خليفہ دوم کي سيرت(تاريخ اسلام کا تعجب خيز مسئلہ)

عنوان : خليفہ دوم کي سيرت(تاريخ اسلام کا تعجب خيز مسئلہ)


محقق : حجة الاسلام سعيد داودي

مترجم : سيد حسين حيدر زيدي

محققين اور حقيقت کي تلاش کرنے والے جوانوں کے ذہنوں کو جس چيز نے زيادہ مشغول کررکھا ہے وہ خليفہ دوم کي تندخوئي اور سخت کلامي ہے ، اس بحث کي دو لحاظ سے زيادہ اہميت ہے ?
اول : قرآن کريم نے رسول اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي جس برجستہ ترين صفت کو بيان کيا ہے وہ مہرباني اور ملائمت اور تندخوئي اور سخت کلامي سے آپ کو منع کيا گيا ہے (ائے پيغمبر يہ اللہ کي مہرباني ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو يہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے) (?) ?
دوم : مسلمانوں کا ايک دوسرے کے ساتھ محبت سے پيش آنے کو قرآن کريم نے حضرت محمد (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے چاہنے والوں کي خاص خصوصيت بيان کي ہے ? وہ کفاروں کے ساتھ سخت کلام ہيں اور اپنے مسلمان بھائيوں(?) کے ساتھ مہربان ہيں(محمد(ص) اللہ کے رسول ہيں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہيں وہ کفار کے لئے سخت ترين اور آپس ميںانتہائي رحمدل ہيں) ، ليکن اہل سنت کي کتابوں ميں خليفہ دوم کے جو حالات بيان ہوئے ہيں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خليفہ تندخو اور سخت کلام تھے اورکبھي کبھي پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے ساتھ بھي اسي طرح پيش آتے تھے ?
فطري سي بات ہے کہ تاريخ اور حديث کي کتابوں ميں ان تمام باتوں کے موجود ہونے کے بعد يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ کيا کوئي ان عادات و اطور کے باوجود رسول خدا کا خليفہ ہوسکتا ہے ؟ اورکيا وہ تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل بن سکتا ہے ؟
افسوس کہ کچھ مسلمانوں نے ان عادات و اطوار کو قبول کرليا اور وہابيوں کا ايک گروہ ،مسلمانوں کے ساتھ تندخوئي اور سخت کلامي سے پيش آتا ہے ، يہ نہيںبلکہ ان کو قتل کرتے ہيں ،بمبوں کے ذريعہ مسلمانوں کے مرد اور عورتوں کو قتل کرتے ہيں اور اس طرح سے اسلام کے حقيقي چہرے کو خراب کررہے ہيں ?
اہل سنت کے تمام علماء اور دانشورں کو خليفہ دوم کي اس تندخوئي اور سخت کلامي پر تنقيد کرنا چاہئے اوراس کي ان عادات کو اسلام سے مربوط نہ کريں، اورحقيقت کي تلاش کرنے والے جوانوں کو اس طرح کي متضاد عمل سے آگاہ کريں ، سب کو پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي بہترين عادات و اطوار سے آشنا کريں ? اس طرح دوسرے مذاہب کے مسلمانوں ميںايک دوسرے سے تندخوئي اور سخت کلامي ختم ہوجائے گي اورتمام مسلمان ايک دوسرے کے ساتھ مل کر مستکبرين اورظالمين کا مقابلہ کرسکيں گے اور ايک دوسرے سے جنگ کرنے ميں طاقت ختم کرنے کے بجائے ايک دوسرے سے محبت کريں گے اور اپني طاقت کو اسلامي ممالک کو دشمنوں کے ہاتھوں سے بچانے ميں ايک دوسرے کي مدد کريں گے ?
خليفہ دوم کي تندگوئي اور سخت کلامي کو چار حصوں ميں تقسيم کريں گے :
?? پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے زمانہ ميں عمر کا تندرويہ
?? سقيفہ کا واقعہ
?? خلافت کے دوران مسلمانوں سے تندخوئي اور سخت کلامي
?? اپنے اہل وعيال کے ساتھ سخت کلامي
اس مقالہ ميں کوشش کي گئي ہے کہ اہل سنت کي کتابوں سے تمام واقعات کو بيان کئے جائيں تاکہ مذہبي تعصب کا احتمال باقي نہ رہے ?


?? پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے زمانہ ميں عمر کا تند رويہ


پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے زمانہ ميں خليفہ دوم کا تندرويہ تواريخ ميں نقل ہوا ہے ، چاہے يہ تندرويہ دوسروں کے ساتھ ہو يا پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے سامنے انجام پايا ہو ، يہاں پر ہم چند نمونوں کي طرف اشارہ کريں گے :


الف : اپني مسلمان کنيز کو اذيت پہنچانا


مشہور مورخ ابن اثير نے اپني تاريخ ميں ان مسلمانوں کا ذکر کيا ہے جن کو بہت زيادہ اذيت اور شکنجے دئيے گئے ،ان ميں سے بني مومل کي ايک خاتون ”لبيبہ“ کا نام ذکر کيا ہے جو عمر کي کنيز تھي? انہوں نے اس کے متعلق لکھا ہے : ” اسلمت قبل اسلام عمر بن الخطاب و کان يعذبھا حتي تفتن ، ثم يدعھا و يقول : اني لم ادعک لا سآمة“? وہ کنيز،عمر بن خطاب سے پہلے مسلمان ہوگئي تھي ، عمر اس کو اذيت ديتا تھااور کہتا تھا کہ اپنے دين کي طرف واپس آجائے(اور جب تھک جاتا تھا)اس کو چھوڑ ديتا تھا اور اس سے کہتے تھا کہ ميں نے تجھے اس لئے چھوڑ ديا کہ ميں تجھے مارتے مارتے تھک گيا ہوں(?) ?
ابن ہشام نے بھي اس واقعہ کو نقل کيا ہے اور لکھا ہے : عمر اس کو اس قدر مارتاتھا کہ خود تھک جاتا تھا ،اس کے بعدکہتا ہے : ” اني اعتذر اليک، اني لم اترکک الا ملالة“ ? (ميں تجھے نہ مارنے کي معذرت چاہتا ہوں کيونکہ ميںتھک گيا ہوں) ? ميں تجھے اس لئے نہيں مار رہاہوں کيونکہ ميں تھک گيا ہوں ?
پھر مزيد کہتا ہے : ايک روز ابوبکر نے اس کو مارتے ہوئے ديکھ ليا توابوبکر نے اس کنيز کو خريد کر آزاد کرديا (?) ?
ابن کثير نے اس جگہ بھي اس واقعہ کو بيان کيا ہے جہاں اس نے ان لوگوں کے نام بيان کئے ہيں جنہيں ابوبکر نے خريد کر آزاد کيا ہے (?) ?


ب : اپني مسلمان بہن کو مارنا


سيرت اور تاريخ کي کتابوں ميں جہاں پر عمر کے ايمان لانے کا سبب بيان کيا گيا ہے وہاں پر ايک واقعہ نقل ہوا ہے جس سے عمر کي تندروي کامل طور سے واضح ہوجاتي ہے ?
جس وقت عمر کو اپني بہن فاطمہ اور بہنوئي سعيد بن زيد کے مسلمان ہونے کي خبر ملي تو وہ ان کے گھر گيا تو وہ قرآن کي تلاوت کررہے تھے ،عمر کو ديکھ کر انہوں نے وہ نوشتہ چھپاليا ? عمر نے ان سے کہا : ميں نے سنا ہے کہ تم نے محمد کے دين کو قبول کرليا ہے ،اس کے بعد اپنے بہنوئي پرحملہ کيا ، اس کي بہن فاطمہ دفاع کے لئے آگے بڑھي تو عمر نے اس کو اس قدر مارا کہ اس کے جسم سے خون جاري ہوگيا ”فقامت فاطمة لتکفہ عنہ فضربھا فشجھا“? اس کے بعد پشيمان ہوتا ہے اور قرآن کي آيات کوديکھ کر مسلمان ہوجاتا ہے(?) ?
ج : ابوہريرہ پر حملہ اور رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) پر اعتراض
مسلم نے اپني صحيح ميں ايک روايت نقل کي ہے : پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے ابوہريرہ سے فرمايا : جس کو بھي خدا کي وحدانيت کي گواہي ديتے ہوئے ديکھو اور وہ اس پر دل وجان سے اعتقاد رکھتا ہو اس کو بہشت کي بشارت دو ?
ابوہريرہ کہتا ہے : ميں وہاں سے اٹھ کر چلا ،سب سے پہلے ميري ملاقات عمر سے ہوئي ، ميں نے پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي حديث اس کو سنائي ، اچانک اس نے مجھ پر حملہ کيا اور اتني زور سے ميرے سينہ پر مارا کہ ميں پيٹھ کے بل نيچے گرگيا ” فضرب عمر بيدہ بين ثديي فخررت لاستي“? اس کے بعد مجھ سے کہا : واپس جاؤ?
ميں روتا ہوا پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي خدمت ميں پہنچا اور وہ بھي ميرے پيچھے وہاں آگيا ? پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے فرمايا : کيا ہوا؟ ميں نے پورا واقعہ سنايا ? رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے عمر پر اعتراض کيا کہ ايسا کيوں کيا؟اس نے رسول اکرم سے عذرخواہي کے بجائے کہا : ”فلا تفعل فاني اخشي ان يتکل الناس عليھا“ ? ايسے احکام صادر نہ کرو ! مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسي بات پر تکيہ نہ کرليں اور عمل کرنا چھوڑ ديں ، ليکن رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے اپني بات پرمصر رہے(?) ?
آپ نے ملاحظہ کيا کہ رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے لوگوں کو توحيد کي طرف راغب کرنے کيلئے ان کو يہ بشارت دي ، البتہ ايسا ايمان جس کو وہ دل وجان سے قبول کرتے ہوں ? ليکن عمر نے رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے حکم کے سامنے استقامت کي ، ابوہريرہ کے طمانچہ مارا اور رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) پرايسے حکم کي وجہ سے اعتراض کيا ?
 


د : پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي طرف حملہ


جس وقت مشہور منافق عبداللہ بن ابي کا انتقال ہوا تو اس کا بيٹا پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے پاس آيا کہ آنحضرت اس کے باپ کے جنازہ پر نماز پڑھ ديں، يہ بات مدنظر رہے کہ عبداللہ بن ابي ظاہرا مسلمان تھا اور شہادتين کو زبان پر جاري کرتا تھا اور ابھي رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کو اس جيسے کے متعلق کوئي خاص حکم،خداوندعالم کي طرف سے نہيں ملا تھا، لہذا آپ اس کي نماز کے لئے حاضر ہوگئے ? اہل سنت کي صحاح ستہ کي روايت کے مطابق جس کو کبھي عبداللہ بن عمر سے اور کبھي خود عمر سے نقل کيا ہے ، ايک روايت ميں بيان ہوا ہے کہ عمر نے رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) پر حملہ کيا اور آپ کو اس پر نماز پڑھنے کو منع کيا ?
بخاري کے مطابق عبداللہ بن عمر نے کہا : ” فلما اراد ان يصلي عليہ جذبہ عمر“ ? جس وقت رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابي پر نماز پڑھنا چاہي تو عمر نے آنحضرت (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کو کھينچ ليا، پھر آپ سے کہا : خداوند عالم نے آپ کو منافقين پر نماز پڑھنے سے منع کيا ہے ?
رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے فرمايا : خداوند عالم نے مجھے اختيار ديا ہے اور فرمايا ہے : ” اسْتَغْفِرْ لَہُمْ ا?َوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ ا?ِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ“ ? آپ ان کے لئے استغفار کريں يا نہ کريں -اگر ستر ّمرتبہ بھي استغفار کريں گے تو خدا انہيں بخشنے والا نہيں ہے(?) ?
اس بات کي طرف اشارہ ہے کہ ميري نماز سے اس کو کوئي فائدہ پہنچنے والا نہيں ہے(?) (اور ميں نے مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے يہ کام کيا ہے) ?
ايک دوسري روايت کے مطابق بيان ہوا ہے : ”فاخذ عمر بن الخطاب بثوبہ فقال : تصلي عليہ و ھو منافق“ ? عمر نے پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کا پيراہن پکڑ کر کہا ايسے شخص پر نماز پڑھ رہے ہو جو منافق ہے (??) ?
ايک دوسري روايت کے مطابق جس کو خود عمر سے نقل کيا ہے ،ذکر ہوا ہے : ” وثبت اليہ“ ? ميں پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي طرف جھپٹااورکہا : اس کے اوپر کيوں نماز پڑھ رہے ہو؟ ! ? رسول خدا نے تبسم کيا اورفرمايا يہاں سے چلے جاؤ، ليکن ميں اسي بات کي تکرار کرتا رہا(??) ?
اس نے اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہا : ”فعجبت من جراتي علي رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) “ ? مجھے رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے سامنے اپني جرائت اور جسارت پر تعجب ہوتا ہے (??) ?
يہ بات واضح ہے کہ رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کوئي بھي کام اللہ کي اجازت کے بغير انجام نہيں ديتے اور آپ کے ہر قول ، فعل اور رفتار ميں وحي کا دخل ہوتا ہے اور مسلمانوں کو بھي آنحضرت کے قول،فعل اور عمل پر اعتراض کرنے کا حق نہيں ہے ? قرآن کريم فرماتا ہے : ” وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ ا?ِذا قَضَي اللَّہُ وَ رَسُولُہُ ا?َمْراً ا?َنْ يَکُونَ لَہُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ ا?َمْرِہِمْ وَ مَنْ يَعْصِ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً مُبينا“ ? اور کسي مومن مرد يا عورت کو اختيار نہيں ہے کہ جب خدا و رسول کسي امر کے بارے ميں فيصلہ کرديں تو وہ بھي اپنے امر کے بارے ميں صاحبِ اختيار بن جائے اور جو بھي خدا و رسول کي نافرماني کرے گا وہ بڑي کھاَلي ہوئي گمراہي ميں مبتلا ہوگا(??) ?
اسي طرح دوسري جگہ فرماتا ہے : ”يا ا?َيُّہَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا ا?َصْواتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ ا?َنْ تَحْبَطَ ا?َعْمالُکُمْ وَ ا?َنْتُمْ لا تَشْعُرُون “ ? ايمان والو خبردار اپني آواز کو نبي کي آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز ميں بات بھي نہ کرنا جس طرح آپس ميں ايک دوسرے کو پکارتے ہو کہيں ايسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائيں اور تمہيں اس کا شعور بھي نہ ہو(??) ?
مذکورہ واقعہ ميں آپ نے ديکھا کہ خليفہ دوم نے اپنے اعتراض کو اس حدتک پہنچاديا کہ رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي طرف حملہ کيا اور آپ کے پيراہن کو پکڑ کر کھينچا اور رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے حکم کے سامنے اصرار کرتا رہا اور بعد ميں خود بھي اپني جسارت اور جرائت پر تعجب کيا ?
 


ھ : پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) پر ناروا تہمت


صدر اسلام کے تلخ ترين واقعات ميں سے ايک واقعہ وہ ہے جوپيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي زندگي کي آخري جمعرات کو پيش آيا ، اس روز پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) مريض تھے اور اس کے کچھ دن بعد آپ کي رحلت ہوگئي ،آپ نے وہاںپر موجود افراد سے فرمايا : مجھے قلم و دوات لاکر ديدو تاکہ ميں تمہارے لئے ايک ايسا نوشتہ لکھ دوں جس کے بعد تم کبھي گمراہ نہيں ہوں گے ?
رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي بات کو پورا کرنے کے بجائے عمر نے کہا : ”ان النبي (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) غلبہ الوجع و عندنا کتاب اللہ حسبنا“ ? پيغمبرا کرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) پر بيماري کا غلبہ ہوگيا (اور ان کو نہيں معلوم کہ وہ کيا کہہ رہے ہيں) خدا کي کتاب جو ہمارے پاس موجود ہے وہ ہمارے لئے کافي ہے ?
رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے سامنے بحث ونزاع شروع کردي ،کچھ لوگوں نے کہا پيغمبر اکرم کو لکھنے دو اوربعض لوگوں نے اس کي بات کو دہرايا ،پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے ان کو حکم ديا کہ يہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ اورمجھے تنہا چھوڑ دو ?
آپ يہ نہ سمجھيں کہ يہ واقعہ ايک افسانہ يا خبر واحد ہے بلکہ مختلف تعبير کے ساتھ اہل سنت کي صحاح ستہ اور مسانيد ميں بارہا تکرار ہوا ہے ، بخاري نے چھے جگہ (کبھي عمر کے نام کي تصريح کرتے ہوئے اور کبھي جمع کا صيغہ استعمال کرتے ہوئے ذکر کيا ہے )اور مسلم نے تين جگہ اس واقعہ کو نقل کيا ہے (??) ?
قارئين گرامي آپ کس طرح سے اس مشہور اور موثق خبر کو برداشت کرسکتے ہيں اور اس کي کيا تفسير بيان کرسکتے ہيں ، اس کا فيصلہ آپ کے بيدار ذہنوں پر چھوڑديتے ہيں ? (اس واقعہ کي مفصل بحث اور اس کي متعدد اسناد کو اسي مقالہ کي ”حديث دوات وقلم“ کي بحث ميں مطالعہ کريں ) ?
 


?? سقيفہ کا واقعہ


سقيفہ کا واقعہ خود ايک طولاني واقعہ ہے ا ور تاريخ اسلام ميں اس پر سواليہ نشان لگايا ہے ، جس کو مستقل بيان کرنے کي ضرورت ہے ? ليکن اس واقعہ ميں اور اس واقعہ کے بعد خليفہ دوم کا غصہ اور سخت کلامي اچھي طرح سے واضح ہوجاتي ہے ?
جس وقت سقيفہ بني ساعدہ ميں تمام انصار جمع ہوگئے اور خلافت کے متعلق گفتگو شروع ہوگئي تو اس کي خبر عمر تک پہنچي ،وہ ابوبکر اورابوعبيدہ جراح کو اپنے ساتھ لے کر سقيفہ پہنچ گيا ، وہاں پر ابوبکر نے ايک خطبہ ديا اس کے بعد حباب بن منذر اور عمر کے درميان سخت کلامي ہوئي اور ايک نے دوسرے کو ڈرايا اور دھمکايا اور آخر کار اوس و خزرج کي ہميشہ کي رقابت کي وجہ سے قبيلہ اوس نے يہ سوچتے ہوئے کہ خلافت سعد بن عبادہ اور قبيلہ خزرج تک نہ پہنچے ، جلدي سے ابوبکر کي بيعت کرلي ?
مشہور مورخ طبري اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے جب اس جگہ پہنچتا ہے کہ سقيفہ ميں موجود لوگ بيعت کے لئے ابوبکر کي طرف بڑھے تو اس وقت انہوں نے سعد کو اپنے پيروں سے کچل ديا ،وہ لکھتے ہيں : کسي نے فرياد کي : ”سعد کي حفاظت کرو اس کو پيروں سے نہ مارو!“? عمر نے کہا : ”اقتلوہ قتلہ اللہ“? اس کو قتل کردو ، خدا بھي اسے قتل کرے ? ،اس کے بعد سعد کے سراہانے آيا اور کہا : ميں تجھے اس قدر مارتا کہ تيري ہڈياں ٹوٹ جاتيں!! (??) ?
بخاري کے مطابق عمر اس واقعہ کو بيان کرتے ہوئے کہتا ہے : جب سعد کو ہاتھوں اور پيروں سے مارا گيا اور کچھ لوگوں نے کہا : سعد بن عبادہ کو قتل کردو تو ميں نے کہا : ”قتل اللہ سعد بن عبادہ“ ? خداوند عالم سعد بن عبادہ کو قتل کردے (??? ) ? اور اس طرح اس نے لوگوں کو اس کام کے لئے ترغيب و تشويق کيا ?
ايک دوسرے نقل کے مطابق اس نے کہا : ” قتلہ اللہ ! انہ منافق“ ? خداوند عالم اس (سعد)کو قتل کرے وہ منافق ہے !(??) ?
ابوبکر کي خلافت کے اثبات اور بيعت کے واقعہ ميں عمر کي تندخوئي کامل طور سے واضح ہے ?
اہل سنت کے مشہور مورخ طبري کے مطابق انصار نے کہا : ہم علي (عليہ السلام) کے علاوہ کسي کي بيعت نہيں کريں گے اور جب عمر کو معلوم ہوا کہ کچھ اصحاب اور مہاجرين حضرت علي (عليہ السلام) کے گھر ميں جمع ہيں تو آپ کے گھر کي طرف روانہ ہوا ، آپ کے گھر ميں طلحہ ، زبير اور کچھ دوسرے مہاجرين وانصار موجود تھے (جنہوں نے ابوبکر کي بيعت نہيں کي تھي) ،اس نے ان سب سے کہا : ”واللہ لاحرقن عليکم او لتخرجن الي البيعة“? خدا کي قسم ! اگر تم بيعت کے لئے اس گھر سے باہر نہيں نکلو گے تو اس گھر ميں آگ لگا دوں گا ! (??) ?
بلاذري کے مطابق ،عمر ايک مشعل جلا کر علي (عليہ السلام) کے گھر کي طرف روانہ ہوا ، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ عليہا) کو گھر کے دروازے کے نزديک ديکھا، حضرت فاطمہ نے اس سے فرمايا : ”يابن الخطاب! اتراک محرقا علي بابي؟“? تو ميرے گھر کو جلانا چاہتا ہے؟ اس نے صراحت کے ساتھ کہا : ”نعم و ذلک اقوي فيما جاء بہ ابوک“ ? جي ہاں اور يہ کام اس ہدف کے لئے ضروري ہے جس کے لئے آپ کے والد آئے تھے (??) ?
ابن ابي شيبہ کے مطابق اس نے حضرت فاطمہ (عليہا السلام) سے کہا : ”وايم اللہ ما ذاک بمانعي ان اجتمع ھولاء النفر عندک، ان امرتھم انيحرق عليھم البيت“? خدا کي قسم يہ مسئلہ (ہمارے نزديک تمہاري اور والد کي محبت ) کبھي بھي ہميں اس کام سے منع نہيں کرسکتا کہ اگر يہ چند لوگ(علي (عليہ السلام)، زبير وغيرہ???) اسي طرح تمہارے گھر آتے رہے تو حکم دوں گا کہ اس گھر کو آگ لگادي جائے (??) ?
اسي تندخوئي کي وجہ سے بخاري کے مطابق ، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ عليہا) کي وفات کے بعد جس وقت حضرت علي نے ابوبکر کو بلوايا تواس سے کہا کہ اپنے ساتھ کسي کو مت لانا، اسي کي وجہ يہ تھي کہ وہ عمر کو پسند نہيں کرتے تھے ”فارسل الي ابي بکر ان ائتنا و لا يا تنا احد معک، کراھيہ لمحضر عمر“? (??) ?
طبري اور ابن کثير کي عبارت ميں واضح تعبير بيان کي گئي ہے کہ علي (عليہ السلام) نے ابوبکر سے کہا : اکيلے آنا کيونکہ آپ اس کو عمر کے ساتھ بلانا نہيں چاہتے تھے ? اس لئے کہ آپ عمر کي تندخوئي سے آگاہ تھے ” وکرہ ان ياتيہ عمر، لما علم من شدة عمر“ (??) ?
سقيفہ کے واقعہ ميںاس کي تندخوئي اور سخت کلامي کا واقعہ بہت طولاني ہے (يہ بات بھي ياد رہے کہ مذکورہ بالا جو باتيں ہم نے بيان کي ہيں وہ سب اہل سنت کي مشہور کتابوں سے بيان کي ہيں) ?

?? خلافت کے دوران مسلمانوں سے تندخوئي اور سخت کلامي
ابن ابي الحديد معتزلي نے خليفہ دوم کے تعارف ميں لکھا ہے : ”کان عمر شديد الغلظة، و غر الجانب، خشن الملس، دائم العبوس، کان يعتقد ان ذلک ھو الفضيلة و ان خلافہ نقص“? عمر بہت زيادہ تند رو اورسخت کلام تھا،اس کا عقيدہ تھا کہ يہ تند خوئي فضيلت ہے اور اس کے برخلاف نقص و عيب ہے(??) ?
اس کي تندخوئي اس قدر معروف تھي کہ جس وقت ابوبکر کي طرف سے خليفہ معين ہوا تو لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کئے ?
کتاب ”المصنف “ کے مولف ابن ابي شيبہ نے لکھا ہے : ابوبکر نے اپني موت کے وقت حکم ديا کہ عمر کو بلاؤ تاکہ ميں اس کو اپنے بعد خلافت کے لئے منصوب کردوں، لوگوں نے ابوبکر سے کہا : ”اتستخلف علينا فظا غليظا ، فلو ملکنا کان افظ او اغلظ“? تم ہمارے اوپر تند خو اور سخت کلام شخص کو خليفہ بناناچاہتے ہو، اگر وہ خليفہ بن جائے گا تو اور بھي زيادہ تند خو اور خشن ہوجائے گا(??) ? ابن ابي الحديد کے مطابق طلحہ نے بھي ابوبکر پر اعتراض کيا اورکہا : ”ماانت قائل لربک غدا و قد وليت علينا فظا غليظا“? تم قيامت کے روز خدا کو کيا جواب دو گے کيونکہ تم نے ايک تندخو انسان کو ہمارے اوپر ولايت دي ہے؟ (??) ?
اميرالمومنين علي (عليہ السلام) نے بھي خطبہ شقشقيہ (نہج ا لبلاغہ کے تيسرے خطبہ)ميں اسي نکتہ کي طرف اشارہ کيا ہے : ”فصيرھا في حوزة خشناء يغلظ کلمھا و يخشن مسھا“? آخر کار ابوبکر نے خلافت کو ايسے شخص کے حوالہ کردي جو تند خو سخت گير تھا ?
شايد اسي وجہ سے خود عمر نے (کتاب ”الطبقات“ ميں اہل سنت کے مشہور دانشور ابن سعدکے قول کے مطابق) خلافت ملنے کے بعد منبر پر سب سے پہلے يہي کلمہ جاري کئے : ”اللھم اني شديد (غليظ) قليني ، و اني ضعيف فقوني ، و اني بخيل فسخني“ ? خدايا ميں تند خو ہوں لہذا مجھے نرم اور ملائم قرار دے! ميں ضعيف ہوں ، مجھے قوي بنا دے ! اورميں بخيل ہوں مجھے سخي بنادے (??) ?
ليکن خلافت کے زمانہ ميں اس کي سوانح حيات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپني تندخوئي اور سخت کلام کو چھوڑ نہيں سکا ? يہاں پر اہل سنت کي مشہور کتابوں سے خليفہ دوم کي کچھ خصوصيات کو نقل کريں گے :
 


وحشت انگيز تازيانہ


لوگ اس کے تازيانہ مارنے اورخود اس سے اس طرح وحشت کرتے تھے( ”شربيني“ اور ”شرواني“ (اہل سنت کے دو بزرگ فقہاء) کے مطابق ) جس طرح حجاج کي تلوار اور تازيانہ سے ڈرتے تھے (کانت درة عمر اھيب من سيف الحجاج) (??) ?
اسي طرح عمرکا اس وصف کے ساتھ تعارف کرايا ہے کہ سب سے پہلے جس نے تازيانہ اٹھايا اور اس سے مارا وہ عمر تھا (??) ?
وہ اپنے تازيانہ سے عورتوں، مردوں، بچوں،جوانوں اورچھوٹے بڑے سب کو مارتا تھا ? تواريخ کي بعض کتابوں کے مطابق اس عمل کي وجہ سے بچے اس کو ديکھ کر بھاگ جاتے تھے (??) ?
 


بچے کو حقير کرنے کے لئے مارنا


ايک روز عمر بن خطاب کا ايک بچہ اس کے پاس آيا اس نے خوبصورت قميض پہن رکھي تھي اور بالوں ميں کنگھا کررکھا تھا ? عمر نے اس کے ايسا تازيانہ مارا جس سے وہ بچہ رونے لگا”فضربہ عمر بالدرة حتي ابکاہ“? حفصہ (عمر کي بيٹي) اس واقعہ کو ديکھ رہي تھي اس نے کہا : اس بچہ کوکيوں مار رہے ہو؟ اس نے جواب ديا : ميں نے ديکھا کہ وہ اپني اس حالت سے خوش ہے ميں نے چاہا کہ اس کو حقير وذلي کروں !! ” رايتہ قد اعجبتہ نفسہ، فاحببت ان اصغرھا اليہ“? (??) ?


گريہ وزاري کرتي ہوئي عورتوں پرحملہ


?? ابوبکر کے مرنے کے بعد اس کي رشتہ دار عورتيں گريہ کررہي تھيں، ? عمر نے ان سے خاموش ہونے کو کہا ? ليکن انہوں نے اس کي بات نہيں سني، عمر نے حکم ديا ان سب عورتوں کو باہر نکالو، جس وقت ابوبکر کي بہن ام فروہ کو باہر نکال کر خليفہ کے پاس لائے تو عمر نے اس کو تازيانہ مارا ” فعلاھا بالدرة ، فضربھا ضربات“ (??) ?
کنز العمال کے قول کے مطابق جن عورتوں کو باہر نکالتے تھے عمر ان سب کے تازيانے لگاتا تھا (??) ?
?? خالدبن وليدکے مرنے کے بعد کچھ عورتيں ميمونہ (پيغمبرا کرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي ايک زوجہ)کے گھر جمع ہوکر رونے لگيں، عمر تازيانہ لے کر ابن عباس کے ساتھ وہاں آيا اور ابن عباس سے کہا : گھر ميں داخل ہو کر ام المومنين سے کہو کہ پردہ کرليں، اس کے بعد وہاں سے عورتوں کو باہر نکالو ! ابن عباس نے داخل ہو کر عورتوں کو باہر نکالا ، عمر نے ان کے تازيانے لگائے ”  فعجل يخرجھن عليہ و ھو يضربھن بالدرة“? جس وقت وہ عورتوں کو مار رہے تھے ايک عورت کے سر سے چادر ہٹ گئي (اور اس کے بال کھل گئے) بعض لوگ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے عمر سے کہا : اے اميرالمومنين ! اس کا سر کھل گيا ہے ! اس نے جواب ديا اس کو چھوڑ دو ، اس کا کوئي احترام نہيں ہے ”  فقالوا : يا اميرالمومنين ! خمارھا ! فقال : دعوھا و لا حرمة لھا“?
عبدالرزاق صنعاني نے اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد اپنے استاد معمر سے نقل کيا ہے کہ ”کان معمر يعجب من قولہ : لا حرمة لھا“? معمر نے عمر کي اس بات (کہ اس کے سر سے چادر اتر گئي)پر کہ اس کا کوئي احترام نہيں ہے بہت تعجب کيا!(??) ?
مسند احمد کے نقل کے مطابق رسول اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي بيٹي رقيہ کي رحلت کے بعد عورتيں اس کے فراق ميں رو رہي تھيں، عمر وہاں پر موجود تھا اور عورتوں کے تازيانے مارر ہا تھا ”فجعل عمر يضربھن بسوطہ“ ? رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے عمر سے فرمايا : ” دعھن بيکين“ ان کو رونے دو، البتہ عورتوں کو ان کے غلط کام سے روکنا چاہئے (??) ?
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کي يہ عادت ، رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے زمانہ سے تھي اور اگر اس کو کوئي چيز غلط لگتي تھي تو اس کو رسول خدا کي اجازت کے بغير انجام ديتا تھا ?

خوف و وحشت کي وجہ سے ايک عورت کا شلوار ميں ...
عبدالرزاق صنعاني نے اپني کتاب ميں نقل کيا ہے کہ عمر عورتوں کي صفوں ميں گھوم رہا تھا کہ کسي عورت سے خوشبو کو محسوس کرے ?عمر نے کہا : ” لو اعلم ايتکن ھي، لفعلت و لفعلت? اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کس عورت نے خوشبو (عطر) استعمال کيا ہے تو ميں اس کے ساتھ ايسا کرتا ! اس کے بعد کہتا ہے : ہر عورت اپنے شوہر کے لئے اپنے آپ کو خوشبو سے معطر کرے ? ليکن جب گھر سے باہر نکلے تو ضروري ہے کہ اپني کنيز کے پرانے کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکلے ?
اس واقعہ کا راوي کہتا ہے : ”بلغني ان المراة التي کانت تطيبت بالت في ثيابھا من الفرق“ ? مجھے خبر ملي ہے کہ جس عور ت نے خوشبو او رعطر استعمال کيا تھا اس کا خوف و وحشت کي وجہ سے پيشاب نکل گيا(??) ?

خوف و وحشت کي وجہ سے ايک دوسري عورت کا بچہ سقط ہوگيا
اہل سنت فقہاء نے ديات کي کتاب ميں لکھا ہے کہ ايک روز عمر نے حاملہ عورت کے پاس کسي کو بھيجا تاکہ اس پر جو تہمت لگي تھي اس کي تحقيق کرے ? عورت نے عمر کا نام سن کر کہا : ” يا ويلھا مالھا و لعمر“ ? اس عورت پر وائے ہو (اپني طرف اشارہ ہے) اس کو عمر سے کيا کام؟ بہر حال وہاں سے روانہ ہو کر عمر کے پاس آئي ، راستہ ميں خوف و وحشت کي وجہ سے اس کا بچہ سقط ہوگيا اور مرگيا ” فالقت ولدا فصاح الصبي صيحتين ثم مات“?
عمر نے رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے اصحاب سے اس کے حکم کے بارے ميں سوال کيا ، بعض نے کہا : تجھ پر کچھ نہيں ہے ، اس وقت حضرت علي (عليہ السلام) خاموش کھڑے تھے ? عمر نے آپ کي طرف ديکھا اور پوچھا : آپ کي کيا رائے ہے؟ علي (عليہ السلام) نے فرمايا : اگر ان کي رائے يہي تھي جو انہوں نے بيان کي ہے تو ان سب نے غلطي کي ہے اور اگر انہوں نے تجھے خوش کرنے کے لئے ايسي بات کہي ہے تو يہ تيرے خيرخواہ نہيں ہيں ? اس کا حکم يہ ہے کہ اس سقط شدہ بچے کي ديت تجھ پر ہے کيونکہ تو نے اس عورت کوڈرايا ہے جس کي وجہ سے اس کا بچہ سقط ہوگيا ”لانک انت افزعتھا فالقت“ (??) ?

 


اپني رائے ظاہر کرنے سے وحشت

 


تاريخ کے متعدد واقعات اس بات کي گواہي ديتے ہيں کہ بعض صحابہ ،خليفہ دوم کے ڈر کي وجہ سے اپني رائے کو بيان نہيں کرتے تھے اور اگر کبھي اظہار کرتے تھے تو عمر کي تند روئي کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور خاموش ہوکر بيٹھ جاتے تھے ? اس طرح کے کچھ واقعات کو يہاں پر بيان کريں گے :
?? ابن ابي الحديد معتزلي نقل کرتے ہيں کہ عبداللہ بن عباس ،عمر کي خلافت کے زمانہ ميں عول (ميراث کي بحث سے مربوط ايک موضوع) کے باطل ہونے کو بيا ن نہيں کرتے تھے اور خليفہ کے مرنے کے بعد اس کو بيان کرتے تھے ،ابن عباس سے کہا گيا : ”ھلا قلت ھذا في ايام عمر؟ قال ھبتہ“? عمر کے زمانہ ميں تم نے يہ بات کيوں نہيں کہي؟ انہوں نے جواب ديا : ميں اس سے ڈرتا تھا (کيونکہ يہ بات اس کے نظريہ کے مخالف تھي)(??) ?
?? عمر بن خطاب کے مرنے کے بعد ابوہريرہ ہميشہ کہتا تھا : ”اني لاحدث احاديث لو تکلمت بھا في زمن عمر او عند عمر لشج راسي“ ? ميں اب وہ حديثيں بيان کررہا ہوں جن کو اگر عمر کے زمانہ ياعمر کے سامنے بيان کرتا تو وہ ميرا سر توڑديتا! (??) ?
ابوسلمہ کہتا ہے : ميں نے ابوہريرہ سے سنا ہے : ”ما کنت نستطيع ان نقول : ”قال رسول اللہ،حتي قبض عمر“ ? جب تک عمر زندہ تھا ہم يہ نہيں کہہ سکتے تھے کہ رسول اللہ نے اس طرح فرمايا ہے !! (??) ?
?? مسلم نے اپني صحيح ميں نقل کيا ہے کہ ايک شخص عمر کے پاس آيا اور کہا : ميں محنب ہوگيا ہوں اور مجھے پاني نہيں ملا (ميرا وظيفہ کيا ہے؟) عمر نے جواب ديا : نماز نہ پڑھو! ? حضرت عمار وہيں پر موجود تھے انہوں نے کہا : اے اميرالمومنين ! کيا تمہيں ياد نہيں ہے کہ ايک روز ميں اور تم جنگ ميں (رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم)) کے ساتھ تھے اور مجنب ہوگئے تھے ، ليکن غسل کے لئے پاني نہيں ملا تو تم نے نماز نہيں پڑي اور ميں نے مٹي سے تيمم کرکے نماز پڑھ لي تھي ، جب ہم رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي خدمت ميں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ ان کو سنايا تو پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے فرمايا : اگر پاني نہ ملے تو اپنے ہاتھوں کو زمين پر مارو اور پھر ان کو جھاڑ کر اپنے چہرے پر اور ہاتھ کي پشت پر مسح کرو ?
عمر نے عمار کي بات کو سنن کر اپنے نظريہ پر اصرار کرتے ہوئے کہا : اے عمار ! خدا سے ڈرو (اور ايسي بات مت کہو) ?
عمار نے کہا : اگر تم چاہتے ہو تو ميں اس حديث کو نقل نہيں کروں گا ( فقال عمر : اتق اللہ يا عمار ! قال : ان شئت لم احدث بہ“ (??) ? ہم جانتے ہيں کہ اس واقعہ ميں حق عمار کے ساتھ ہے اور رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے حکم نے حجت کو تمام کرديا ہے اور قرآن کريم بھي تصريح کرتا ہے کہ ايسي صورت ميں تيمم کرو (??) ?
يہ واقعات بتاتے ہيں کہ بعض اصحاب ، عمر سے تقيہ کرتے تھے يا کچھ مسائل کو بيان نہيں کرتے تھے يا اس کي شدت اور تندخوئي کي وجہ سے خاموش رہتے تھے ?
 


حديث نقل کرنے کي وجہ سے اصحاب کو قيد کرنا

 

عمر ،رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي احاديث کو نقل کرنے سے منع کرتے تھے اور اس سلسلہ ميں اصحاب کے ساتھ بہت زيادہ برا سلوک کرتے تھے ، يہاں تک کہ انہوں نے بعض اصحاب کو قيد کرديا ?
ذہبي نے نقل کيا ہے کہ عمر نے تين بزرگ اصحاب : ”ابن مسعود“ ، ”ابو الدرداء“ اور ” ابومسعود انصاري“ کو رسول اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي احاديث نقل کرنے کي وجہ سے قيد کرديا (??) ?
حاکم نيشاپوري نے بھي نقل کيا ہے کہ خليفہ دوم نے ابن مسعود،ابوالدرداء اور ابوذر کو حديث نقل کرنے کي وجہ سے مدينہ سے باہر نکلنے سے منع کرديا اور عمر کے مرنے تک يہ ممنوعيت باقي رہي (??) ?
 


زمين پراللہ کا سلطان


بلاذري اورطبري کے بقول عمر کے پاس کچھ مال لايا گيا تاکہ وہ اس کو تقسيم کردے ، لوگ جمع ہوگئے ، سعد بن ابي وقاص (مشہور صحابي) لوگوں کو ہٹاتے ہوئے عمر کے پاس پہنچے ? جب آپ عمر کے پاس پہنچے تو ان کو تازيانہ سے مارا اور کہا : تم اس طرح ميرے پاس آئے ہو جس طرح زمين پر اللہ کے سلطان سے نہيں ڈرتے؟ ”فعلاہ عمر بالدرة و قال : انک اقبلت لاتھاب سلطان اللہ في الارض“ (??) ?
 


تند رو انسان اچھے لگتے تھے


ابن عبد ربہ اندلسي کے بقول ربيع بن زياد حارثي کہتا ہے کہ ميں عمر کے زمانہ ميں بصرہ کے والي ابوموسي اشعر ي کي طرف سے بحرين ميں حاکم تھا ? عمر نے ابوموسي کو خط لکھا کہ اپنے تمام گورنروں کے ساتھ مدينہ آؤ ، جب ہم مدينہ پہنچے تو عمر کے پاس جانے سے پہلے ميں اس کے غلام ”يرقا“ سے پوچھا کہ عمر کو کونسي عادت اچھي لگتي ہے ؟ اس نے کہا عمر کو تندروئي اورسخت کلامي اچھي لگتي ہے ، لہذا ميں بہت ہي تندروئي کے ساتھ وہاں پہنچا اور ميں اس کو بہت اچھا لگا ،اس نے ابوموسي سے کہا کہ دوبارہ مجھے اس جگہ کا والي بنا کر بھيج دے (??) ?
 


ايک سال انتظار کرنا !


بخاري اور مسلم نے اپني کتاب ميں ابن عباس سے نقل کيا ہے کہ ابن عباس نے کہا : ميں نے ايک آيت کا شان نزول معلوم کرنے کے لئے ايک سال انتظار کيا، ميں ان کے ڈر اور خوف کي وجہ سے سوال نہيں کرسکتا تھا ” فما استطيع ان اسالہ ھيبة لہ“ ? يہاںتک کہ ايک مرتبہ حج کے سفر ميں ان کے ساتھ گيا ، واپسي ميںايک وقت وہ آيا جب وہ قضائے حاجت کے لئے درختوں کے پيچھے گئے ميں انتظار کرتا رہا پھر ان کے ساتھ چل ديا ،ميں نے وقت کو غنيمت سمجھتے ہوئے کہا : اے اميرالمومنين ! رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي وہ دو بيوياں کون تھيںجن کے خلاف سب متحد ہوگئے تھے ؟ (??) عمر نے کہا : وہ دو حفصہ اور عائشہ تھيں ?
ابن عباس کہتے ہيں : ميں نے عمر سے کہا : خدا کي قسم ! ميں ايک سال سے اس آيت کے بارے ميں تم سے سوال کرنا چاہتا تھا ليکن تمہارے ڈر سے سوال نہيں کرتا تھا ”واللہ ان کنت لاريد ان اسالک عن ھذا منذ سنة فما استطيع ھيبة لک“ (??) ?

 


ابومطر پرحملہ !


خثيمہ بن مشجعہ نامي شخص جس کي کنيت ”ابومطر“ تھي ، خليفہ کے پاس آيا ? خليفہ نے تازيانہ سے اس پر حملہ کيا اورابومطر اس کے پاس سے بھاگ گيا ”فحمل عليہ بالدرة فھرب من بين يديہ“? اس سے پوچھا گيا : تم کيوں بھاگ گئے ؟ اس نے جواب ديا : ”وکيف لا اھرب من بين يدي من يضربني و لا اضربہ“ ? ميں ايسے شخص کے پاس سے کيوں فرار نہ کروں جو مجھے مارتا ہے اور ميں اس کو نہيں مارسکتا (??) ?
بلاذري نے اس واقعہ کو نقل کيا ہے ليکن ابومطر پر حملہ کي وجہ کو بيان نہيں کيا ہے ?
بلاذري نے ”انساب الاشراف“ اورابن سعد نے ”طبقات“ ميں اور دوسرے مورخين نے ”عمروبن ميمون“ سے خليفہ دوم کا نماز جماعت کو قائم کرنے کا طريقہ نقل کيا ہے : ”وکان عمر لا يکبر حتي يستقبل الصف المتقدم بوجھہ، فان راي رجلا متقدما من الصف او متاخرا، ضربہ بالدرة “? عمر کا کام يہ تھا کہ تکبيرة الاحرام کہنے سے قبل پہلي صف کو ديکھتا تھا ،اگر کوئي صف ميں آگے يا پيچھے ہوتا تھا تو اس کو تازيانہ سے مارتا تھا (تاکہ صف صحيح ہوجائے) (??) ?
 


زبردستي شادي


”عاتکہ“بنت زيد ، عبداللہ بن ابي بکر کي بيوي تھي? عبداللہ نے اس کو بہت زيادہ مال و دولت دي اور اس سے شرط کي کہ ميرے مرنے کے بعد شادي نہ کرنا اس نے بھي قبول کرليا ? عبداللہ کے مرنے کے بعد بہت سے لوگوں نے رشتہ بھيجا ليکن اس نے منع کرديا اور اپنے وعدے پر باقي رہي ، خليفہ دوم نے اس کے سرپرست کے پاس رشتہ بھيجا ، عاتکہ نے خليفہ کو بھي منع کرديا ? اس مرتبہ عمر نے اس عورت کے سرپرست کو حکم ديا کہ اس کي مجھ سے شادي کردو ”فقال عمر : زوجنيھا“ ? اس نے بھي عمر کے حکم پر عمل کيا ? عمر اس عورت کے پاس گيا اور چونکہ وہ عورت اس کي طرف مائل نہيں تھي لہذا اس نے اس کي بات کو قبول نہيں کيا، لہذا وہ اس سے زبردستي کرنے لگا اور اس پر غالب آگيا اور ہمبستري کي ”فاتاھا عمر فدخل عليھا فعارکھا حتي غلبھا علي نفسھا فنکحھا“?
خليفہ دوم نے اپنا کام پورا کرنے کے بعد کہا : اُف ، اُف ، اُف، اُف ، اُف ، اُف ? ان کلمات کے ذريعہ اس سے بيزاري کا احساس کيا اور پھر وہاں سے چلا گيا اور پھر کبھي واپس نہيں آيا، يہاں تک کہ اس کي خدمتکار نے عمر کے پاس پيغام بھيجا کہ آجاؤ ميں اس کو تمہارے لئے آمادہ کروں گي (??) ?
 


عثمان بن حنيف کا سر توڑنا


”ذھبي“ نے اپني کتاب ميں نقل کيا ہے کہ ايک روز عمر بن خطاب اور ”عثمان بن حنيف“ مسجد ميں ايک دوسرے کے ساتھ بحث و گفتگو کررہے تھے اور لوگ بھي ان کے چاروں طرف جمع تھے ? اچانک عمر کو غصہ آگيا اوراس نے کنکرياں اٹھا کر ان کے منہ پر ماري،ان کنکريوں سے عثمان کي پيشاني زخمي ہوگئي ”  فقبض من حصباء المسجد قبضة ضرب بھا و جہ عثمان ، فشج الحصي بجبھتہ آثارا من شجاج“?
عمر نے جب يہ ديکھا کہ عثمان کي پيشاني کے خون سے ان کي ڈاڈھي رنگين ہوگئي تو کہا : اپنے خون کو صاف کرو ”فلما راي عمر کثرة تسرب الدم علي لحيتہ قال : امسح عنک الدم“?
عثمان نے کہا : مت ڈرو ! خدا کي قسم ! تمہاري رعايا (جن کے پاس تم نے مجھے والي بنا کر بھيجاتھا) نے ميري تم سے زيادہ توہين کي ہے ! (??) ?

ابن عباس ! مجھ سے دور ہوجاؤ
طبري اور ابن اثير نے اپني تاريخ ميں ابن عباس سے نقل کيا ہے کہ ايک روز عمر نے مجھ سے پوچھا : کيا تم جانتے ہو کہ محمد (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے بعد تمہاري قوم نے تم (بني ہاشم)تک خلافت کيوں نہيں جانے دي؟? ميں نے اس کي بات کا جواب ديناپسند نہيں کيا ، لہذا ميں نے کہا : اگر مجھے اس کا سبب معلوم نہيں ہوگا تو اميرالمومنين ! (يعني عمر) مجھے اس سے آگاہ کريں گے ? اس نے کہا : کيونکہ لوگ نہيں چاہتے تھے کہ نبوت اور خلافت ايک خاندان ميں جمع ہوجائے اور پھر تم لوگوں پر فخر کرو! اس وجہ سے قريش نے اپنے لئے خليفہ معين کرليا اور وہ کامياب بھي ہوگئے ?
ميں نے کہا : اگر اجازت ہو تو ميں بھي کچھ کہوں، اگر آپ مجھ سے ناراض نہ ہوںتو ميں اس کا سبب بتاؤں ”ان تاذن لي في الکلام و تمط عني الغضب تکلمت“?
عمر نے مجھے اجازت ديدي اور ميں نے بھي کہا : تم نے جو يہ کہا کہ قريش نے اپنے لئے خليفہ معين کرليا اور وہ کامياب بھي ہوگئے تو اگر قريش اس شخص کو خليفہ بناتے جس کو خدا نے منتخب کيا تھا (يعني علي (عليہ السلام)) کو انتخاب کرتے(??) تو اس وقت کامياب ہوتے ? اور تم نے جو يہ کہا کہ قريش اس بات کو پسند نہيں کرتے تھے کہ نبوت اور خلافت ايک خاندان ميںجمع ہوجائے تويہ بھي جان لو کہ خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں اس گروہ کي برائي کي ہے جو خداوند عالم کے حکم کي پيروي نہيں کرتے اور فرماتا ہے: ” ذلِکَ بِا?َنَّہُمْ کَرِہُوا ما ا?َنْزَلَ اللَّہُ فَا?َحْبَطَ ا?َعْمالَہُمْ “ ? يہ اس لئے کہ انہوں نے خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کو برا سمجھا تو خدا نے بھي ان کے اعمال کو ضائع کرديا(??) ?
خليفہ دوم ،ابن عباس کي يہ بات سن کر غصہ ہوگيا اور کہنے لگا: ” ابت واللہ قلوبکم يا بني ہاشم الا حسدا ما يحول، و ضغنا ما يزول“? خدا کي قسم ! تم بني ہاشم کے دلوں ميں ايک حسد ہے جو ختم نہيں ہوتا اور يہ ايسا کينہ ہے جو کبھي ختم نہيں ہوگا!?
ميں نے کہا : اے اميرالمومنين ناراض نہ ہو ! جن دلوں سے خداوند عالم نے رجس اور پليدي کو دور رکھا ہے اور کامل طور سے پاک کرديا ہے تم ان دلوں کو حسادت اور بغض سے تعريف نہ کرو ! کيونکہ پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کا دل بھي بني ہاشم کا دل ہے ”مھلا يا اميرالمومنين ! لا تصف قلوب قوم اذھب اللہ عنھم الرجس وطھرھم تطھيرا (??) بالحسد والغش“?
عمر کو غصہ آگيااورابن عباس کي منطقي بات کے سامنے جواب نہ دے سکا اور کہا : ”اليک عني يا بن عباس“? اے ابن عباس ميرے پاس سے چلے جاؤ? ميں وہاں سے چلنے کے لئے اٹھا تو عمر نے مجھے پکڑ ليا اور پھر ميري دلجوئي کے لئے دوسري باتيں کرنے لگا (??) ?
آپ نے ملاحظہ کيا کہ خليفہ دوم نے بات شروع کي تھي اورابن عباس نے اپني بات کہنے کے لئے اجازت مانگي تھي اور اس سے ناراض نہ ہونے کا وعدہ ليا تھا ، اس کے باوجود خليفہ ان کي منطقي باتوں کے سامنے تاب نہ لا سکے اور ان پر اتہام و الزامات لگانے شروع کردئيے ?

تم ہي خليفہ سے کچھ کہو!
مسلمان ،خليفہ دوم کي تندروي اور سخت کلامي سے اس قدر پريشان ہوگئے تھے کہ طبري اور بلاذري کے مطابق ايک روز کچھ مسلمان جمع ہوگئے اور عبدالرحمن بن عوف سے کہا : ” کلم عمر فانہ قد اخشانا حتي ما نستيطع ان نديم اليہ ابصارنا“ ? عمر سے کہو (ہمارا پيغام اس تک پہنچا دو) اس نے ہميں اس قدر ڈراديا کہ ہم اس کي طرف نظر بھي نہيں کرسکتے (??) ?
يہ بات بھي قابل ذکر ہے کہ ابوبکر نے اپني موت کے وقت عبدالرحمن بن عوف سے عمر کے متعلق سوال کيا توعبدالرحمن بن عوف نے کہا : ” فيہ غلظة“ اس ميں تندخوئي اور سخت کلامي ہے ? ليکن ابوبکر نے جواب ديا : ”لانہ يراني رقيقا و لو افضي اليہ لترک کثيرا مما ھو عليہ“ ? وہ اس لئے سخت کلامي اور تندخوئي سے بات کرتا ہے کيونکہ ميں نرم اور ملائم ہوں، ليکن اگر خلافت اس تک پہنچ جائے تو وہ ان تمام تندخوئي اور سخت کلامي کو چھوڑ دے گا(??) ?
ليکن مذکورہ واقعہ اور گذشتہ مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر کي پيشين گوئي صحيح نہيں تھي اورخليفہ اپنے اسي اخلاق پر باقي رہا !

رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کو اذيت نہ دو!
اس حصہ کو ابن ابي بن کعب (صحيح مسلم کے نقل کے مطابق) کي بات پرختم کرتے ہيں :
خليفہ دوم اور ابوموسي اشعري کے درميان کچھ نزاع ہوگئي ، ابي بن کعب بھي وہاں پر موجود تھا ، جب ابي بن کعب نے عمر کي سخت گيري کو ديکھا تو اس سے کہا : ”يا بن الطاب فلا تکونن عذابا علي اصحاب رسول اللہ“ ? اے خطاب کے بيٹے !رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کو اذيت نہ دو!(??) ?
?? اپنے اہل وعيال کے ساتھ سخت کلامي
اسلام اورپيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي سيرت کے لحاظ سے ايک مسلمان کي بہترين اور پسنديدہ خصلت يہ ہے کہ وہ اپنے اہل وعيال سے محبت اور مہرباني کے ساتھ پيش آئے ?
رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے فرمايا : ”خيرکم خيرکم لاھلہ و انا خيرکم لاھلي“ ? تم ميں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عيال کے لئے بہتر ہو اور ميں اپنے اہل و عيال کے لئے بہتر ہوں (??) ?
اسي طرح آپ نے فرمايا : ”ما ضرب رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) خادما ، ولا امراة“ ? رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے کبھي اپنے خادم اور عورت کو نہيں مارا (??) ?
ان تمام باتوں کے باوجود خليفہ دوم نے اپني زندگي ميں اپني بيويوں سے جو سلوک کيا ہے وہ بہت ہي تعجب خيز ہے :


وہ ہميشہ تندخو اور سخت کلام ہے


بلاذري ، طبري، ابن اثير او رابن کثير کے مطابق جس وقت يزيد بن ابوسفيان کا انتقال ہوا تو عمر نے اس کي بيوي ام ابان (عتبہ کي بيٹي) سے رشتہ بھيجا ،اس نے قبول نہيں کيا اور اس کي علت يہ بيان کي : ” لانہ يدخل عابسا ، ويخرج عابسا، يغلق ابوابہ، و يقل خيرہ“? وہ(عمر) بدمزاجي کے ساتھ گھر ميں داخل ہوتا ہے اور بدمزاجي کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے، گھر کے دروازہ کو بند کرليتا ہے اور اپني بيويوں کو گھر سے باہر جانے کي اجازت نہيں ديتا ، اس کي نيکياں بہت کم ہيں (??) ?
 


اعتراض کي فرياد


طبري اورابن اثير نے نقل کيا ہے کہ عمر نے اپني خلافت کے زمانہ ميں ابوبکر کي بيٹي ام کلثوم سے رشتہ بھيجا ،اس وقت اس کي عمر بہت کم تھي ? عايشہ نے خليفہ کي خواہش کو اپني بہن ام کلثوم کے سامنے پيش کيا ،ام کلثوم نے کہا : مجھے اس کي ضرورت نہيں ہے ! عايشہ نے کہا ، خليفہ کي طرف مائل نہيں ہو ؟ اس نے جواب ديا : ” نعم انہ خشن العيش، شديد علي النسا “ ? جي ہاں ! کيونکہ وہ زندگي بسر کرنے ميں سختي سے کام ليتا ہے اور عورتوں کے ساتھ تندروي اور سخت کلامي سے رفتار کرتا ہے ?
عايشہ نے عمروعاص سے کہا کہ اپنے طور پر عمر کو منع کردو ? عمروعاص ،عمر کے پاس گيا اور کچھ باتيں کرنے کے بعد کہا : ”ام کلثوم نے بہت ہي ناز و نعمت ميں پرورش پائي ہے اور اس نے ام المومنين عايشہ کي حمايت ميں رشد و نمو کيا ہے ليکن تم ميں تندخوئي ہے اور ہم بھي تم سے ڈرتے ہيں اور تمہاري کسي بھي عادت کو بدل نہيں سکتے لہذااگر اس لڑکي نے کسي بات ميں تمہاري مخالفت کي اور تم نے اس پر حملہ کيا تو ہم کيا کريں گے ؟ ” و فيک غلظة و نحن نھابک و ما نقدر ان نردک عن خلق من اخلاقک، فکيف بھا ان خالفتک في شئي فسطوت بھا“? اور اس طرح اس کو منع کرديا (??) ?
ابن عبدالبرکے مطابق ام کلثوم بنت ابوبکر نے اپني بہن عائشہ سے کہا : تم چاہتي ہو کہ ميں ايسے شخص سے شادي کروں جو تند خو اور سخت کلام ہے ؟ اس کے بعد مزيد کہا : ”واللہ لئن فعلت لاخرجن الي قبر رسول اللہ و لا صيحن بہ“? خدا کي قسم اگر مجھے اس کام کے لئے مجبور کيا تو ميں رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي قبر کے نزديک جاکر فرياد کروں گي (??) ?
خليفہ کي تندگوئي اور تندروي اس قدر مشہور تھي کہ بہت ہي کم سال لڑکي ام کلثوم بھي اس سے باخبر تھي ، جب کہ عمر مسلمانوں کا خليفہ اور اس کے باپ کا بہت گہرا دوست تھا ليکن پھر بھي ام کلثوم ا س سے شادي کے لئے تيار نہيں ہوئي?
 


اپني زوجہ کو مارنا


اہل سنت کي معتبر کتابوں ميں اشعث بن قيس سے نقل ہوا ہے کہ ايک رات ميں خليفہ دوم کے گھر مہمان تھا ، آدھي رات کو عمر اٹھا اور اپني بيوي کو مارنے لگا ? ميں نے اٹھ کر اس کو منع کيا ”ضفت عمر ليلة ، فلما کان في جوف الليل قام الي امراتہ يضربھا ، فحجزت بينھما“? جب عمر اپنے بستر پر ليٹ گيا تو مجھ سے کہا : ” يا اشعث ! احفظ عني شيئا سمعتہ عن رسول اللہ : لا يسال الرجل فيم يضرب امراتہ“? اے اشعث ميں نے رسول خدا سے ايک جملہ سنا ہے ،اس کو اچھي طرح ياد کرلو (وہ جملہ يہ ہے ) : مرد سے يہ نہيں پوچھا جاتا کہ تم نے اپني بيوي کو کيوں مارا ہے(??) ?
اوراس طرح اس کو اس کي علت معلوم کرنے سے منع کرديا ?
 


اس شرط پر شادي کروں گي کہ مجھے طمانچہ مت مارنا


”عاتکہ“بنت زيد ، عبداللہ بن ابي بکر کي بيوي تھي? اور عمر بن خطاب کے چچا کي لڑکي تھي ? وہ بہت زيادہ خوبصورت تھي ، اس کے پہلے شوہر عبداللہ نے اس کو بہت زيادہ مال و دولت دي اور اس سے شرط کي کہ ميرے مرنے کے بعد شادي نہ کرنا اس نے بھي قبول کرليا ? عبداللہ کے مرنے کے بعد بہت سے لوگوں نے رشتہ بھيجا ليکن اس نے منع کرديا اور اپنے وعدے پر باقي رہي ، خليفہ دوم نے بارہ ہجري ميں اس سے شادي کرلي اور اس شادي پر وليمہ بھي ديا ?
مورخين نے لکھا ہے : جس وقت عمر نے اس کے پاس رشتہ بھيجا تو اس نے شرط رکھي کہ وہ اس کو مسجد ميں جانے سے منع نہ کرے اوراس کي پٹائي نہ کرے ، عمر نے بھي نہ چاہتے ہوئے اس شرط کو قبول کرليا ”فلما خطبھا عمر شرطت عليہ انہ لايمنعھا عن المسجد و لا يضربھا، فاجابھا علي کرہ منہ“ (?) ?
ابن حجر عسقلاني نے اس طرح نقل کيا ہے : ”شرطت عليہ الا يضربھا، ولا يمنعھا من الحق، ولا من الصلاة في المسجد النبوي“? عمر سے شرط رکھي کہ اس کي پٹائي نہ کرے، اس کے حقوق کو ادا کرے اور مسجد نبوي ميں نماز پڑھنے سے منع نہ کرے (??) ?
ابن اثير کے نقل کے مطابق شايد اسي وجہ سے قريش نے عمر بن خطاب کے رشتوں کو قبول نہيں کيا ،ليکن مغيرة بن شعبہ نے رشتہ بھيجا اور انہوں نے قبول کرليا ”ان عمر بن الخطاب خطب الي قوم من قريش بالمدينة فردوہ ، و خطب اليھم المغيرة بن شعبة فزوجوہ“ (??) ?
 


ناراض ہونا اور ہاتھ پر کاٹنا


ابن ابي الحديد معتزلي نے نقل کيا ہے کہ ايک شخص عمر کے پاس آيا اور (عمر کے بيٹے) عبيداللہ کي شکايت کي اور شکايت کرتے وقت عبيداللہ کو ”ابوعيسي“ کي کنيت سے پکارا (??) عمر نے اپنے بيٹے کو بلايا ، پہلے اس پر اعتراض کيا ،پھر اس کے ہاتھ پر دانتوں سے کاٹا ، پھر اس کے طمانچے مارے اور اس سے کہا : عيسي کے باپ نہيں تھے (تم نے کس طرح اپني کنيت ابوعيسي رکھ لي) ? ”  و اخذيدہ فعضھا ، ثم ضربہ و قال : ويلک ! و ھل لعيسي اب؟“ (??) ?
ابن ابي الحديد معتزلي نے اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : جب بھي عمراپنے اہل وعيال ميں سے کسي پر ناراض ہوتا تھا تو اس وقت تک اس کا غصہ ٹھنڈا نہيں ہوتا تھا جب تک اس کے ہاتھ پر دانتوں سے نہ کاٹے (??) ?

 


پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي اخلاق اور کردار

 


اس مقالہ کے آخر ميں پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے اخلاق و کردار کے کچھ گوشوں پر روشني ڈالي جائے جو کہ تمام انسانوں کے لئے نمونہ عمل ہيں ، تاکہ قارئين کرام (خصوصا جوان حضرات) اپنے آپ کو اخلاق کريمہ سے آراستہ کريں، اپني اجتماعي اور فردي زندگي ميں اس سے فائدہ اٹھا سکيں( يہ حديثيں بھي اہل سنت کي کتابوں سے نقل کي گئي ہيں ) ?
?? آنحضرت کے اخلاق و کردا رکے متعلق عايشہ کہتي ہيں : ”کان احسن الناس خلقا، لم يکن فاحشا و لا متفحشا ، و لا سخابا بالاسواق، و لا يجزيء بالسيئة مثلھا، و لکن يعفو و صفح“ ? آپ کے اخلاق سب سے اچھا تھا ، آپ کبھي بھي کسي کو ناسزا نہيں کہتے تھے ، کبھي بھي کوچہ و بازار ميں فرياد نہيں کرتے تھے ، آپ برائي کا جواب برائي سے نہيں ديتے تھے ،بلکہ معاف اور نظر انداز کرديتے تھے (??) ?
?? ايک دوسرے شخص نے رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي اس طرح تعريف کي ہے : ”کان رسول اللہ رحيمارقيقا حليما “ ? رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) مہربان، دلسوز او ربردبار تھے (??) ?
?? رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ مراعات کرنے کي سفارش کرتے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ عورتوں کے ساتھ نرمي سے کام لو (??) ?
?? انس بن مالک کہتے ہيں : ” ما رايت ارحم بالعيال من رسول اللہ“ ? ميں نے کسي کو بھي رسول خدا سے زيادہ اپنے اہل و عيال کے ساتھ مہربان شخص نہيں ديکھا (??) ?
اسي طرح آنحضرت (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کے سلسلہ ميں يہ خوبصورت تعبيرات بيان ہوئي ہيں : کان دائم البشر ، سھل الخلق، لين الجانب ليس بفظ و لا غليظ و لا ضخاب و لا فحاش و لا عياب“ ? آپ ہميشہ خوش حال، نرم و ملائم اور بہترين اخلاق کے ساتھ زندگي بسر کرتے تھے ، آپ سخت کلام، تندخو، شور مچانے والے ، ناسزا اور عيب گوئي نہيں کرتے تھے (??) ?
?? ازواج کے ساتھ آپ کي زندگي کے بارے ميں عايشہ کہتي ہيں : ”کان اکرم الناس والين الناس ، ضحاکا بساما“ ? آپ (اپني ازواج کے ساتھ خلوت ميں) کريم ترين اور بہترين عادت کے مالک تھے آپ ہميشہ مسکراتے رہتے تھے (??) ?
?? انس بن مالک کہتے ہيں : ” خدمت رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) عشر سنين ، لا واللہ ما سبني بسبط قط و لا قال لي : اف قط، و لا قال لشي فعلتہ لم فعلتہ ؟ و لا لشئي لم افعلہ لم لا فعلتہ“ ? ميں نے دس سال تک رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي خدمت کي ، خدا کي قسم ! انہوں نے کبھي مجھے ناسزا نہيں کہا، اورکبھي مجھے کلمہ اف تک نہيںکہا اور جب کبھي ميں کوئي کام انجام ديتا تھا تو کبھي يہ نہيں کہتے تھے يہ کام کيوں کيا؟ اور اگر کسي کام کوانجام نہيں ديتا تھا تو آپ مجھ سے سوال نہيں کرتے تھے کہ يہ کام انجام کيوں نہيں ديا ؟! (??) ?
?? رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے عورتوں کو مارنے کے متعلق فرمايا : ” اما يستحيي احدکم ان يضرب امراتہ کما يضرب العبد، يضربھا اول النھار ثم يضاجعھا آخرہ “ ? تم سے جو شخص اپني بيوي کو (ايک کنيز کي طرح) مارتا ہے اسے شرم نہيں آتي؟ ! صبح کو اسے مارتا ہے اور رات کو اسے اپني آغوش ميں ليتا ہے ! (??) ?


حوالہ جات :


?? ” فَبِمَا رَحْمَة مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ “ ? (سورہ آل عمران ، آيت ????
?? ” مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ “ ? ( سورہ فتح، آيت ??) ?
?? کامل ابن اثير، ج 2، ص 69 .
?? سيره ابن هشام، ج 1، ص 319 .
?? البداية والنهاية، ج 3، ص 58? عمر مسلمان ہونے سے پہلے مسلمانوں کو بہت پريشان کرتاتھا لہذابلاذري نے اس کے متعلق لکھا ہے : ”فکانت فيہ غلظة علي المسلمين“ ? اس ميں مسلمانوں کے خلاف سخت گيري اور تندخوئي پائي جاتي تھي (انساب الاشراف ، ج ??، ص ???) ?
?? انساب الاشراف، ج 10، ص 287-288 ; ر.ک: البداية والنهاية، ج 3، ص 80 ; تاريخ ابن خلدون، ج 2، ص 414 ; سيره ابن هشام، ج 1، ص 344 ; کامل ابن اثير، ج 2، ص 85 ; کنزالعمّال، ج 12، ص 607 .
7 . ر.ک: صحيح مسلم، ج 1، ص 44-45 (باب من لقى الله بالايمان و هو غير شاک).
8 . توبه، آيه 80 .
?? صحيح بخاري، ج ?،ص ??? (اگر چہ اس کے بعد سورہ توبہ کي ?? ويں آيت نازل ہوئي جس ميں رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کو حکم ديا گيا کہ منافقين کي نماز جنازہ نہ پڑھو) ?
??? همان مدرک، ج 5، ص 207 .
11 . صحيح بخارى، ج 5، ص 206 .
12 . همان مدرک، ص 207.
13 . ر.ک: صحيح مسلم، ج 7، ص 116; ج 8، ص 120; سنن ترمذى، ج 4، ص 343 ; مسند احمد، ج 2، ص 18 و ديگر کتب.
14 . احزاب، آيه 36 .
15 . حجرات، آيه 2 .
16 . صحيح بخارى، کتاب العلم، باب 39 (باب کتابة العلم)، ح 4 ; کتاب الجهاد والسيّر، باب 175، ح 1; کتاب الجزية، باب 6، ح 3; کتاب المغازى، باب 84 (باب مرض النبى ووفاته)،
ح 4 ; همان باب، ح 5 ; کتاب المرضى، باب 17 (باب قول المريض قوموا عنّى)، ح 1; صحيح مسلم; کتاب الوصية، باب 6، ح 6 ; همان باب، ح 7 ; همان باب، ح 8.
17 . تاريخ طبرى، ج 3، ص 223 ; شبيه آن: تاريخ ابن خلدون، ج 2، ص 488.
18 . صحيح بخارى، ج 8، ص 27 ـ 28. همچنين ر.ک: مسند احمد، ج 1، ص 56 ; تاريخ طبرى، ج 3، ص 206 ; البداية والنهاية، ج 5، ص 246.
19 . تاريخ طبرى، ج 3، ص 223.
20 . همان مدرک، ج 3، ص 202.
21 . انساب الاشراف، ج 1، ص 586.
22 . مصنف ابن ابى شيبه، ج 8، ص 572.
23 . صحيح بخارى، ج 5، ص 83.
24 . تاريخ طبرى، ج 3، ص 208 ; البداية والنهاية، ج 5، ص 286.
25 . شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 6، ص 372 .
26 . مصنف ابن ابى شيبه، ج 7، ص 485، ح 46 .
??? شرح نہج البلاغہ ، ابن ابي الحديد، ج ?، ص ???? اس نکتہ کي طرف توجہ ضروري ہے کہ عمر نے ”فظ“ اور ”غليظ“ کي تعبير اپنے والد کے لئے بھي استعمال کي ہيں، اوراس کو تندخو اورسخت کلام بتايا ہے ،مورخين نے نقل کيا ہے : جب عمر اپنے آخري حج سے واپس آرہا تھا جس وقت ضجنان نامي پہاڑ ( جو کہ مدينہ سے ?? ميل کے فاصلہ پر رہ جاتا ہے) کے پاس پہنچا تو کہا : ايک زمانہ وہ تھا جب ميں خطاب کے لئے يہاں پر اونٹ چرا تا تھا ،اس کے بعد اپنے والد کي طرح تعريف کرتا ہے : ”وکان فظا غليظا يتعبني اذا عملت، و يضربني اذا قصرت“ ? وہ بہت سخت کلام اور تندخو تھا ،ميں جب کام کرتا تھا وہ مجھ سے اس قدر کام ليتاتھا کہ ميں تھک جاتا تھا اور جب بھي ميں سستي کرتاتھا تو وہ مجھے مارتا تھا ? (الاستيعاب ، ج ?، ص ????? تاريخ طبري ، ج ?، ص ??? ? انساب الاشرف ، ج ??، ص ???) ?
28 . الطبقات الکبرى، ج 8، ص 339.
29 . مغنى المحتاج، ج 4، ص 390; حواشى الشروانى، ج 10، ص 134.
30 . تاريخ طبرى، ج 4، ص 209; البداية والنهاية، ج 7، ص 133.
?? ? الطبقات الکبري ، ج ?، ص ??? جبکہ رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) بچوں کے ساتھ مہربان تھے، کبھي ان کے ساتھ کھيلتے تھے (مسند احمد،ج ? ، ص ???) ? ان کو سلام کرتے تھے (سنن دارمي، ج ?، ص ???، سنن ابن ماجہ، ج ?، ص ????) ? اسي مہرباني کي وجہ سے جب آپ سفرسے پلٹتے تھے تو بچے بہت ہي شوق و اشتياق کے ساتھ آپ کا استقبال کرتے تھے (صحيح بخاري، ج ?، ص ???) اورکبھي پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) ان کو اپنے اوپر سوار کرتے تھے ? نقل ہوا ہے کہ اسي وجہ سے بہت سے بچے دوسرے بچوں پر فخر کرتے تھے (مسند احمد،ج ?، ص ??
32. مصنّف عبدالرزّاق، ج 10، ص 416، ح 19548.
33 . تاريخ طبرى، ج 3، ص 423; انساب الاشراف، ج 10، ص 95; کامل ابن اثير، ج 2،
ص 419.
??? کنز العمال، ج 15، ص 732، ح 42911. متقي ہندي نے ابن راھويہ سے اس حديث کو نقل کرنے کے بعد اس کو صحيح شمار کيا ہے ? صحيح بخاري ميں اس بات کي طرف اشارہ ہوا ہے (صحيح بخاري، ج ?، ص ??) ? ابن حجر نے اپني شرح ميں اس کو صحيح السند بيان کيا ہے (فتح الباري ، ج ?، ص ??) ?
??? مصنف عبدالرزاق، ج 3، ص 557، ح 6681.
??? مسند احمد، ج 1، ص 335. همچنين ر.ک: مجمع الزوائد هيثمى، ج 3، ص 17; الاصابة، ج 8، ص 138; الطبقات الکبرى، ج 8، ص 30. اگر چہ دوسري جگہوں پر بھي پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے اس کومنع کيا تھا کہ عورتوں کو رونے دو،ليکن اس نے پھر بھي اپنے عمل کو جاري رکھا ، مسند احمد (ج ?، ص ???) ميں ابوہريرہ سے نقل ہوا ہے : پيغمبر اکرم ر(صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کے خاندان سے کسي کا انتقال ہوگيا ،عورتيں جمع ہوگئي اورگريہ کرنے لگيں، عمر بن خطاب کھڑا ہوا اور ان کو منع کرکے وہاں سے الگ کرديا ”فقام عمر بن الخطاب ينھاھن و يطردھن“ ? پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) نے اس سے فرمايا : يا بن الخطاب فان العين دامعة والفواد مصاب و ان العھد حديث “ ? اے خطاب کے بيٹے (تم ان کو منع نہ کرو) کيونکہ آنکھيں رو روہي ہيں ،دل غم زدہ ہے اور ان کے عزيزوں کا غم ابھي تازہ ہے ?
37 . مصنّف عبدالرزّاق، ج 4، ص 373، ح 8117.
38 . المجموع نووى، ج 19، ص 11; مغنى ابن قدامه، ج 9، ص 579; کشّاف القناع، ج 6،ص 18.. ر.ک: مصنّف عبدالرزاق، ج 9، ص 458; کنز العمّال، ج 15، ص 84، ح 40201.
39 . شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 6، ص 343.
40 . البداية والنهاية، ج 8، ص 107.
??? گذشتہ حوالہ ? دوسري تعبير ميں ابوہريرہ نے کہا : ”لو کنت احدث في زمان عمر مثل ما احدثکم لضربني بمخفقتہ“ ? جس طرح ميں آج حديثوں کو نقل کررہاہوں اگر عمر کے زمانہ ميں نقل کرتا تو وہ يقينا مجھے تازيانے مارتا (تذکرة الحفاظ ، ج ?، ص ?) اسي جملہ کے مشابہ ابن عبدالبر نے بھي نقل کيا ہے (جامع بيان العلم و فضلہ، ج ?، ص ???) ?
??? صحيح مسلم، ج ?، ص ???، باب التيمم ?
??? " وَإِنْ کُنتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَر أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً" ? (سورہ نساء ،آيت ??) ? مذکورہ واقعات کو پڑھنے کے بعد قارئين کے ذہنوں ميں يہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر خليفہ دوم اگر اپنے اسي عقيدہ پر اصرار کرتے تھے اور ان کا عقيدہ تھا کہ پاني نہ ہونے کي صورت ميں جنابت پر باقي رہا جائے اور نماز نہ پڑھي جائے تو کيا جب بھي وہ سفر کرتے تھے (چاہے خانہ خدا کي زيارت کے لئے جاتے ہوں ياجنگ ميں لشکر کے ساتھ يا اپني حکومت کے شہروں ميں )اور ان کو غسل کرنے کے لئے پاني نہيں ملتا تھا توکيا خليفہ اپني نماز کو ترک کرديتے تھے ؟ خدا عالم ہے !
44. تذکرة الحفّاظ، ج 1، ص 7.
45. مستدرک حاکم، ج 1، ص 101.
46. انساب الاشراف، ج 10، ص 339; تاريخ طبرى، ج 4، ص 212.
47. العقد الفريد، ج 1، ص 14-15 (با تلخيص).
48. اشاره است به آيه 4 سوره تحريم که مى فرمايد (إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ...).
49. صحيح بخارى، ج 6، ص 69; صحيح مسلم، ج 4، ص 190.
50. انساب الاشراف، ج 13، ص 51.
51. انساب الاشراف، ج 10، ص 418; الطبقات الکبرى، ج 3، ص 259; فتح البارى، ج 7،
ص 49; کنز العمّال، ج 12، ص 679.
52. ر.ک: الطبقات الکبرى، ج 8، ص 308; کنز العمّال، ج 13، ص 633، ح 37604.
??? تاريخ الاسلام، ج ? ، ص ?? ? ??? عمر نے عراق کي حاصل خيز زمين کو ناپنے اور وہاں پر جزيہ معين کرنے کيلئے عثمان بن حنيف کو بھيجا (مراجعہ کريں الاستيعاب، ج ?، ص ????، عثمان کي سوانح حيات) ?
??? ابن عباس کا يہ بيان غدير خم کے واقعہ اور حضرت علي (عليہ السلام) کو امامت کے لئے منصوب کرنے پر گواہ ہے ، خصوصا جب کہ عمر نے اس کاانکار نہيں کيا ?
55. محمد، آيه 9 .
56. اشاره به آيه 33 سوره احزاب است که مى فرمايد: (إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيراً).
57. تاريخ طبرى، ج 4، ص 223 ـ 224; کامل ابن اثير، ج 3، ص 63 ـ 64 (با تلخيص).
58. تاريخ طبرى، ج 4، ص 207; انساب الاشراف، ج 10، ص 374.
59. تاريخ طبرى، ج 3، ص 428; کامل ابن اثير، ج 2، ص 425; المنتظم، ج 4، ص 125.
60. صحيح مسلم، ج 6، ص 180.
61. سنن ابن ماجه، ج 1، ص 636، ح 1977.
62. همان مدرک، ح 1978.
63. همان مدرک، ص 638، ح 1984.
64. انساب الاشراف، ج 9، ص 368; تاريخ طبرى، ج 4، ص 400; کامل ابن اثير، ج 3،
ص 55; البداية والنهاية، ج 7، ص 140.
65. تاريخ طبرى، ج 4، ص 199; کامل ابن اثير، ج 3، ص 54.
66. الاستيعاب، ج 4، ص 1807.
67. سنن ابن ماجه، ج 1، ص 639، ح 1986; سنن الکبرى، ج 7، ص 357. شبيه همين عبارت در مسند احمد، ج 1، ص 20 و سنن ابى داود، ج 1، ص 476 نيز آمده است.
68. اسد الغابه، ج 6، ص 183 ـ 185.
69. الاصابة، ج 8، ص 228.
70. اسدالغابه، ج 3، ص 659.
??? ابن اثير نے اسدالغابہ (ج ?، ص ???) ميں عبداللہ بن عمر کي سوانح حيات ميں اس کي کنيت ”ابوعيسي“ بيان کي ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کنيت سے مشہور تھا ?
??? شرح نہج البلاغہ ،ابن ابي الحديد، ج ?، ص ???? يہ بات واضح ہے کہ ابوعيسي کنيت رکھنا اس بات کي دليل نہيں ہے کہ حضرت عيسي (عليہ ا لسلام) کے والدکے والد تھے ? ،کيونکہ ”سنن ترمذي“ کے مشہور مصنف کا نام ابوعيسي ترمذي ہے ?
73. همان مدرک.
74. مسند احمد، ج 6، ص 236; سنن ترمذى، ج 3، ص 249، ح 2085; صحيح ابن حبّان، ج 14، ص 355.
75. المعجم الکبير، ج 19، ص 288.
76. ر.ک: صحيح بخارى، ج 6، ص 145 (کتاب النکاح، باب مداراة مع النساء).
77. مسند احمد، ج 3، ص 112; صحيح مسلم، ج 7، ص 76.
78. کنز العمّال، ج 7، ص 166.
79. کنزالعمّال، ج 7، ص 222.
80. همان مدرک، ص 207 ـ 208.
81. مصنّف عبدالرزاق، ج 9، ص 442، ح 17943; کنز العمّال، ج 16، ص 377، ح 44983.

فہرست مآخذ :

1. قرآن کريم
2. نهج البلاغه (با تحقيق دکتر صبحى صالح)
3. الاستيعاب فى معرفة الاصحاب، ابوعمر يوسف بن عبدالله بن محمد بن عبدالبر، تحقيق على محمد البجاوى، دارالجيل، بيروت، چاپ اوّل، 1412ق.
4. اسدالغابة فى معرفة الصحابة، عزّالدين بن الاثير الجزرى، دارالفکر، بيروت، 1409ق.
5. الاصابة فى معرفة الصحابة، احمد بن على بن حجر عسقلانى، تحقيق عادل احمد عبدالموجود، دارالکتب العلمية، بيروت، چاپ اوّل، 1415ق.
6. أنساب الاشراف، احمد بن يحيى بن جابر بلاذرى، تحقيق سهيل زکار، دارالفکر، بيروت، چاپ اوّل، 1417ق.
7. البداية والنهاية، ابن کثير دمشقى، دارالفکر، بيروت، 1407ق.
8. تاريخ الاسلام، شمس الدين محمد ذهبى، تحقيق عمر عبدالسلام، دارالکتاب العربى، بيروت، چاپ دوم، 1413ق.
9. تاريخ ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد بن خلدون، تحقيق خليل شحاده، دارالفکر، بيروت، چاپ دوم، 1408ق.
10. تاريخ طبرى، محمد بن جرير طبرى، تحقيق محمد ابوالفضل ابراهيم، دارالتراث، بيروت، چاپ دوم، 1387ق.
11. تذکرة الحفّاظ شمس الدين محمّد ذهبى، دار احياء التراث العربى، بيروت.
12. جامع بيان العلم و فضله، ابن عبدالبر، دار الکتب العلمية، بيروت، 1398 ق.
13. حواشى الشروانى، الشروانى والعبادى، دار احياء التراث العربى، بيروت.
14. سنن ابن ماجه، محمد بن يزيد قزوينى، تحقيق محمد فؤاد عبدالباقى، دارالفکر، بيروت.
15. سنن ترمذى، ابوعيسى ترمذى، تحقيق عبدالرحمن محمد عثمان، دارالفکر، بيروت، چاپ اوّل، 1424ق.
16. سنن دارمى، عبدالله بن بهرام دارمى، مطبعة الحديثة، دمشق.
17. السيرة النبوية (معروف به سيره ابن هشام)، ابن هشام حميرى، تحقيق مصطفى السقا و همکاران، دارالمعرفة، بيروت.
18. شرح نهج البلاغه، ابن ابى الحديد معتزلى، تحقيق محمد ابوالفضل ابراهيم، دار احياء الکتب العربية.
19. صحيح ابن حبّان، محمد بن حبّان، تحقيق شعيب الارنؤوط، مؤسّسة الرّسالة، چاپ دوم، 1414ق.
20. صحيح بخارى، ابوعبدالله محمد بن اسماعيل بخارى، دارالجيل، بيروت.
21. صحيح مسلم، مسلم بن حجّاج نيشابورى، دارالفکر، بيروت.
22. الطبقات الکبرى، محمد بن سعد، تحقيق محمد عبدالقادر عطاء، دارالکتب العلمية، بيروت، چاپ اوّل، 1410ق.
23. العقد الفريد، ابن عبد ربّه اندلسى، دارالکتاب العربى، بيروت، 1403ق.
24. فتح البارى فى شرح صحيح البخارى، احمد بن على بن حجر عسقلانى، دارالمعرفة، بيروت.
25. الکامل فى التاريخ، عزّالدين على بن ابى الکرم (معروف به ابن اثير)، دار صادر، بيروت، 1385ق.
26. کشاف القناع، منصور بن يونس بهوتى، تحقيق ابوعبدالله محمد حسن اسماعيل الشافعى، دارالکتب العلمية، بيروت، چاپ اوّل، 1418ق.
27. کنزالعمّال، متقى هندى، مؤسّسة الرسالة، بيروت، 1409ق.
28. مجمع الزوائد، نورالدين ابوبکر هيثمى، دارالکتب العلمية، بيروت، 1408ق.
29. المجموع فى شرح المهذب، محيى الدين بن شرف نووى، دارالفکر، بيروت.
30. المستدرک على الصحيحين، ابوعبدالله حاکم نيشابورى، دارالمعرفة، بيروت، چاپ اوّل، 1406ق.
31. مسند احمد، احمد بن حنبل، دارصادر، بيروت.
32. المصنّف، ابن ابى شيبه کوفى، تحقيق سعيد اللحّام، دارالفکر، بيروت، چاپ اوّل، 1409ق.
33. المصنّف، عبدالرزّاق صنعانى، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمى، منشورات المجلس العلمى.
34. المعجم الکبير، سليمان بن احمد طبرانى، تحقيق حمدى عبدالمجيد السلفى، دار احياء التراث العربى، بيروت، چاپ دوم، 1404ق.
35. المغنى، عبدالله بن قدامه، دارالکتاب العربى، بيروت.
36. مغنى المحتاج، محمد بن احمد شربينى، داراحياء التراث العربى، بيروت، 1377ق.
37. المنتظم فى تاريخ الامم والملوک، عبدالرحمن بن على بن محمد بن الجوزى، تحقيق محمد عبدالقادر عطاء، دارالکتب العلمية، بيروت، چاپ اوّل، 1412ق.

زبردستي پردہ!

موضوع: زبردستي پردہ!
تاليف :حجة الاسلام سيد محمد جواد بني سعيد ?

 

غلط سوال کا بيان:

آپ کايہ سوال ” کيا ا?پ زبردستي پردے کے موافق ہيں يا مخالف ؟ “صحيح سوال نہيں ہے ?اگر سوال کي حديں واضح ہو جائيں کہ زبردستي پردہ کسے کہتے ہيں ؟ اور زبردستي کي جگہ کياہے؟سوال اپنے غلط ہونے کا خود اعلان کريگا ?
کبھي پردے کو ايک عقلي يا ديني امر کے عنوان سے پيش کيا جاتا ہے ، يعني پردے کو ايک جديد اور اعلي فکر کے عنوان کے مد مقابل پيش کيا جاتا ہے ، تاکہ مقابل بھي اس بات کو قبول کر لے، کبھي ايک ايماني ، اور حکم الھي کے عنوان سے پيش کيا جاتا ہے ، تاکہ اس پر ايمان لايا جائے ?يہ بات واضح ہے کہ لفظ ”زبردستي “ان دونوں عناوين ميں بے معني ہے ،اس لئے کہ زبردستي نہ ہي فکر ميں ممکن ہے اور نہ ايمان و يقين ميں? لہذا يہ کہنا کہ کيا ا?پ زبردستي پردے کے قائل ہيں يا مخالف ؟ يہ سوال بنيادي طور پر غلط ہے ?
کبھي پردہ معاشرے ميں پائے جانے والے قانون کے عنوان سے پيش کيا جاتا ہے، يعني ايک فکر ي اور ايماني بحث سے الگ جب انسان ايک معاشرے سے وابسطہ ہوتا ہے جو خاص قوانين کے زير نظر چلتا ہے ?کہ جس ميں پردے کي رعايت کرنا معاشرے کے قوانين( جن کو باقاعدہ مقرر کيا گيا ہو) کي رعايت کرنا ہے ? ا س مقام پر بھي يہ سوال کہ ” کيا ا?پ زبردستي پردے کے قائل ہيں يا مخالف“ صحيح نہيں ہے، اس لئے کہ” زبردستي “يہاں پابندي اور اصرار کے معني اس لئے ديتي تاکہ قانون کااجراء ہو سکے ?اور قانون کے اجراء کي مخالفت کوئي بھي صاحب فہم و عقل نہيں کر سکتا ?
ظاہر ہے کہ قوانين وہ راستے ہيں جن کو حکومتيں تشکيل ديتي ہيں اور شہر ميں رہنے والے افرادکو بتائے جاتے ہيں، شہر کے ہر باشندے کو اس پر عمل کرنا ضروري ہوتا ہے ? اور جوبھي ان قوانين کي مخالفت کرتا ہے اس کو مجرم سمجھا جاتا ہے ?اور جو ان قوانين کي پيروي نہيں کرتا حکومت اس کے خلاف رسمي عہدنامہ کے دستور کے مطابق عمل کرتي ہے ?
اس کي عام فہم مثال يہ ہے جس کو ہر انسان قبول کرتا ہے وہ ٹريفک اور ڈرائيونگ کے قوانين ميں مشاہدہ کر سکتے ہيں ، مثلا ايران ميں اس طرح قانون بنايا گيا ہے کہ تمام گاڑياں داہني طرف چلتي ہيں ، چاہے وہ کسي بھي دليل کي بنياد پرہو ( چاہے غلط ہو يا صحيح )ليکن قانون بنانے والے نے يہ سسٹم بنايا ، اور اس کا اجراء کيا ،اور پليس کو اس کے اجراء کا ذمہ دار قرار ديا کہ جو بھي اس کي مخالفت کرے اس کو روکا جائے ?
اب فرض کريں کہ کچھ لوگ ا?ئيں اور کہيں کہ ہم نے انگلينڈ ميں ديکھا کہ گاڑياں بائيں طرف چلتي ہيں ، اور يہ بہت عمدہ ہے ، ہم بھي چاہتے ہيں کہ ا?زادانا طريقه سے ان کي طرح عمل کريں ہم کو کيوں (بائيں طرف چلنے پر ) مجبور کرتے ہيں ؟ اگر ہم معاشرے کي اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اور شہرکے باشندوں کے حقوق کي رعايت کے لئے اس سوال کو پيش کريں کہ کيا ا?پ جبرا بائيں طرف چلنے کے موافق ہيں يا مخالف ؟ اور اس کے بعد نتيجہ ميں يہ فرض کريں کہ ہر ا?دمي کو ا?زاد ہونا چاہيے، چاہے وہ داہني طرف چلے يا بائيں طرف ! تو يقينا نتيجہ ميں مطلوب حاصل نہيں ہوگا ، لہذا اس طرح بنيادي طور پر اس سوال کي پيش کش غلط ہے جب تک اس ملک کا قانون داہني طرف چلنے کا ہے، اور قانون کے اجراء کرنے ميں زبردستي کرنا صحيح ہے، اور معاشرے کے کچھ افراد کا موافقت يا مخالفت کرنا کوئي حيثيت نہيں رکھتا ہے، اگر ہزار دليل بھي کوئي پيش کرے کہ بائيں طرف چلنا بہتر ہے اور وہ اس کو قبول اور پسند کرے (تو بھي اس کي کوئي قيمت نہيں ہے) اگر و ہ اپني پسند اور رائے پر عمل کرے تو يقينا پکڑا جائے گا اور ايک مجر م کے مانند سزا يا جرمانے سے دوچارہوگا، اگر پھر بھي اس سے بغاوت کرے تو معاشرے کي متعدد بدنصيبي سے دوچار ہو جائيگا ?
ليکن وہ اس قانون کي مخالفت کے لئے قانون بنانے والے سے رابطہ کر سکتا ہے ، اور داہني طرف چلنے کے غلط ہونے پر اپنے دلائل پيش کر سکتاہے اور عقلي اور منطقي بنياد پر اس کو زير سوال لاکر اس کو قانع کرے کہ تمہارا يہ قانون نقص کا حامل ہے ? اگر وہ اس قانون کو بدل دے تو اس وقت وہ اپنے مقصد کو حاصل کرسکتا ہے(يعني بائيں طرف چل سکتاہے) ليکن اس مقام پر بھي اس نئے قانون(جو اس کے کہنے پر بنا ہے) کے اجراء ميں زبردستي کرنا پڑيگي ، جس کے طرفدار اور حامي اس موقع پر و ہ خود ہے ?
 

قانون بنانے کي بنياد:


ہرسالم اور تہذيب يافتہ معاشر ے ميں کچھ خاص قوانين حاکم ہوتے ہيں جو ان کے يقين اوراعتقادات کے مطابق ان کے چنيدہ افراد کي مرضي سے بنائے ہوئے ہوتے ہيں? اور وہ ہر معاشرے کے پاس متفاوت ہوتے ہيں? مثلا کسي ملک کے معاشرے ميں قانون حريت پسندي کي بنياد پر وضع کئے جاتے ہيں ، اور کسي معاشرے ميں اشتراکي فکر کي بنياد پر ? اس نظام کا کوئي بھي اور کچھ بھي سبب ہو ،کسي بھي بنياد پر بنايا گيا ہو، چاہے صحيح ہو يا غلط ، جب بھي معاشرے کے قوانين کا مرحلہ مکمل طور پر طے ہو جاتا ہے ،الزام اور زبردستي کا مسئلہ قانون کے اجراء کے لئے ايک بديہي اور معقول امر ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا قبول نہ کرنا قانون کے اجراء کي ضمانت کا خاتمہ کرنا ہے ، اور جو قانون اپنے اجراء کي ضمانت نہيں رکھتا ہے اس ميں اور بے قانوني اور ہرج و مرج ميں کوئي فرق نہيں ہوتا ?
لہذا اگر کسي معاشرے کے قوانين اسلامي فکر اور نظام کے مطابق ہوں، اور اس بنياد پر اس ملک کے قوانين مرتب اور مقرر ہو جائيں ، تو اجراء کي ذمہ داري کے حوالے سے اس کے جاري کرنے ميں الزام اور اجبار بھي دوسرے قوانين سے الگ نہيں ہونگے ?اور اس کے اجراء ميں زبردستي کرنا ايک بديہي اور معقول امر سمجھا جائے گا ?
اگر اس موقع پر پردے کے مسئلے ميں غور کريں، کہ جو حکومت اسلامي ميں ايک قانون کے عنوان سے مقرر ہوا ہے،تو اس کے اجراء ميں زبردستي کرنا ايک معقول اور لازم امر ہونا چاہيے ?اس لئے کہ يہاں بحث نظرياتي يا ايمان لانے کي نہيں ہے ، بلکہ قانون کي ہے لہذا اب چاہے يہ قانون صحيح ہو يا غلط اس کا اجراء ہونا ضروري ہے ?
 

صحيح سوال :


صحيح سوال يہ ہے کہ ہم يہ پوچھيں :کيا ا?پ اصل حجاب کو مانتے ہيں يا نہيں؟ اصل حجاب اچھا ہے يا برا ؟ اس کا قانوني ہونا عقلي يا شرعي بنياد پر ہے يا نہيں ؟
اس موقع پر ممکن ہے کہ کوئي اعتراض کرے کہ مثلا عقل اور صحيح فکر کي بنياد پر يا ايماني نقطہ نگاہ سے پردے کے شرعي ہونے پر کوئي دليل نہيں ہے، لہذا اس مقام پر الزام اور جبر بے معنا ہے، لہذا ہر ا?دمي اپنے نظريہ کو قانون ساز کے سامنے پيش کرے او ر اس کو قانع کرے کہ يہ قانون بدلنا چاہيے، اور قانون بنانے والے کو چاہيے کہ طے کرے کہ پردے کي رعايت ہوني چاہيے يا نہيں؟ يہ امر قرين عقل ہے يا نہيں ؟ اس کا کوئي فائدہ ہے يا نہيں؟ بہتر ہے يا بہتر نہيں ہے ؟ ليکن جب تک پردے کي رعايت کا قانون باقي ہے ضروري ہے کہ اس کي رعايت کي جائے اور اس کے جاري رہنے ميں زبردستي کرنا بھي ايک ضروري عمل ہے ?
چنانچہ پردے کے مسئلے ميں دو بحثيں قابل غورہيں : پہلي يہ کہ اصل پردا بہتر ہے يا بہتر نہيں ہے؟ اس مقام پر اجبار کے کوئي معني نہيں ہيں ، لہذا بحث کرکے نتيجہ تک پہنچنا ہوگا کہ اس کو ہونا چاہيے يا نہيں?؟
دوسري بحث يہ کہ پردے کي رعايت کے قانون ميں زبردستي کرنابہتر ہے يا نہيں؟اس مقام پر زبردستي اور اجبار کا مفہوم قانون کے مفہوم سے بہر حال الگ ہے اور بہتريا بہتر نا ہونے کا سوال بالکل غلط سوال ہے ?
اگر پردہ موجودہ حکومت کے قوانين کي بنياد پر بہتر ہو ، اوراس کو مقرر کرديا گيا ہو اس کے بعد اس بحث ” کہ اس کا ضروري ہونا بہتر ہے يا نہيں ؟“ کي گنجائش نہيں رہ جاتي ہے ?اس لئے کہ اگر قانون ہے تو پھر زبردستي کرنااس سے جدا نہيں ہو سکتا ، چاہے ہم اس کو پسند کريں يا پسند نا کريں?اب جبکہ يہ بات واضح ہوگئي کہ صحيح سوال کيا ہے ، لہذا اس کے جواب کے بارے ميں گفتگو کرتے ہيں? کيا حکومت اسلامي ميں کہ جس کے قوانين اسلامي اور ايماني افکار کي بنياد پر ہو ں، قانون بنانے والا پردے کو ايک مستقل قانون بنائے يا نہيں ?؟
اس سوال کے جواب کو دو رخ ”فکر“ اور ”ايمان“ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائيں، تاکہ عقلي اعتبار سے اہل دانش اور ايماني اعتبارسے اہل ايمان کے لئے اس قانون کے تقرر کے لئے وضاحت ہو سکے ?


?? پردے کي ضرورت پر ايماني دليل:

 

اس ميں شک نہيں ہے کہ ہر دين ميں پہلي شرط ايمان ہوتي ہے کہ خدا اور اس کے پيغمبر پر ايمان لايا جائے ? اور صاحبان ايمان اس بات کو ضروري جانتے ہيں کہ جو کچھ بھي خداوند عالم کي جانب سے اس کے پيغمبر کے ذريعے ان کے لئے ا?يا ہے اس کو دل و جان سے قبول کريں?اور اس کے حکم پر اپنا سرتک قربان کرديں?اور اعتقاد رکھتے ہيں کہ جو کچھ بھي خدا وند حکيم کي جانب سے انسا ن کے لئے جو اس کي مخلوق ہے قانون بھيجے گئے ہيں ان پر عمل کرنا ديگر قوانين سے زيادہ بہتر ہے ?
دين اسلام ميں ان قوانين کا سرچشمہ ا?سماني کتاب قرا?ن مجيد ہے، جو ہم کو سنت رسول کي پيروي کا حکم ديتي ہے، اور سنت رسول ہم کو ائمہ معصومين (ع) کي پيروي کا حکم ديتي ہے، لہذا اس طرح منبع اسلام تين قرارپاتے ہيں، ?? قرا?ن ?? سنت پيغمبر(ص)?? سيرت معصومين عليہم السلام?
اگر قرا?ن مجيد کا مطالعہ کيا جائے تو ايک مسلمان عورت کے لئے پردے کا واجب ہونا صاف اور واضح نظر ا?تا ہے، جس کي وضاحت کے لئے سنت پيغمبر کي بھي ضرورت نہيں ہے( جيسا کہ بہت سے قرا?ني احکام کي وضاحت کے لئے سنت کي ضرورت ہوتي ہے) ?
پہلي ا?يت :
وقل للمئومنات يغضضن من ابصار ھن و يحفظن فروجھن ولا يبدين زينتھن الا ما ظھر منھا و ليضربن ، و بخمرھن علي جيوبھن والا يبدين زينتھن الا لبعولتھن او ا?بائھن او ا?باء بعولتھن او ابنائھن اوا ابناء بعولتھن او اخوانھن او بني اخوانھن بني اخاتھن او نسائھن او ما ملکت ايمانھن او التابعين غير اولي الاربة من الرجال او الطفل الذين لم يظھروا علي عورات النساء والا يضربن بارجلھن ليعلم ما يخفين من زينتھن و توبوا الي اللہ جميعا ايھا المومنين لعلکم تفلحون(?) (?)
اے رسول مو?منہ عورتوں سے کہہ ديجيے کہ اپني ا?نکھوں کو (ہوس بازوں کي نگاہ ) سے محفوظ رکھيں، اوراسي طرح اپنے دامن عفت کو محفوظ رکھيں، اور ااپنے اعضاء کو (سوائے ان اعضاء کے جن کا ظاہر کرنا جائز ہے)نماياںنہ کريں، اور اپنے ڈوپٹے کو سينے پر ڈاليں( تاکہ گردن اور سينہ اس کے ذريعے چھپ جائے)،اور اپني زينت (اعضاء ) کوسوائے اپنے شوہر ،ياوالد ،يا اپنے شوہر کے والد، يا اپنے بيٹوں ، يا ؟؟؟؟يا اپنے بھائيوں ، يا اپنے بھائيوں کے بيٹوں،يا اپني بہنوں کے بيٹوں، يا اپنے ہم مذھب عورتوں ، يا اپني کنيزوں ، بے وقوف مردوں کو جو ان سے وابسطہ ہيں اور اورعورتوں کي طرف کو ئي رغبت نہ رکھتے ہوں، ياجو بچے جنسي امور سے اگاہي نہيں رکھتے ہيں،کے علاوہ کسي دوسرے کے لئے نماياں نہ کريں،اور (اے پيغبر ا?پ صاحبان ايمان عورتوں سے کہہ ديجيے کہ( راستہ چلتے وقت اپنے اپنے قدموں کو زمين پر اس طرح رکھيں کہ ان کي مخفي زينت ظاہر نہ ہو پائے (يعني پيروں کي پائل کي ا?واز لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچنے پائے )، اے مومنوں سب کے سب اللہ کي طرف پلٹ ا?ؤ، تاکہ نجات پا جاؤ?
دوسري ا?يت :يا ايھا النبي قل لازواجک و بناتک و نساء امومنين يدنين عليھن من جلابيبھن ذلک ادني ان يعرفن فلا  يوذين و اکان اللہ غفورا رحيما (?) (?) ?
اے پيغمبر اپني زوجات ، بيٹيوں اور مومن عوتوں سے کہ کہہ ديجيے کہ اپنے ڈوپٹے کواپنے اوپر ڈاليں، اور وہ اس کے ذريعے پہچاني جائيں، اورکسي کو اذيت نہ پہنچائيں يہ کام بہتر ہے،(اور اگر اب تک ان سے کوئي کوتاہي ہوئي ہو تو انہيں چاہيے کہ توبہ کريں ، اللہ بہت معاف کرنے والا اور مہربان ہے ?
ان دو ا?يتوں ميں پانچ قسم کے دستور پردے اور اس کي کيفتيت کے بارے ميں بيان ہوئے ہيں ?
??لا يبدين زينتھن الا ما ظہر منہا (اپني زينت کو سوائے اس کے جو ظاہر ہيں نماياں نہ کريں?)
?? وليضربن بخمرھن علي جيوبھن ?(اپنے ڈوپٹے يا چادر کو اپنے سينے پر ڈاليں،(تاکہ گردن اور سينہ اس کے ذريعے چھپ جائے) ?
??ولا يبدين زينتھن الا لبعولتھن او (اپني زينت کو اپنے شوہريا ???کے علاوہ دوسروں پر نماياں نہ کريں?)
?? ولا يضربن بارجلھن ليعلم ما يخفين من زينتھن (اپنے پيروں کو زمين پر اس طرح رکھيں کہ ان کي مخفي زينت ا?شکارنہ ہو جائے)
?? يدنين عليھن من جلابيبھن (اپنے ڈوپٹے کو اپنے اور پر ڈاليں?
يہ پانچ دستور وہ ہيں جو امر و نہي کے قالب ميں خدا وند عالم کي جانب سے براہ راست صادر ہوئے ہيں ، اور پردے کي ضرورت اور رعايت کے لئے اہل ايمان کے لئے ايک دليل کي حيثيت رکھتي ہے ،اوران کے لئے اتمام حجت ہے ?
 

پردے کي ضرورت پر عقلي دليل:

پردہ کي کيا ضرورت ہے ?

معاشرے کے ا?داب اور تقاليد جو معاشرے ميں اخلاقي دستور بناتے ہيں، ان کا پہلا فرض يہ ہے کہ مرد وعورت کے درميان ايک محکم اور متين رابطہ قاتم کريں ، تاکہ يہ ارتباط جھگڑے اور فساد کا سبب نہ بن جائےںجس کے نتيجہ ميں پستي سے دوچار ہونا پڑے ?اور اس رابطے کي تنظيم کے لئے بينادي عمل شادي کے سوا اور کچھ نہيں ہے ?
لاندر کا کہنا ہے کہ ياريبا قبيلہ ميں بوميان کے درميان عورت کو شادي کے ذريعے اپنانا ايک ايسا امر ہے کہ جس کي طرف لوگوں کي رغبت بہت کم ہے، گويا عورت کا حصول ان کے نزديک ايک گندم کا خوشہ توڑنے کے مانند ہے، يعني عشق ومحبت کا تصور ان کے يہاں سرے سے نابود ہے ? اس لئے کہ شادي سے پہلے جنسي روابط ان کے درميان ممنوع عمل نہيں ہے ،اس لئے مرد کے سامنے جنسي شہوت کے حصول ميں کوئي رکاوٹ نہيں ہے، جس کے نتيجے ميں اس کے دل ميں عشق و محبت پيدا نہيں ہو پاتي کہ جس کے سبب اس کے يہاںعورت کے حصول ميں شدت کے ساتھ قلبي ميلان پيدہو سکے، چنانچہ جوان جب بھي چاہتا ہے اپني جنسي خواہش کو ا?ساني سے پورا کر ليتا ہے ?لہذا کوئي علت يا سبب ايسا پيدا نہيں ہو پاتاہے جس کے سبب وہ اپنے ضمير يا احساسات ميں پيدا ہونے والي تحريک کے بارے ميں غور و فکر کرے ، اس تحريک کو خاموش کرنے کي فکر کرے ،اور اپنے اس پسنديدہ ميلان کو عظيم تصور کرے ، تاکہ اس ميلان اور تحريک کے نتيجے ميں ايک دل کش عشق وجود ميں ا?ئے ?لہذا وہ کہتا ہے کہ اس معاشرے ميں عورت و مرد ايک دوسرے سے کوئي رغبت نہيں رکھتے ، اورايک دوسرے کي حالت کي طرف متوجہ نہيں ہوتے ?يہي وجہ ہے کہ شوہر و بيوي کے در ميان بھي کسي قسم کے ا?ثار محبت ديکھنے ميں نہيں ا?تے ہيں ?
پردہ لڑکي کے لئے ايک قسم کاايسا وسيلہ ہے کہ جس کے ذريعے وہ اپني طرف مرغوب ہونے والے افراد ميں کسي ايک بہتر شخص کا انتخاب کر سکتي ہے، اوراپني طرف مرغوب ہونے والي فرد کو اس بات پر مجبور کرسکتي ہے کہ کہ وہ تھذيب اور سليقے کے ساتھ اس کا حصول کرے ?عورتوں کي شرم و حيا اور عفت کا مردوں کي شہوت کے مقابلہ ميں مانع ہونا،شاعرانہ عشق اور محبت کا سبب بنتا ہے اور عورت کي قدر و قيمت کو مردوں کي نگاہ ميں مزيد گراں بنا ديتا ہے ? اور بکارت کو اہميت دينے والے نظام کي پيروي سے ، ؟؟؟؟وہ ا?ساني اور اطمئنان جو شادي سے پہلے جنسي خواہش کي ا?رزوميں پايا جاتا تھا ،اوروقت سے پہلے ماں بن جانے والے امور کو ختم کر ديتا ہے ? اور ظاہر ہے بکارت کے بارے ميں اس طرح کي فکر جسماني اور عقلي اعتبار سے اور مزيد طاقتور بنا ديتي ہے ، جواني اور تربيت کے دور ميں ؟
جنسي روابط کو نظم و ضبط دينا ہميشہ اخلاق کے مہمترين فرائض ميں شمار ہوتاہے ?اس لئے کہ بچہ پيدا کرنے کا غريزہ تنھا شادي کے موقع ہي پر ہي مشکل پيدا نہيں کرتابلکہ شادي سے پہلے اور اس کے بعد بھي مشکلات کا سبب بنتا ہے ?اس کے نتيجے ميں ميں اس غريزے ميں شدت اورقانون کي نافرماني اور طبيعي راستے سے انحراف ، معاشرے ميں بچے پيدا کرنے نظام ميں بد نظمي اور اور سرکشي کا سبب بنتا ہے ?جبکہ جنسي زندگي جانوروں کے درميان بھي ا?زاد اور بے لگام نہيں ہے، اس لئے کئے مادہ جانور بھي ايک معين وقت کے علاوہ کسي نر جانور کو قبول نہيں کرتا ہے ?
انساني معاشرہ اپني تاريخ ميںہر قسم کے پردے يا برہنگي اور جنسي روابط کو ايک قانون کي حيثيت سے تجربہ کر چکا ہے ?اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائي معاشرے ميں پردے کا وجود عشق کے مفہوم پر مبني تھا ، اس بيان کے ساتھ کہ جب بھي ميں کسي سے وابسطہ ہوتا ہوں اور اس سے محبت کرتا ہوں ، تو يہ احساس مجھ ميں پيدا ہو جاتا ہے کہ وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئي دوسرا ميرے عشق ميں تصرف کا حق نہيں رکھتا، اگر کوئي دوسرا ميرے عشق پر نظر ڈالے تو وہ ميري نفرت کا شکار ہوجاتا ہے ? دوسري جانب ميرا اس سے عشق کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ميں اس کي حمايت کروں،تاکہ دوسرا اس کي طرف نہ ا?سکے ،اور سب اس بات کو سمجھ ليں کہ ہم دونوں ايک دوسرے کے لئے ہيں ?يہ وہ احساس ہے جو ميرے عشق کے درميان انے والے افراد کے ساتھ سخت برتاؤ پر مجبور کرتا ہے، اور يہ احساس تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے لوگ ان دوعاشقوں کے رابطے کو رسمي سمجھيں ، اور اس کي حدوں کي رعايت کريں ،اور اسي مقام سے شادي کے مسئلے نے اپني شکل اخيتار کي اور رسميت حاصل کي،اس طرح ہر فرد اور معاشرہ، جنسي کميونزم اورمرد و عورت کے غير قانوني روابط سے الگ ہو جاتاہے ?اور اس طرح عشق کا خوبصورت مفہوم جو دو عاشقوں کے درميان مشاہدے ميں ا?تا ہے ،شادي کے مفہوم کومزيد حسين اورپسنديدہ بنا ديا ?
اس بحث کے تسلل ميں ،جس وقت کوئي شخص يہ ديکھتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے پہلے کسي دوسرے کے ساتھ وابسطہ تھا ،تو اس کے يہاں دلشکني اور تردد کي کيفيت پيدا ہو جاتي ہے، اورمحبوب کا سابق رابطہ عشق اور خلوص ميں کمي کا سبب بن جاتا ہے ، اور يہ امر اس نئے عشق پر اثرانداز ہوتا ہے،اور انسان اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جو عشق ماضي ميں کسي سے وابسطہ نہيں ہوتا ہے وہي زيادہ خوبصورت اور دل ا?ويز ہوتا ہے ?لہذاس قسم کي عورتيں جب اپنے عشق کو خلوص سے خالي ديکھتي ہيں تو بکارت کے تصور کو اپني ہم جنس عورتوں کے درميان رائج کرتي ہيں تاکہ وہ اپنے شوہروں سے عشق کرنے سے پہلے اپنے جسم کو کسي دوسرے کے حوالے نہ کريں، اور يہ کام ان کو اپنے عشق کے سامنے حقير اور رسوا نہ کر سکے ?
اس طرح کي سازگاري کنوارے پن کے مفہوم کو گراں قدراوربے بہا بنا تي ہے،اس لئے کہ عشق اور شادي کي حسين صورت بھي کنوارپن تک سرايت کرتي ہے،اس راہ ميں اگر کوئي لڑکي خالص عشق کے حصول کي خاطر باکرہ رہنا چاہے تو دوسروں کي نگاہوں سے اپنے ا?پ کو محفوظ نہيں کرسکتي، اور سخت حالات کا سامنا کرتي ہے،لہذا سوائے اپنے ا?پ کو پردے ميں چھپانے کے اس کے پاس کوئي راستہ نہيں ہے،لہذا اپني باطني خوبصورتي اور اپنے کلام کي دلفريبي کو پردے ميں رکھے تاکہ غيروں کي اس تک رسائي نہ ہونے پائے ?اس طرح پردہ معاشرے ميں اپنا وجود پيدا کرتا ہے، عشق ، شادي اور کنوارے پن کے حسن کا مالک بن جاتا ہے، اور کنوارے پن ،شادي اور خالص عشق کے حصول کے لئے ايک صدف کي مانند ہو جاتا ہے ?
اس طرح پاکيزہ عشق معاشرے ميں عورت و مرد کے رابطہ کو محکم بناتا ہے اور اصول و قوانين پر اس کي بنياديں رکھتا ہے جس کو ہر عقل سليم دوسرے تمام طريقوں پر فوقيت ديتي ہے،يا د رہے اس قسم کا عشق ہميشہ تھذيب و تمدن کي ترقي کا ثمرہ ہوتا ہے، جہاں انساني شہوت کو اطمئنان بخشنے کے لئے اخلاقي تعليمات کے مطابق کچھ حديں بنائيں جاتي ہيں ?

 

پردے کي مخالفت ميں ايک منطقي نتيجہ

 

پردے کا انکار در حقيقت شہواني قوت کا ا?زاد کرنا، يااس کو وسعت دينا ، يا برانگيختہ کرنا يا اس کے بے لگام ہونے پر راضي ہوجانايا اس کوتمام حالات ميں محبوس کرناہے ، جواس کو باغي و سرکش بنا ديتا ہے،اور نتيجہ ميں انسان عقل کے حوالے سے ناتوان ہو جاتا ہے ، اور وہ کمال تک پہنچنے سے معذور ہو جاتا ہے ?
وہ خاتون جو خود کو زينت دے کر سڑک پر ا?تي ہے اور اپنے پوشيدہ حسن کے جلوے دکھاتي ہے، اس کو يہ بات ياد رکھنا چاہيے کہ اس کا يہ عمل مردوں کے لئے تحريک کا سبب بنتاہے، اور کسي کي شہوت کو برانگيختہ کرنا اس کے حق کا تجاوز کرناہے، کسي کي شہوت کو تحريک کرنے کا حق صرف اس کو ہوتا ہے جو اس کي شہوت کو پورا کرسکے ?
ا?پ فرض کريں کہ ايک خاتون جو دس يا سو ا?دميوں کي شہوت کو اپنے چہرے يا کسي پوشيدہ عضو کے ظاہر کرنے يا بالوں کے ذريعے برانگيختہ کرے ، يعني اس نے اپنے بناؤ سنگار کے ذريعے ان کے وجود ميں ہوس پيدا کي ہو ، اور اپني طرف راغب کيا ہو (جبکہ يہ کيفيت مردوں ميں فطري طور پر پائي جاتي ہے ،کہ اگر وہ کسي ہيجان ا?ور منظر کو ديکھتے ہيں تو يہ نا ممکن ہے کہ وہ اپنے ا?پ کو ہيجان سے بچا ليں ليکن عورت اپنے ا?پ کو چھپا سکتي ہے)، لہذا يہاں دو ہي صورتيں ہيںيايہ بے پردہ عورتيں ان سب کي شہوت کو پورا کريں، اور يہ کام ان تمام عورتوں سے کہ جو بے پردہ باہر نکلتي ہيں بعيد ہے (خاص عورتوں کي بات يہاں نہيں ہيں جن کا يہ ہي پيشہ ہے)اس لئے کہ گفتگو ان خواتين کي ہے جو خانداني اور عزت دارہيں، جن ميں بہت سي متدين بھي ہوتي ہيںاور ممکن ہے اہل نماز اور اہل خدا بھي ہوں ? اگر يہ عورتيں ان کي شہوتوں کو پورا نہيں کر سکتي تو پھر ان کو کوئي حق نہيں پہنچتا کہ وہ کسي کو ہيجان ميں لائيں اور دوسرے کي حريم پر تجاوز کريں ?اس لئے کہ يہ مردوں کا حق ہے ان سے نہيں کہا جا سکتا تم آنکھيں بند کرکے راستہ چلو ، ليکن عورتوں سے يہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے حسن کا مظاہرہ يا اپني زينت کو عياںنہ کريں ?
بے پردہ معاشرے ميں عورتوں کي مشکلات
مغرب کا مشہور جامعہ شناس” ا?نتوني گيدنز “ معاشرے ميں رہنے والي خواتين کي مشکلات کوبے پردگي کي علت شمار کرتا ہے ، ہم اس مقام پر بعض نکات کي طرف اشارہ کريں گے ?
اس معاشرے ميں عورتوں کي واضح ترين تکليف جنسي تکليف ہے ?جنسي تکليف جو کام کرنے کي جگہ اقتدار يا قدرت کے استعمال سے عورت پر تحميل کي جاتي ہے ، ممکن ہے يہ مشکل اس وقت مزيد سخت ہو جائے جب کسي کام کرنے والي عورت سے يہ کہا جائے کہ يا جنسي عمل پر راضي ہو جائے يا کام چھوڑدے ?اگر چہ ممکن ہے مردنرمي کے ساتھ واقع ہونے والي جنسي مشکل کو نقصان دہ شمار نہ کريں ? ليکن غالباتمام عورتيں اس کو ذلت و رسوائي سمجھتي ہيں،اورعام طور پر عورتوں سے اميد کي جاتي ہے کہ جنسي گفتگو يا اشارے يا نامطلوب قربت کو برداشت کرے اور اس کو کوئي اہميت نہ ديں ?
ظاہر ہے کہ مرد کاشرعي طريقے سے عورت کا حاصل کرنا اور اس سے قربت کرنا، غير شرعي طريقے سے الگ ہے، اس کا ايک تصور کرنا ا?سان نہيں ہے؛ جيسا کہ شخصي رپورٹ کي بنيا د يہ نتيجہ ديکھنے ميں ا?يا ہے کہ انگلينڈ ميں ہردس عورتوں ميں سات عورتيں اپنے کام کي زندگي ميں جنسي مشکلات سے دوچار رہوتي ہيں، جبکہ عملي طور جنسي تجاوز کا صحيح اندازا لگانا بہت دشوار ہے ،اس لئے کہ بہت کم واقعات جنسي مشکلات کے پلس تک پہنچتے ہيں جنہيں درج کيا جاتا ہے، اور اصلي تعداد ممکن ہے اس رکورڈ کے پانچ برابر ہو ، بہر حال نتيجہ اندازے سے کہيں زيادہ ہوتا ہے ?
ايک تحقيق کے مطابق لندن ميں ???? عورتوں نے اس بات کو ا?شکا رکيا کہ ان ميں ہر چھ عورتوں ميں ايک عورت جنسي تجاوز کا شکار ہوئي ہے، اور باقي پانچ عورتوں ميں صرف ايک عورت اس بات پر قادر ہوئي کہ اس تجاوز کا مقابلہ کر سکے،اور تجاوز کے نصف حادثے يا عورت کے اپنے گھر ميں يا تجاوز کرنے والے کے گھر ميں پيش ا?ئے ہيں ? اکثر وہ عورتيں جو جنسي تجاوز کا شکار ہوتي ہيں چاہتي ہيں کہ اس حادثہ کو اپنے ذہن سے نکال ديں ، يا اس کي شکايت کرےںکہ جہاں ايک ذلت ا?ميز طبي معاينہ اور پليس کي تحقيقات اور کورٹ جانے وغيرہ کي مشکلات سے دوچار ہونا ہوگا، جس کي اس ميں اب سکت نہيں ہوتي ہے ، اور ساتھ ساتھ کورٹ کے معاملاات غالبا بہت زيادہ وقت ليتے ہيں ممکن ہے کہ کورٹ، حادثے کے ?? مہينے کے بعد کوئي فيصلہ سنائے ، اور فيصلہ ممکن ہے پريشان کن ثابت ہو جائے، اور کورٹ کے واقعات ہميشہ علني ہوتے ہيں،کو رٹ ميں مظلوم ظالم کے رو برو ہوتا ہے ،( جو خود ايک وحشت ناک منظر ہوتا ہے) اور اس کے علاوہ د عام طور پرمرد تنھا گواہي کي بنياد پر مجرم قرار نہيں ديے جاتے اس کے لئے دوسرے محکم ثبوت در کار ہوتے ہيں،يا دوسرے مدارک جو دخول کو ثابت کرتے ہوں، تجاوز کرنے والے کي شناخت ، اس کے علاوہ يہ کہ حادثہ عورت کي مرضي کے بغير پيش ا?يا ہے ،ان تمام ثبوت کا فراہم کرنا ضروري ہوتا ہے ?
ا?خري چند سالوں ميں عورتوں کي تحريک نے جنسي تجاوز کے بارے ميںاس عمومي اور قانوني فکر کو بدلنے کے بارے ميں بہت اصرار کيا ہے،اور انہوں نے تاکيد کي ہے کہ جنسي تجاوز کو تنھا جنسي مخالفت کا عنوان نہ ديا جائے ، بلکہ ايک درد ناک تباہ کاري کا نام ديا جائے اس لئے کہ جنسي تجاوز صرف ايک فيزيکي حملہ نہيں ہے بلکہ تمام انسانوں کي عظمت اورعزت پر حملہ کرناہے ? يہ ہي وجہ ہے ا?ج عام طور پر جنسي تجاوزايک قسم کي تباہ کاري جاني جاتي ہے ?
براون ميلر کي نگاہ ميں ايک عنوان سے تمام عورتيں جنسي مشکلات سے دوچار ہيں، اس لئے کہ اس طرح کے معاشرے ميں وہ عورتيں جو جنسي تجاوز کا شکار نہيں ہيں وہ ان عورتوں کي طرح جو اس مشکل سے دوچار ہوئي ہيں(اس کے خوف و وحشت سے ) مضطرب رہتي ہيں،يہ عورتيں ممکن ہے رات ميں اکيلي باہر چلي جائيں ،سڑکوں پر گھومتي ہوئي نظر ا?ئيں ، يا کسي گھر يا فليٹ ميں اکيلي رہتي ہوں،ليکن ممکن ہے کہ انہيں عورتوں کي طرح تنھائي سے وحشت زدہ رہتي ہوں ?
سوزان براون ميلر کا کہنا ہے کہ مردوںکا عام طور سے ان کي خواہشات کے علاوہ ان کا جنسي تجاوز کرنا ايک مردانہ چيلنج ہے جس سے تمام عورتيں خائف رہتي ہيں، جو عورتيں تجاوز جنسي کا شکار نہيں ہوئي ہيں ، وہ ايک بے چيني اور اضطراب کا شکار رہتي ہيں ، ان کو چاہيے کہ اس طرح کي زندگي ميں مردوں سے زيادہ محتاط رہيں ?
مندرجہ ذيل ايک فہرست ذکر کي جا رہي ہے جس ميں ضروري اور غير ضروري باتيں جنسي تجاوز کے خطرے سے بچنے کے لئے ذکر کي گئي ہيں،يہ فہرست امريکا ميں عورتوں کي ايک انجمن کے ذريعے نشر کي گئي ہے ، يہ فہرست اس بات کي تاکيد کرتي ہے کہ جنسي تجاوز ايک ايسا جرم ہے جو تمام عورتوں کي زندگي پر اثرانداز ہوتاہے ?
?? اپنے گھر کو جتنا ممکن ہو محفوظ کيا جائے ?
??اگر گھر ميں اکيلي رہتي ہوں تو گھر کي لائٹوں کو جلا رہنے ديں تاکہ دوسرے کو يہ محسوس ہو کہ گھر ميں ايک سے زيادہ افراد رہتے ہيں ?
?? جس وقت گھر کي گھنٹي پر جواب دو تو ايسا ظاہر کريں کہ گھر ميں کوئي مرد موجود ہے ?
??اپنا نام دروازے پر يا ٹلفون بل پر نہ لکھيں ?
?? اگر کسي ايک اپارٹمينٹ ميں رہتي ہوں تو اکيلے تہ خانے ، پارکنگ ، يا کپڑے دھونے والے روم ميں نہ جائيں يا وہاں اکيلے نہ رکيں ?
اس ميں اس مقام پر تجاوز جنسي سے محفوظ رہنے کے لئے ?? نکات ذکر کئے گئے ہيں ?
ليکن جو نکتہ ان نکات ميں فراموش کرديا گيا ہے جس کي رعايت سے معاشرے کے بہت سے مفاسد اور برائيوں کو نابود کيا جا سکتا ہے اور عورتوں کے لئے معاشرے ميں امن کا سامان فراہم کرسکتا ہے وہ پردے کي رعايت کرنا ہے ?افسوس کا مقام يہ ہے کہ پردے کے حوالے سے تنھا لا پرواہي سے کام نہيں ليا گيا ، بلکہ بہت سے حکمرانوں اور سياست مداروںشيطاني سياست کے ذريعے اس کے مقابلہ ميں محاذ قائم کيااورانہوں نے پردے کو معاشرے سے بالکل ختم کرنے کے لئے قدم اٹھائے ہيں ?
ہم سمجھتے ہيں کہ ازمائے ہوئے کو ازمانا ايک غلطي ہے،اگر ا?پ اس تيز رفتار معاشرے اور اس ميں پائي جاني والي مشکلات جو ايک دوسرے کے دست و گريباں ہيں جن کا ذکر ہم نے کيا ہے ، اس سے کہيں زيادہ ہيں،کا مطالعہ کريں تو ايک ہي بات سمجھ ميں ا?تي ہے ،کہ کم از کم ہم پردے کے مسئلے کو اس معاشرے کے لئے ايک نمونہ قرار ديں، اور معاشرے ميں اس کا اجراء کريں، تاکہ اس کے وجود کا ہر درخت ثمرا?ور ثابت ہو سکے، اور معاشرے ميں پردے کے ذريعے امن کي فضا قائم ہو سکے ?
 

بہتر ين روش کا تسلط


بہت کم افراد ايسے ہيں جو قوي ارادے اور ايمان کے مالک ہيں اور ہر قيمت پر قانون شريعت کے ملتزم رہتے ہيں، معاشرے کي فضا ان پر اثر انداز نہيں ہوتي ، اور ان کے مقابلے ميں کچھ لوگ لاپرواہي کے شکار ہيںاور قانون و شريعت سے سرکشي ان کي عادت ميں شامل ہے، اور ان دو قسم کے درميان اکثر لوگ موجودہ حالات يا وضع کے تابع ہيں، ہميشہ يہ کہتے ہيں : ہم کيا کريں سبھي اس طرح ہيں..يہ ہي سب کا طريقہ ہے..سب جگہ يہ ہي بيچا جاتا ہے..ہم بھي ان کي طرح مصيبت ميں پھنس جائيں گے ?
اس موقع پر ظاہر ہے، ہر معاشرے کے سربراہ ، مربي اور قانون گر افراد کا يہ فريضہ ہے کہ معاشرے ميں اس طرح کا ماحول پيدا کريں کہ عام طور پر معاشرے کي فضا پہلے گروہ کي طرف رغبت اور ميلان پيدا کرسکے ،اور نتيجے ميں قانون اورصحيح راستے کي فرماں بردار ہو جائے، اور دوسري قسم کے لوگ اپنے طريقے پر پر شرمندگي اورخفت محسوس کريں ?
سوال يہ ہے کہ موجودہ روش کي تشکيل دوسري قسم کے افراد ہي کيوںانجام ديتے ہيں، جبکہ قانون اور شريعت کے مدافع پہلي قسم کے افراد ہيں؟ کيوں ايک مسلمان عورت کي بيٹي دوسرے کے سامنے اپني ماں کے پردہ کرنے پر شرمندگي محسوس کرتي ہے؟کيوں معاشرے کے اکثر افراد بعض افراد کے رنگ ميں رنگے جاتے ہيں،اور رفتہ رفتہ بعض افراد کي گندگي اور کجروي ايک روش بن جاتي ہے؟اقليت کون سے حق کي بنياد پر قانون اور شريعت کي مخالفت کرتي ہے؟
يہ بات مسلم ہے کہ معاشرے کي تمام روش اجراء کي ذمہ داري کے (چاہے حسب بط ہو يا حسب ضابط نہ ہو )ساتھ بعض افراد کي غلط روش کے مقابلے ميں مدد گار ثابت ہوتي ہيں ?اب جبکہ پردا اسلامي قوانين کي بنياد پرايک اسلامي قانون کي حيثيت رکھتا ہے ،لہذا ايک بہترين روش کي حيثيت سے جانا جائے گا ?”اورا?ج مسلمان عورت ايک نمونے کے طور پوري دنيا ميں پہچاني جاچکي ہے ?لہذا صاحبان فکر ااور معاشرے کے دانشور افراد کو چاہيے کہ کام کرنے کے طريقے اور اس کے اجراء کي مثبت ضمانت ( صحيح راستے پر چلنے والوں کي جزاء) اور منفي ضمانت (اور منحرف افراد کي سزا )کے بارے ميں علمي طور پر اس کي تحقيق کرکے اس کو مرتب کريں،اور معاشرے کے ثقافتي اور قانوني امور کے ذمہ دار افراد کو چاہيے کہ ان امور کا خيال رکھيں اور خود کو اس کا ملتزم بنائيں ? غير رسمي اجرائي ضمانت کي تريج معاشرے کے ثقافتي مراکزجيسے ميڈيا، ٹيلي ويزن، يا اس کے ڈرامے، کلچرل سينٹر کے سپر کئے جائيں اور رسمي اجرائي ضمانت کي ترويج اخلاقي امنيت کي ذمہ دار پلس کے حوالے کي جاسکتي ہے ?
ان تمام باتوں کا نتيجہ يہ نکلتا ہے ، کہ پردے کو اگر ايک عقلي يا ايماني امر تصور کيا جائے تو اس ميں زبردستي يا جبر کا تصور نہيں کيا جا سکتا ،اور اگر اس کو ايک قانون کي حيثيت سے ديکھا جائے تو زبردستي يا جبرکا پايا جانا قانون کے حوالے سے ہوگا، جس کے لازم يا ضروري ہونے ميں کوئي شک نہيں پايا جاتا ?



حوالہ جات
?? ظاہر کہ مخالف کے لئے دونوںنظريے ” فکر “ اور ”ايمان“کے راستے کھلے ہوئے ہيں ان ميں سے جس کا چاہے انتخاب کر ے اور صحيح نظريہ کو پيش کر سکتاہے ?
?? النور ا?يت ???
?? ” ابدا“ اظہا کے معني ميں ? اور عورتوں کي زينت سے مراد وہ اعضاء ہيں جن کو زينت دي جاتي ہے ?اور لفظ ” خمر“ او ر اس کي جمع خمار ہے، اور ”خمار“ وہ کپڑا ہے جسے عورت اپنے سر پر لپيٹتي ہے، اور بچے ہوئے کو اپنے سينے پر ڈالتي ہے ، جسے مقنعہ بھي کہا جاتا ہے ?
اور ا?يت ميں لفظ ”جيوب“ جيب کي جمع ہے جس کے معني سينے کے ہيں ،اور گريبان کے ہيں ?
لفظ ”بعولہ“ يعني شوہر ? اور سات طوايف سے مراد وہ ہيں جو سببي يا نسبي طور پر محرم ہوتے ہيں ?
لفظ ” اربہ“ خواہش کے معني ميں ہے اور اس سے مراد شہواني خواہش ہے ?
اور رجال تابعين سے مراد بے وقوف افراد ہيں کہ جو دوسروں کے زير تسلط ہيں اور ان ميں شہوت مردانہ نہيں پائي جاتي ?
?? احزاب ا?يت ???
??” جلابيب “ جلباب کي جمع ہے اور اسے مراد وہ لباس ہے جو سر سے پير تک پورے بدن کو چھپا سکے ؛ جو عباء سے چھوٹا اور خمار سے بڑا ہوتا ہے ?
” يدنين“ يعني ا?گے کھينچتے ہيں ?
?? ان ا?يا ت کي مزيد توضيح کے لئے ا?پ ان کي تفسير اور ان روايات کي طرف جو ان کے ذيل ميں وارد ہوئي ہيں مراجعہ کر سکتے ہيں ?يہ بات قابل ذکر ہے کہ پردے کے سلسلے ميں مندرجہ بالا ا?يات کے علاوہ اور بھي بہت سي ا?يات ہيں جو پردے کے ضروري ہونے پر دلالت کرتي ہيں ?( جيسے سورہ نورکي ايت ?? ، سورہ احزاب ايت ?? )? اور بہت سي مستقل کتابيں پردے کے بارے ميں لکھي گئي ہيں ان کي طرف مراجعہ کيا جا سکتا ہے ?
?? تاريخ تمدن جلد ? صفحہ ?? ?
?? تاريخ تمدن جلد ? صفحہ ???
?? اس جملہ سے خاندانوں کي شديد تباہکاري ، اور شاد ي کي مشترک زندگي ، طلاق کي کثرت ، اور عشق کا رومانس ، اور ايک دوسرے کے ساتھ معاہدے، نا جائز جنسي روابط ، اور افسوس ناک جنسي فساد .... کي طرف اشارہ کيا گيا ہے؛ کہ ان تمام فساد کا سرچشمہ بے پردگي کا مسئلہ ہے ? اور شرم و حيا کا فقدان ، معاشرے کے افراد کے درميان عفت کا نابود ہونا ان تمام مسائل کو معمولي توجہ (يعني پردے کي رعايت ) کے ذريعے روکا جا سکتا ہے ?
??? رسمي طور پر اجراء کي ضمانت، حکومت کي ذمہ ہوتي ہے، جيسے معاشرے ميں سزا کا نظام وغيرہ کہ جہاں کورٹ اور زندان حکومت کي نمايندگي کرتے ہيں ?
اور غيررسمي اجراء کي ذمہ داري زيادہ ترشہر کے باشندوں يا حکومت کے اداروں اور ثقافتي يا خدماتي مراکز کے ذمہ ہوتي ہے، جيسے عام طريقے سے تشويق دلانا يا معاشرے کے خاص امتيازات، يا کسي کام ميںسہولت يا اولويت دينا ، يا کسي کام پر راضي ہونا ، يا کسي کام پر سر زنش کرنا ، يا بعض افراد سے دور رکھنا ، يا معاشرے ميں کسي چيز سے محروم رکھنا ، يا کسي چيز سے مذاق بننا ، يا شرمندہ ہونا ، ياکسي خاص چيز ميں قبول نہ ہونا ،يا ..وغيرہ
پایگاه اطلاع رسانی دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
سامانه پاسخگویی برخط(آنلاین) به سوالات شرعی و اعتقادی مقلدان حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
تارنمای پاسخگویی به احکام شرعی و مسائل فقهی
انتشارات امام علی علیه السلام
موسسه دارالإعلام لمدرسة اهل البیت (علیهم السلام)
خبرگزاری دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی

قال الرضا عليه السلام :

«ان يوم الحسين اقرح جفوننا و اسبل دموعنا و اذل عزيزنا بارض کرب و بلاء و اورثناءالکرب و البلاء الي يوم الانقضاء»

بحارالانوار، ج 44، ص 284