مسئلہ ميں کسي دوسرے مجتہد کي طرف رجوع(تقليد)کرنا ?
 2? بيوي کو طلاق رجعي دينے کے بعد عدہ کے دوران ايسا کوئي عمل انجام دينا يا ايسي کوئي بات کہنا جس سے اس بات کا پتہ چلے کہ اسے دوبارہ بيوي بناليا ہے ?
رضاعي : وہ لڑکا يا لڑکي جو ايک عورت کا دودھ پئيں ? (وہ افراد جو دودھ پينے کي وجہ سے ايک دوسرے کے رشتہ دار ہوجائيں، جيسے رضاعي بھائي، رضاعي بہن وغيرہ?
رفع ضرورت : مجبوري کي حالت کا برطرف ہونا ?
رکن ، ارکان: ستون? ہر عبادت کا اساسي اور بنيادي جزئ?
رکوع : نماز ميں اس قدر جھکنا کہ دونوںہاتھ ، گھٹنوں کے مقابل پہنچ جائيں ?
رہن :  گروي رکھنا، اپني کوئي چيز قرض خواہ کے پاس اس لئے رکھنا کہ اگر اسے مقررہ وقت پر اپنا قرض واپس نہ ملے تو وہ اس چيز سے اپنا قرض حاصل کرلے ?
ريبہ :  گناہ ميں پڑنے کا خوف?
 
فہرست  (ز)
زائد بر مؤونہ : زندگي کے خرچ سے زيادہ?
زائل ہونا :  برطرف ہونا ?
زکات :  پاکيزگي، مخصوص اموال کي ايک معين مقدار جسے معينہ شرائط پائے جانے کي صورت ميں مخصوص مصارف ميں صرف کرنا ہوتا ہے ?
زکات فطرہ:  تقريبا تين کيلو گہيوں، جو، يا چاول وغيرہ يا اس کي قيمت جو عيد فطر کے موقع پر فقراء کو دي جائے يا زکاة کے دوسرے مصارف ميں لگائي جائے ?
زمان غيبت کبري :  ہمارا زمانہ، جس ميں امام بارہويں امام(عليہ السلام)پردہ غيب ميں زندگي بسر کررہے ہيں ?
زينت : آرائيش و زيبائي?
 
فہرست (س)
سال قمري : چاند کا بارہ مرتبہ زمين کے گرد گھومنا، جس کي مدت 354 روز اور چند گھنٹے ہوتي ہے اور يہ محرم سے ذي الحجہ تک عربي مہينوں کے مصادف ہے ?
سال خمسي : اپنے امور کا پہلي بار حساب کرنے کے بعد پورا ہونے والا ايک سال، ہر سال اسي تاريخ کو خمس کا حساب کرنا چاہئے ?
سجدہ ، سجود : خدا وند عالم کے سامنے پيشاني، ہاتھوں کي ہتھيلياں، دونوں گھٹنے اور پير کے دونوںانگوٹھوں کي نوک کو زمين پر رکھنا ?
سجدہ سہو : نماز ميں بھولے سے ہونے والي غلطيوں کي وجہ سے نماز کے بعد کيا جانے والا سجدہ?
سجدہ شکر : خداوند عالم کي عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے پيشاني زمين پر رکھنا ?
سرقت حدي : ايسي چوري جس ميں تمام شرايط جمع ہونے کي وجہ سے حد واجب ہوجائے ?
سرگين :  جانوروں کا پاخانہ?
سفيہ :  کم عقل، جو اپنے مال کو حفاظت سے رکھنے کي صلاحيت نہ رکھتا ہو اور اپنے مال کو بيہودہ کاموں ميں مصرف کردے ?
سقط شدہ : ناقص بچہ، جو پيدا ہونے سے پہلے ماں کے پيٹ سے باہر نکل گيا ہو ?
سودي قرض :  وہ قرض جس ميں يہ شرط کي گئي ہو کہ قرض لينے والا کچھ بڑھا کر واپس کرے گا ?
 
فہرست (ش)
شاخص : ظہر کے وقت کا پتہ چلانے کے لئے زمين ميں نصب کي جانے والي لکڑي يا کوئي اور آلہ?
شارع :  باني ? شريعت اسلام، خداوند عالم، رسول اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) ?
شاہد :  گواہ
شرايط ذمہ :  اہل کتاب ، بلاد مسلمين ميں جن شرائط پر عمل کرتے ہيں ، ان شرايط کي وجہ سے اسلامي حکومت ان کي جان، مال، آبرو کي حفاظت کي ذمہ داري ليتي ہے ?
شہادت : گواہي دينا ?
شہادتين :  خداوند عالم کي وحدانيت اور رسول اسلام(صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم)کي رسالت کي گواہي دينا ?
شيوع : شايع ہونا، رائج ہونا ?
شہرت :  مشہور ہونا، سب کے لئے آشکار ہونا ?
شيرکامل : کامل دودھ ، يہاں پر کامل دودھ سے مراد وہ نو شرائط ہيں جو بچہ کو دودھ پلانے کيلئے توضيح المسائل ميں بيان کئے گئے ہيں اور ان شرائط کے ساتھ دودھ پينا محرم کا سبب بن جاتا ہے ?
فہرست  (ص)
صاع : وہ پيمانہ جس ميں تقريبا تين کلوگرام کي گنجائش ہو ?
صحت : صحيح ، درست?
صراط : قيامت کے روز پل صراط مراد ہے ?
صغيرہ :  وہ لڑکي جو سن بلوغ کو پہنچ گئي ہو ?
صلح : فريقين کا کسي بات پر متفق ہونا ? کسي دوسرے کے ذمہ اپنے کچھ مال ياحق کو معاف کردينا تاکہ وہ بھي اپنے مال يا حق کو معاف کردے ?
صيغہ : ان الفاظ کا پڑھنا جن کے ذريعہ ''عقد '' اور ''ايقاع'' وجود ميں آتا ہے ?
 
فہرست  (ض)
ضامن : ذمہ دار، اپنے ذمہ لينے والا ?
ضرورت :  وجوب? يقيني?
ضروري دين : جو چيزيں بلاشک و شبہ دين کا جزء ہيں ، تمام وہ احکام جنہيں سارے مسلمان ، دين کا جزء مانتے ہو جيسے نماز ، روزہ کا واجب ہونا، اگر ان کا انکار کرنے سے نبوت کے انکار کا سبب بنے تو ايسا شخص اسلام سے خارج ہے ?
 
فہرست (ط)
طلاق :  آزادي، شريعت ميں مقرر قوانين کے ذريعہ رشتہ ازدواج توڑنا ?
طلاق بائن : وہ طلاق جس کے بعد مرد کو رجوع کرنے کا حق نہيں ہوتا ?
طلاق خلع : اس عورت کي طلاق جو شوہر کو ناپسند کرتي ہو اور طلاق لينے کے لئے شوہر کو اپنا مہر يا کوئي دوسرا مال دے ?
طلاق رجعي : وہ طلاق جس ميں مرد عدت کے دوران عورت کي طرف رجوع کرسکتا ہے ?
طلاق مبارات : وہ طلاق ہے جس ميں شوہر اور زوجہ دونوں ايک دوسرے سے متنفر ہوں اور عورت طلاق کے لئے شوہر کو کچھ مال دے ?
طواف نساء :  حج اور عمرہ مفردہ کا آخري طواف جس کے انجام نہ دينے کي وجہ سے طواف نہ کرنے والے کے لئے ہمبستري حرام رہتي ہے ?
طہارت : پاکيزگي? وہ معنوي حالت جو وضو يا غسل يا تيمم کرنے کي وجہ سے پيدا ہوتي ہے ?
طہارت ظاہري :  وہ چيز جو شارع مقدس کي نظر ميں پاک ہے چاہے وہ حقيقت ميں نجس ہو جيسے کوئي شخص کسي مسلمان کے گھر ميں وارد ہو تو جب تک وہ کسي چيز کے نجس ہونے کو بيان نہ کرے اس گھر کي تمام چيزيں پاک ہيں ?
 
فہرست (ظ)
ظاہر يہ ہے: فتوي يہ ہے(مگر يہ کہ عبارت ميں اس کے برخلاف کوئي قرينہ موجود ہو) ?
ظہر شرعي :  ظہرکي اذان کا وقت جب شاخص کا سايہ بالکل ختم ہوجاتا ہے يا اتنا کم ہوجاتا ہے کہ اس سے کم نہيں ہوسکتا ? فصل بدلنے اورافق کي تبديلي کے ساتھ اس کا وقت بدل جاتا ہے ?
فہرست (ع)
عادت ماہيانہ : ماہواري، حيض?
عادت وقتيہ و عدديہ :
عادل : جو شخص عقيدہ وعمل ميں صحيح راستہ پر ہو واجبات کو انجام دے، محرمات کو ترک کرے اور حسن معاشرت کا مالک ہو ?
عاريہ : کسي کو اپنا مال وقتي طور پر استعمال کے لئے بلاعوض دينا ?
عاقلہ :  پدري رشتہ دار?
عاصي :  گناہ کرنے والا، جو احکام الہي کي نافرماني کرتا ہے ?
عامل : عمل کرنے والا: 1? جو جعالہ کے معاہدہ پر عمل کرتا ہے ? 2? حاکم شرع کي طرف سے زکات کا مال جمع کرنے ،اس کا حساب و کتاب رکھنے اور اس کو تقسيم کرنے کي ذمہ داري ہو ? 3? اجرت پر کام کرنے والا ?
عايدات : آمدني?
عرف :  لوگوں کي عام تہذيب و ثقافت?
عرق جنب از حرام :  وہ پسينہ جو ناجائز ہمبستري يا استمناء کے بعد بدن سے خارج ہوتا ہے ?
عزل :  کسي چيز کو الگ کرنا ?اس کے دو معني ہيں : 1? ہمبستر ي کرتے وقت مني کو عورت کے رحم سے باہر نکالنا تاکہ نطفہ منعقد نہ ہو ? 2? اپنے وکيل کو کسي کام سے برطرف کرنا جيسے حاکم شرع کا خائن متولي يا وصي کو برطرف کرنا ?
عسر و حرج :  مشقت وسختي?
عسرت : سختي، تنگدستي?
عقد : گرہ، معاہدہ? رشتہ ازدواج? ارتباط
عقد بيع : خريد وفروخت کا معاہدہ?
عقد دائم :  شادي
عقد غير دائم :  متعہ ، صيغہ?
عقود : دو طرفہ معاہدہ، جيسے خريد و فروخت ، شادي، مصالحہ ?
عمال : عامل کي جمع،کارندے، کام کرنے والے ?
عمدا :  جان بوجھ کر ، کسي کام کو علم و آگاہي کے ساتھے انجام دينا ?
عمرہ : خانہ کعبہ کي زيارت، خانہ کعبہ سے مربوط وہ مخصوص اعمال جو کسي حد تک حج سے مشابہ ہيں ? حج کے شرائط پائے جانے کي صورت ميں ہر مکلف پر زندگي ميں ايک بار واجب ہوتا ہے ? اس کي دو قسميں ہيں:
1? عمرہ تمتع جو حج تمتع سے پہلے کيا جاتا ہے ?
2? عمرہ مفردہ جو حج کے بغير يا حج قران يا حج افراد کے بعد کيا جاتا ہے ?
عمل بہ احتياط :  مکلف اپني تکليف کو اس طرح انجام دے کہ اس کو يقين ہوجائے کہ اپني شرعي تکليف انجام ديدي ہے، احتياط کا طريقہ ، فقہي کتابوں ميں بيان ہوا ہے ?
عنين : ايسا مرد جو ہمبستري کرنے پر قادر نہ ہو ?
عورت :  اعضاء تناسلي?
عہد : خداوند عالم کے سامنے مخصوص الفاظ ميں کسي اچھے کام کے انجام دينے يا کسي خراب کام کے چھوڑنے کا عہد و پيمان کرنا ?
عيال :  بيوي، اہل و عيال?
عيد فطر : پہلي شوال ، مسلمانوں کي دو بڑي عيدوں ميں سے ايک عيد ?
عيد الاضحي :  ماہ ذي الحجہ کي دسويں تاريخ، مسلمانوں کي دوبڑي عيدوں ميں سے ايک عيد?
 
فہرست (غ)
غائب ہونا : چھپنا، شوہر کا ايک معينہ مدت تک غائب ہوجانا جس کي وجہ سے زوجہ ، حاکم شرع سے طلاق کي درخواست کرے ?
غائط : پاخانہ?
غرض عقلائي : جو ہدف ، عقلاء کي نظر ميں قابل قبول اور پسنديدہ ہو ?
غسالہ :  کسي چيز کو دھونے کے بعد خودبخود يا نچوڑنے سے عام طور پر نکلنے والا پاني?
غسل : دھونا، بدن کا ايک مخصوص طريقہ سے دھونا، اس کي دوقسميں ہيں: 1? غسل ترتيبي? 2? غسل ارتماسي?
غسل واجب : وہ غسل جس کو انجام دينا ضروري ہے ?
غسل مستحب : وہ غسل جن کو مخصوص شب و روز کي مناسبت يا عبادات يا مخصوص زيارات يامخصوص افعال کي وجہ سے کرنا مستحب ہے جيسے غسل جمعہ،غسل زيارت وغيرہ?
غسل ارتماسي : غسل کي نيت سے پاني ميں ايک بار غوطہ لگانا ?
غسل ترتيبي :  غسل کي نيت سے پہلے سروگردن، پھر بدن کے داہنے حصہ اور اس کے بعد بائيں حصہ کا دھونا ?
غسل جبيرہ :  اعضاء پر جبيرہ (مرہم پٹي) ہونے کي وجہ سے کيا جانے والا غسل ?
غصب :  دوسروں کے مال يا حق پر ناحق قبضہ?
غلات : مسلمانوں کا وہ گروہ جو اميرا لمومنين حضرت علي (عليہ السلام) يا تمام ائمہ معصومين عليہم السلام کے بارے ميں غلو کرتا ہے اور ان حضرات کو خدا سمجھتا ہے ، يا خداوند عالم کے مخصوص صفات ، ان کے لئے بيان کرتا ہے ?
 
فہرست  (ف)
فتوي : شرعي مسائل ميںمجتہد کا نظريہ ?
فجر : صبح کي سفيدي ?
فجر اول و دوم :  اذان صبح کے نزديک مشرق کي طرف سے اوپر کي طرف ايک سفيدي چلتي ہے جس کو فجر اول يا صبح کاذب کہتے ہيں جو وہ سفيدي پھيل جاتي ہے ، فجر دوم يا صبح صادق اور نماز صبح کا اول وقت ہوتا ہے ?
فرادي : جماعت کے بغير پڑھي جانے والي نماز?
فرج : عام طور سے عورت کي شرمگاہ کوکہاجاتا ہے ?
فرض : الزامي امر، جس کام کا انجام دينا يا ادا کرنا واجب ہو ?
فضلہ : جانوروں کا پاخانہ ?
فطريہ : زکات فطرہ?
فقاع : جو کي شراب ?
فقير :  جس کے پاس اپنا اور اپنے اہل وعيال کا سال بھر کاخرچ نہ ہو اور کوئي ايسا ذريعہ بھي نہ ہو جس سے روزانہ کے خرچ کو پورا کرسکے ?
في سبيل اللہ :  راہ خدا ميں ? ہر وہ کار خير جس کا فائدہ مسلمانوں کو پہنچے جيسے مسجد ، پل اور سڑک بنانا ?
 
فہرست (ق)
قبل : آگے (مرد يا عورت کي آگے کي شرمگاہ کي طرف اشارہ ہے) ?
قتل : قتل کرنا ?
قتل نفس محترمہ : ايسے شخص کو قتل کرنا جس کا خون شرعي لحاظ سے محترم ہو ?
قرآئت :  پڑھنا ? پنچگانہ نمازوں ميں حمد و سورہ کا پڑھنا ?
قروح : پھوڑا ، پھنسي ، زخم ?
قريب : حقيقت اور واقع سے نزديک ?
قرينہ :  نشاني ، علامت ?
قسامہ : عدالت ميں کسي جرم کے متعلق شاہدوں کا خاص شرائط کے ساتھ قسم کھانا ?
قصاص : بدلہ لينا ، ايک قسم کي مجازات ہے ،ظالم کے ظلم کے بدلے ميں اسي عمل کو انجام دينا جو اس نے انجام ديا ہو جيسے کسي شخص نے کسي کو جان بوجھ کر قتل کرديا ہو تو اس کے اولياء ، حاکم کے زير نظر قاتل کو قتل کرسکتے ہيں ?
قصد اقامہ :  مسافر کا کسي شہر ميں دس دن يا اس سے زيادہ رہنے کا قصد کرنا ?
قصد انشاء : کسي معاملہ کو ايجاد کرنے کيلئے اس کے معين صيغوں کے ساتھ قصد کرنا ?
قصد رجاء :  مکلف کسي عمل کو يہ احتمال ديتے ہوئے انجام دے کہ اس کام کے ذريعہ خدا سے نزديک ہوجائے گا ?
قصدقربت :  يعني اپنے عمل کو مرضي الہي اور بارگاہ رب العزت سے قريب ہونے کا ارادہ کرتے ہوئے انجام دينا ?
قضاء : 1? کسي چھوٹے ہوئے عمل کو اس کا وقت نکل جانے کے بعد انجام دينا ? 2? فيصلے کرنا ?
قنوت : دوسري رکعت ميں حمد وسورہ کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے برابر لاکر آسمان کي طرف بلند کرے دعا پڑھنا اور ذکر خدا کرنا ?
قيام متصل بہ رکوع :  رکوع سے پہلے آخري لمحہ کا قيام ?
قے : الٹي کرنا ?
قيم : سرپرست ، جو شخص وصيت کي بنياد پر يا حاکم شرع کے حکم سے کسي بچے يا ديوانہ يا بيمار کے کاموں کا ذمہ دار ہو ?
 
فہرست (ک)
کافر : جو شخص توحيد يا نبوت يا دونوں کا منکر ہو يعني :
1? جو وجود خدا کاانکار کرتا ہو ?
2? خدا کا شريک قرار دينے والا ?
3? جو رسول اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم)کي رسالت کا منکر ہو ?
4? مذکورہ امور ميں شک کرنے والا ?
5? ضروريات دين ميں سے کسي کا امر کا منکر جب کہ اس کے انکار کے نتيجہ ميں خدا اور رسول کا انکار ہوتا ہو ?
کافر حربي : وہ کفار جو مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ ميں ہوں ?
کافر ذمي : وہ اہل کتاب جو اسلامي مملکت ميں مخصوص شرائط کے ساتھ اسلامي حکومت کي پناہ گاہ ميں ہوں ?
کثير الشک : زيادہ شک کرنے والا ?
کفارہ :  وہ عمل جسے کسي گناہ کي تلافي کے لئے انجام دينا ہوتا ہے ?
کفارہ جمع : تينوں کفارے (ساٹھ روزے رکھنا، ساٹھ فقيروں کو پيٹ بھر کھانا کھلانا اور غلام آزاد کرنا، ہمارے زمانہ ميں پہلي دو قسميں کافي ہيں) ?
کفالت : کي کا کفيل ہونا ? کسي دوسرے کي جگہ پر کسي کام کے انجام دينے کي ذمہ داري لينا ?
کفيل : ضامن ?
 
فہرست (گ)
گوسفند :  بھيڑ ?
 
فہرست (ل)
لازم :  واجب ?
لازم الوفاء :  اس پر عمل کرنا چاہئے ?
لغو : بے فائدہ ، بے معني، بيہودہ ?
لہو ولعب :  بوالہواسي اور فضول کھيل تماشا ?
 
فہرست (م)
 
ما بہ التفاوت :  دو چيزوں کے درميان تفاوت کي مقدار، صحيح اور معيوب قيمت کے تفاوت کے ساتھ رجوع کرنا ?
مال الاجارہ :  وہ مال جومستاجر ، اجارہ کے عنوان سے ادا کرتا ہے ?
مال المصالحہ : وہ مال جو دو افراد يا زيادہ کے درميان صلح کے عنوان سے ادا کيا جاتا ہے ?
ماليت شرعي : وہ چيز جو شرعي لحاظ سے مال شمار ہو ?
ماليت عرفي : وہ چيز جو عام لوگوں کے تہذيب و تمدن ميں مال شمار ہو اگر چہ دين اسلام کي نظر ميں اس کي کوئي حيثيت يا ماليت نہ ہو جيسے شراب ?
ماہ ہلالي :  قمري مہينہ، ايک مرتبہ چاند نظر آنے کے بعد اگلے مہينہ تک 29 يا 30 دن کي مدت ?
ماموم :  اقتداء کرنے والا ? جو نماز جماعت ميں امام کي اقتداء کرتا ہے ?
مؤونہ : خرچ ، زندگي بسر کرنے کا خرچ ?
مباح : ہر وہ فعل جس کو انجام دينا شرعي لحاظ سے جائز ہو (وہ عمل جو شريعت کي نظر ميں نہ قابل مدح ہو اور نہ قابل مذمت) ?
مبتدئہ : جس عورت کو پہلي بار ماہواري آئے ?
مبطلات : عبادت کو باطل کرنے والي چيزيں ?
متعہ :  کسي عورت سے معينہ مدت تک کے لئے عقد کرنا ? معينہ مدت کے لئے رشتہ ازدواج ميں آنے والي عورت ?
متنجس : ہر وہ چيز جو ذاتي طور پر پاک ہو ليکن کسي نجس چيز سے بالواسطہ يا براہ راست مل جانے کي وجہ سے نجس ہوگئي ہو ?
متولي : وقف کا سر پرست ?
مجتہد : کوشش کرنے والا ? جو شخص احکام الہي کو سمجھنے کے سلسلے ميں '' درجہ اجتہاد '' تک پہنچ گيا ہو ? يعني اس ميں اتني صلاحيت پيدا ہوگئي ہو کہ وہ احکام اسلام کو قرآن و سنت ، عقل اور اجماع سے استنباط کرسکے ?
مجتہد جامع الشرائط : وہ مجتہد جس ميں تقليد کے سارے شرائط موجود ہوں ?
مجراي طبيعي : ہر چيز کا فطري راستہ ?
مجہول المالک : وہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو ?
مجزي ہے : کافي ہے ? تکليف کو ساقط کرنے والا ہے ?
محارب : لوگوں کو ڈرانے، اجماعي نظم و نسق ميں خلل اندازي اور لوٹ مار کرنے کے لئے اسلحہ سے حملہ کرنے والا ? نيز اسي مقصد سے گھر، دکان اور کارخانہ وغيرہ پر حملہ کرنے اور لوٹنے والے کو بھي محارب کہتے ہيں ?
محتضر : جس شخص کا دم نکل رہا ہو ?
محتلم : جس شخص کي سوتے ميں مني نکلے ?
محذور : مانع ? رکاوٹ ?
محرم (محرمات) :  جو چيز حرام ہے ? سال قمري کا پہلا مہينہ ?
محرم :  وہ نسبي رشتہ دار اور بعض سببي رشتہ دار جن سے کبھي بھي عقد نہيں کيا جاسکتا جيسے خواہر، مادر، بيٹي، بيٹي کي بيٹي، چچي، خالہ، رضاعي اولاد، خوش دامن، اس کي ماں، رضاعي بھائي ، بہن ?
مُحرم :  جو شخص حج يا عمرہ کے احرام ميں ہو ?
محجور :  جس کو مال ميں تصرف کرنے سے منع کرديا گيا ہو ?
محظور : ممنوع ?
محل اشکال ہے : ااس ميں اشکال ہے ، حتياط کرنا چاہئے ?
محا تامل ہے : احتياط کرنا چاہئے ?
مخير ہے : يعني مقلد ايک طرف کو انتخاب کرسکتا ہے ?
مخرج بول و غائط : پيشاب اور پاخانہ کا فطري مقام سے نکلنے کي جگہ ?
مخمس : وہ مال جس کا خمس نکال ديا گيا ہو ?
مد :  وہ پيمانہ جس ميں تقريبا 750 گرام کي جگہ ہوتي ہے ?
مدعي : جو شخص اپنے لئے کسي حق کا قائل ہو ?
مذي : ايسي رطوبت جو ملاعبہ کے بعد انسان سے خارج ہوتي ہے (عورت کے ساتھ بوس و کنار کے وقت خارج ہونے والي مني ) ?
مرتد : ايسا مسلمان جو خدا و رسول يا ضروريات دين ميں سے کسي ايسے حکم کا منکر ہوجائے جس کے انکار سے خدا و رسول کا انکار ہوتا ہو ?
مرتد فطري : جس شخص کے ماں باپ دونوں يا ان ميں سے کوئي ايک مسلمان رہا ہو اور يہ شخص خود بھي مسلمان ہو اور پھر کافر ہوجائے ?
مرتد ملي :  غير مسلم ماں باپ کے يہاں پيدا ہو ليکن خود کفر کا اظہار کرنے کے بعد مسلمان ہوگيا ہو اور پھر دوبارہ کافر ہوجائے ?
مرجوح (مرجوح شرعي ) : جس چيز ميں شرعي کراہت پائي جائے ?
مردار : وہ جانور جو خودبخود مرگيا ہو ?
مزارعہ :  زمين کے مالک اور کاشتکار کے درميان ہونے والا معاہدہ جس کي بنياد پر مالک فصل کاايک معين حصہ پاتا ہے ?
مس :  لمس کرنا ?
مس ميت : مردہ انسان کے جسم کو چھونا ?
مساقات : سينچائي کرنا ? باغ کے مالک اور باغبان کے درميان ہونے والا معاہدہ جس کي بنياد پر باغبان درختوں کي سينچائي اور پرورش کے بدلے باغ کے پھلوں سے ايک معينہ مقدار حاصل کرتا ہے ?
مستحاضہ : جس عورت کو خون استحاضہ آرہا ہو ?
مستحب : پسنديدہ ? جوچيز شارع کو پسند ہو ليکن اسے لازم و واجب قرار نہ دے ?
مستطيع : جس ميں حج کے شرائط پائے جاتے ہوں ?
مستہلک : ختم شدہ، نيست و نابود شدہ چيز?
مسح : کسي چيز پر ہاتھ پھيرنا ? وضو کي بچي ہوئي تري کے ساتھ سر کے اگلے حصہ اور دونوں پيروں کے اوپري حصہ پر ہاتھ پھيرنا ?
مسکين :  بيچارہ، مفلوک الحال ? جس کي زندگي فقير سے بھي زيادہ سخت ہو ?
مسکرات :  جس چيز ميں نشہ ہو ?
مصالحت :  فريقين کا کسي بات پر متفق ہونا ?
مضطربہ : وہ عورت جس کي ماہواري کا وقت معين نہ ہو ?
مضمضہ : کلي کرنا ?
مطہرات :  پاک کرنے والي چيزيں ?
مظالم :  وہ چيز جو انسان کے ذمہ ہے ليکن وہ اس کا مالک معلوم نہيں ہے يا اس تک دسترسي ممکن نہيں ہے جيسے کوئي شخص کسي کا مقروض ہو ليکن اس کے مالک نہيں پہچانتا اور اس تک پہنچنا ممکن نہ ہو ?
معاملہ سلف : وہ خريد و فروخت جس ميں قيمت نقد اور اور مال ادھار ہو ? يعني خريدار قيمت نقدديدے تاکہ بيچنے والا مال کو معين وقت پر اس کے حوالہ کردے ?
مفطر : وہ چيز جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ?
مفلس :  جس کا مال اس کے قرض سے کم ہو ?
مقررات شرعيہ :  وہ چيز جو خداوند عالم کي طرف سے شرعي تکليف کے عنوان سے معين ہوئي ہو ?
مکروہ : ناپسند ? جس کا انجام دينا حرام نہ ہو ليکن انجام نہ دينا بہتر ہو ?
مکلف :  بالغ اور عاقل انسان ?
ملاعبہ : کھيلنا ? معاشقہ کرنا ?
مميز :  وہ بچہ جو اچھے اور برے کو سمجھتا ہو ?
موالات : يکے بعد ديگرے ? پے درپے انجام دينا ?
موجر : کرايہ دينے والا ?
موقوف عليہم :  وہ افراد جن کے فائدہ کے لئے کوئي چيز وقف ہوئي ہو ?
موقوفہ :  وقف شدہ ?
موکل : وکيل بنانے والا ?
ميت : مردہ ، انسان کا بے جان جسم ?
 
فہرست (ن)
ناسيہ : وہ عورت جو اپني ماہواري کے وقت کو بھول گئي ہو ?
نافلہ، نوافل :  مستحبي نمازيں ?
نذر :  مخصوص صيغہ کے ذريعہ کسي پسنديدہ کام کو انجام دينے يا کسي خراب يابرے کام کے ترک کرنے کو اپنے اوپر واجب کرلينا ?
نري : حيوان مذکر کا آلہ تناسل?
نبش قبر : قبر کھولنا ?
نصاب :  معينہ مقدار يا معينہ حد ?
نصاب زکات : زکات کے واجب موارد ميں سے ہر ايک کيلئے مخصوص حد کو معين کرنا ?
نظر بہ ريبہ : ايسي نظر کرنا جس سے فتنہ و فساد کا سبب ہو ?
نجس :  ناپاک ، نجاست ?
نفاس :  بچہ کي ولادت کے بعد عورت کے رحم سے خارج ہونے والا خون ?
نفساء : جس عورت کو خون نفاس آرہا ہو ?
نفس محترم کا قتل کرنا : ايسے انسان کا قتل کرنا جس کي جان شريعت کي نظر ميں محترم ہو اور اسے قتل نہ کرنا چاہئے ?
نکاح :  شادي کرنا ?
نماز آيات :  دو رکعت نماز جس کا مخصوص مواقع مثلا زلزلہ ، سورج گہن، اور چاند گہن کے وقت پڑھنا واجب ہے ?
نماز احتياط : نماز کي رکعتوں ميں شک کے نتيجہ ميں پڑھي جانے والي نماز جس ميں صرف سورہ حمد پڑھا جاتا ہے دوسرا سورہ نہيں پڑھا جاتا ?
نماز استسقاء :  بارش ہونے کے لئے پڑھي جانے والي مخصوص نماز ?
نماز جماعت : وہ واجب نماز جسے ايک يا اس سے زيادہ افراد کسي کي اقتداء ميں پڑھيں ?
نماز جمعہ :  دو رکعت نماز جو جمعہ کے دن زوال کے وقت نماز ظہر کے بدلے جماعت کے ساتھ پڑھي جاتي ہے اور اس کے لئے پانچ افراد کا ہونا ضروري ہے ? اور اس ميں دو خطبہ ہوتے ہيں ?
نماز خوف : وہ پنجگانہ نماز جو جنگ وغيرہ کي حالت ميں مخصوص طريقہ سے اختصار کے ساتھ پڑھي جاتي ہے ?
نماز شب : آٹھ رکعت نماز مستحب جو دودو رکعت کرکے رات کے آخري تہائي حصہ ميں پڑھي جاتي ہے ?
نماز شفع :  دو رکعت نماز جو نماز شب کي آٹھ رکعتوں کے بعد اورنماز وتر سے پہلے پڑھي جاتي ہے ?
نماز طواف : حج و عمرہ ميں طواف کے بعد پڑھي جانے والي دو رکعت نماز?
نماز عيد :  عيد الفطر اور عيد الاضحي کے دن پڑھي جانے والي دو رکعت نماز?
نماز غفيلہ : مخصوص دو رکعتي نماز جو نماز مغرب و عشاء کے درميان پڑھي جاتي ہے ?
نماز قصر :  ہر وہ چار رکعتي نماز جو سفر ميں دو رکعت کرکے پڑھي جائے ?
نماز قضا :  وہ اداء نمازجو وقت کے چھوٹ جانے کي وجہ سے بعد ميں پڑھي جائے ?
نماز مستحب : ہر وہ نماز جس کا بجالانا مطلوب پروردگار ہو ليکن واجب نہ ہو ?
نماز ميت : مسلمان کے جنازہ پر پڑھي جانے والي مخصوص نماز?
نماز واجب : ہر وہ نماز جس کا بجالانا ہر مکلف پر لازم ہے ?
نماز وحشت :  دفن کي پہلي رات ميں مخصوص طريقہ سے پڑھي جانے والي دو رکعت نماز?
نماز يوميہ : نماز پنجگانہ ? شب و روز ميںپانچ وقت پڑھي جانے والي نماز جو مجموعا 17 رکعت ہوتي ہے ?
نہي عن المنکر :  دوسروں کو ہر اس عمل سے روکنا جو شارع کو ناپسند ہو ?
نيت : ارادہ ، کسي مذہبي عمل کو خداوند عالم کي قربت کے حصول کے لئے انجام دينے کا ارادہ ?
 
فہرست (و)
واجب :  ہر وہ عمل جس کا انجام دينا شريعت کي نظر ميں ضرور ہے ?
واجب تخييري : جب وجوب دوچيزوں ميں سے کسي ايک چيز سے متعلق ہو تو ان ميں سے ہر ايک کو واجب تخيير ي کہتے ہيں جيسے روزے کے کفارہ ميں تين چيزوں کے درميان اختيار ہوتا ہے : 1? ساٹھ روزے رکھنا ? 2? ساٹھ مسکينوں کو کھانا کھلانا ? 3? غلام آزاد کرنا ?
واجب تعبدي : وہ واجب جس کے انجام دينے ميں قربت کي نيت کا ہونا ضروري ہے (عبادات ) ?
واجب عيني : وہ واجب جو ہر شخص پر خود واجب ہوتا ہے نماز روزہ ?
واجب کفائي : ايسا واجب جسے اگر دوسرے ضرورت بھرانجام ديديں تو بقيہ سے ساقط ہوجائے جيسے غسل ميت سب پر واجب ہے ليکن اگر کچھ لوگ اسے انجام ديديں تو بقيہ سے ساقط ہوجائے گا ?
واجب موسع : ايسا واجب جس کے انجام دينے کا وقت وسيع ہو جيسے نماز ظہر و عصر ، ان دونوں نمازوں کا وقت ظہر سے مغرب تک رہتا ہے ?
واجب مضيق : ايسا واجب جس کے انجام دينے کا وقت محدودہو جيسے ماہ رمضان ميں روزہ رکھنا ?
وارث :  جن لوگوں کو ميراث ملتي ہے ?
واقف :  وقف کرنے والا ?
وثيقہ : گروي رکھنا ? کسي کے حوالہ کرنا ?
وحدت وجود :  وحدت موجود کے متعدد معني ہيں ان ميں سے جو قطعي طور سے باطل اور تمام فقہاء کے عقيدے کے مطابق اسلام سے خارج کرديتا ہے وہ شخص ہے جس کا عقيدہ يہ ہو : خداوند عالم بالکل اس دنيا کے موجودات کي طرح ہے اور خالق و مخلوق اور عابد و معبود ميںکا کوئي وجود نہيں ہے ،اسي طرح بہشت و دوزخ بھي اس کے وجود کي طرح ہيں اوراس کا لازمہ بہت سے مسلمات دين کا انکار کرنا ہے ?
ودي :  وہ رطوبت جو پيشاب کرنے کے بعد کبھي کبھي خارج ہوتي ہے ?
وديعہ :  امانت
وذي :  وہ رطوبت جو کبھي کبھي مني کے خارج ہونے کے بعد نکلتي ہے ?
وصل بہ سکون : کسي لفظ کے آخري حرف کو ساکن کرکے بعد والے لفظ سے ملا کر پڑھنا ?
وصي : جس کے ذمہ وصيت کے انجام دينے کي ذمہ داري ہو ?
وصيت : سفارش ، وہ سفارشيں جو انسان اپني موت کے بعد کچھ امور انجام دينے کے لئے دوسروں سے کہے ?
وضو ارتماسي : وضو کي نيت سے چہرے اور ہاتھوں کو پاني ميں ڈبونا ?
وضو ترتيبي : وضو کي نيت سے چہرے اور ہاتھوں کو پاني سے ترتيب کے ساتھ پہلے چہرہ اور پھر ہاتھوں کو دھونا ?
وضو جبيرہ :  کسي شخص کے اعضاء وضو پر مرہم يا پٹي بندھي ہو ا ?
وطن :  جس جگہ کو رہنے کے لئے انتخاب کياجائے ?
وطي : کچلنا ، ہم بستري کي طرف کنايہ ہے ?
وقف بہ حرکت :  کسي لفظ کے آخري حرف کو حرکت کے ساتھ ادا کرکے بعد والے کلمہ کو تاخير سے پڑھنا ?
وکيل :  نمايندہ ، وہ شخص جو کسي دوسرے کي طرف سے کسي کام کو انجام دينے کااختيار رکھتا ہو ?
ولايت : سر پرستي ?
ولايت تکويني : ولايت تکويني سے مراد يہ ہے کہ خداوند عالم کي اجازت سے عام عادت کے خلاف کام انجام دينا جيسا کہ قرآن کريم نے سورہ آل عمران کي 49 ويں آيت ميں حضرت عسي (عليہ السلام)کے لئے بيان کيا ہے کہ آپ خداوند عالم کے اذن سے مردوں کو زندہ کيا کرتے تھے اور بيماروں کو اچھا کرديا کرتے تھے ?
ولي (يا قيم ) : شارع مقدس کے حکم سے جو شخص کسي دوسرے کا سر پرست ہو جيسے باپ، دادا، اور مجتہد جامع الشرائط ?
 
فہرست (ھ)
ہبہ : بخشش، عطيہ ?
ہديہ :  تحفہ ?
 
 فہرست (ي)
يائسہ :  وہ عورت جسے سن زيادہ ہوجانے کي وجہ سے حيض نہ آتا ہو ?

پایگاه اطلاع رسانی دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
سامانه پاسخگویی برخط(آنلاین) به سوالات شرعی و اعتقادی مقلدان حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
تارنمای پاسخگویی به احکام شرعی و مسائل فقهی
انتشارات امام علی علیه السلام
موسسه دارالإعلام لمدرسة اهل البیت (علیهم السلام)
خبرگزاری دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی

الإمام عليٌّ(عليه السلام)

الإيثارُ غايةُ الإحسانِ

ايثار، اوج نيکوکارى است

ميزان الحکمه، جلد 1، ص 22